پرنٹنگ کارپوریشن کا ٹیکس وصولی کیلیے اسٹمپ چھاپنے سے انکار ایف بی آرپیپرا سے رجوع کریگا
سگریٹ ومشروبات سمیت5شعبوں سے ایف ای ڈی وصولی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اسٹمپ پرنٹ کرائے جانے ہیں
ٹریک اینڈٹریس سسٹم تیار،رواں ماہ ٹینڈرجاری کیاجانا تھا،معاملہ حل ہونے پر جنوری سے اطلاق کا امکان ہے،ذرائع فوٹو: فائل
KARACHI:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مشروبات، سگریٹ سمیت 5 شعبوں پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصولی کے لیے خصوصی اسٹمپ کی پرنٹنگ کے معاملے پر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ 5 شعبوں کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کیا گیا ہے اور اس سسٹم کے نفاذ کیلیے اسٹمپ کی پرنٹنگ کا ٹھیکہ دینے کے لیے بڈنگ ڈاکیومنٹ بھی تیارکیا جاچکا ہے اور رواں ماہ ٹینڈر جاری کرنا ہے مگر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان (پی ایس پی سی) نے مشروبات، سگریٹ سمیت 5 شعبوں پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصولی کے لیے خصوصی اسٹمپ کی پرنٹنگ کے لیے مسابقتی بڈنگ کی مخالفت کردی ہے جس کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سگریٹ سیکٹر سے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی یقینی بنانے کیلیے سگریٹ پرعائد ٹیکس وصولی کے لیے خصوصی اسٹمپ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کے لیے وفاقی حکومت مجاز اتھارٹی ایف بی آر کے ذریعے سگریٹ پیکٹس کے لیے اسٹمپ کی پرنٹنگ کے حوالے سے مسابقتی بڈنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے مگر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے اس کی مخالفت کردی ہے اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ بینک نوٹ، اشٹامپ پیپرز سمیت دیگر حساس اور سرکاری دستاویزات و اسٹمپ کی پرنٹنگ کے لیے پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن مجاز ادارہ ہے اور جو بھی سرکاری دستاویزات و اسٹمپ پرنٹ ہوتی ہیں وہ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی جانب سے پرنٹ کی جاتی ہیں لہٰذا سگریٹ پر ٹیکس وصولی کے لیے جو اسٹمپ پرنٹ کروائی جارہی ہے وہ بھی اہم سرکاری اسٹمپ ہے لہٰذا اس کے لیے مسابقتی اوپن بڈنگ کی ضرورت نہیں ہے اور یہ اسٹمپ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن سے پرنٹ کروائی جائے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے ملنے والے لیٹر کے بارے میں اب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پیپرا کی جانب سے جو ہدایات ملیں گی اس کے مطابق عملدرآمد کیا جائیگا اوراس حوالے سے پیپرا رولز پر عمل درآمد کیا جائیگا۔ پیپرا سے رجوع کرنے کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا عالمی بینک کے فنڈڈ اس منصوبے کے تحت اسٹمپ پرنٹ کروانے کا ٹھیکہ بغیر کسی مسابقتی بڈنگ کے براہ راست پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کو دیا جاسکتا ہے یا نہیں دیا جاسکتا ہے اور یہ کہ کیا اس کیلیے مسابقتی بڈنگ ضروری ہے۔ اگر پیپیرا اس کے لیے مسابقتی بڈنگ ضروری قرار دیتا ہے تو اس صورت میں مسابقتی بڈنگ کیلیے رواں ماہ ٹینڈر جاری کیے جائیں گے کیونکہ ایف بی آر مسابقتی بڈنگ کے ذریعے سب سے کم قیمت پر اسٹمپ پرنٹ کرنے کی پیشکش کرنیوالی اچھی ساکھ کی حامل کمپنی سے اسٹمپ پرنٹ کروانا چاہتا ہے اور پیپرا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ حل ہوجاتا ہے تو اس صورت میں جنوری 2017 سے مشروبات اور سگریٹ سیکٹر پر اسٹمپ شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سیمنٹ، مشروبات اورسگریٹ سمیت 5 شعبوں پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چوری روکنے کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کروایا جائیگا, جس کیلیے ایف بی آر نے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم تیارکرلیا ہے اور پہلے مرحلے میں یہ مشروبات اورسگریٹ سیکٹر پرلاگو کیا جائیگا اس کے بعد اس سسٹم کا اطلاق بتدریج سیمنٹ، شوگر اور فرٹیلائزر سیکٹر پرکیا جائیگا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے متعارف کروائے جانیوالے اس ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی لاگت مینوفیکچررز سے وصول کی جائے گی اور جو کمپنی یہ اسٹمپ تیار کریگی وہ مشروبات اور سگریٹ مینوفیکچررز کو سپلائی کرکے اس کی قیمت وصول کریگی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مشروبات، سگریٹ سمیت 5 شعبوں پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصولی کے لیے خصوصی اسٹمپ کی پرنٹنگ کے معاملے پر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ 5 شعبوں کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کیا گیا ہے اور اس سسٹم کے نفاذ کیلیے اسٹمپ کی پرنٹنگ کا ٹھیکہ دینے کے لیے بڈنگ ڈاکیومنٹ بھی تیارکیا جاچکا ہے اور رواں ماہ ٹینڈر جاری کرنا ہے مگر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان (پی ایس پی سی) نے مشروبات، سگریٹ سمیت 5 شعبوں پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصولی کے لیے خصوصی اسٹمپ کی پرنٹنگ کے لیے مسابقتی بڈنگ کی مخالفت کردی ہے جس کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سگریٹ سیکٹر سے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی یقینی بنانے کیلیے سگریٹ پرعائد ٹیکس وصولی کے لیے خصوصی اسٹمپ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کے لیے وفاقی حکومت مجاز اتھارٹی ایف بی آر کے ذریعے سگریٹ پیکٹس کے لیے اسٹمپ کی پرنٹنگ کے حوالے سے مسابقتی بڈنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے مگر پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے اس کی مخالفت کردی ہے اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ بینک نوٹ، اشٹامپ پیپرز سمیت دیگر حساس اور سرکاری دستاویزات و اسٹمپ کی پرنٹنگ کے لیے پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن مجاز ادارہ ہے اور جو بھی سرکاری دستاویزات و اسٹمپ پرنٹ ہوتی ہیں وہ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی جانب سے پرنٹ کی جاتی ہیں لہٰذا سگریٹ پر ٹیکس وصولی کے لیے جو اسٹمپ پرنٹ کروائی جارہی ہے وہ بھی اہم سرکاری اسٹمپ ہے لہٰذا اس کے لیے مسابقتی اوپن بڈنگ کی ضرورت نہیں ہے اور یہ اسٹمپ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن سے پرنٹ کروائی جائے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے ملنے والے لیٹر کے بارے میں اب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پیپرا کی جانب سے جو ہدایات ملیں گی اس کے مطابق عملدرآمد کیا جائیگا اوراس حوالے سے پیپرا رولز پر عمل درآمد کیا جائیگا۔ پیپرا سے رجوع کرنے کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا عالمی بینک کے فنڈڈ اس منصوبے کے تحت اسٹمپ پرنٹ کروانے کا ٹھیکہ بغیر کسی مسابقتی بڈنگ کے براہ راست پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کو دیا جاسکتا ہے یا نہیں دیا جاسکتا ہے اور یہ کہ کیا اس کیلیے مسابقتی بڈنگ ضروری ہے۔ اگر پیپیرا اس کے لیے مسابقتی بڈنگ ضروری قرار دیتا ہے تو اس صورت میں مسابقتی بڈنگ کیلیے رواں ماہ ٹینڈر جاری کیے جائیں گے کیونکہ ایف بی آر مسابقتی بڈنگ کے ذریعے سب سے کم قیمت پر اسٹمپ پرنٹ کرنے کی پیشکش کرنیوالی اچھی ساکھ کی حامل کمپنی سے اسٹمپ پرنٹ کروانا چاہتا ہے اور پیپرا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ حل ہوجاتا ہے تو اس صورت میں جنوری 2017 سے مشروبات اور سگریٹ سیکٹر پر اسٹمپ شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سیمنٹ، مشروبات اورسگریٹ سمیت 5 شعبوں پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چوری روکنے کیلیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کروایا جائیگا, جس کیلیے ایف بی آر نے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم تیارکرلیا ہے اور پہلے مرحلے میں یہ مشروبات اورسگریٹ سیکٹر پرلاگو کیا جائیگا اس کے بعد اس سسٹم کا اطلاق بتدریج سیمنٹ، شوگر اور فرٹیلائزر سیکٹر پرکیا جائیگا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے متعارف کروائے جانیوالے اس ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی لاگت مینوفیکچررز سے وصول کی جائے گی اور جو کمپنی یہ اسٹمپ تیار کریگی وہ مشروبات اور سگریٹ مینوفیکچررز کو سپلائی کرکے اس کی قیمت وصول کریگی۔