افغانستان امن کی پکار
افغانستان میں ’’امن‘‘ عارضی ثابت ہورہا ہے اورملک ایک بار پھرخانہ جنگی کا شکار ہوتا نظرآرہا ہے۔
افغانستان میں ’’امن‘‘ عارضی ثابت ہورہا ہے اورملک ایک بار پھرخانہ جنگی کا شکار ہوتا نظرآرہا ہے۔ فوٹو: فائل
افغانستان میں ''امن'' عارضی ثابت ہورہا ہے اورملک ایک بار پھرخانہ جنگی کا شکار ہوتا نظرآرہا ہے۔ طالبان متحرک ہیں اور انھوں نے ایک برس بعد قندوزشہر پردوبارہ حملہ کرکے کئی اہم چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان کمانڈوز شہر میں طالبان سے شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔
شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں جب کہ اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے، یہ وہ خبریں ہیں جو اخبارات میں شایع ہوئی ہیں۔ افغانستان کی صورتحال الارمنگ ہے، نیٹو افواج کی موجودگی کے باوجود شورش کا ہونا یہ ظاہرکرتا ہے کہ افغانستان پر نیٹواورافغان فوج کی مکمل اتھارٹی موجود نہیں، بلکہ اس اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے عناصرموجود ہیں ،جن سے بات چیت ضروری ہے۔
چند دن قبل حزب اسلامی اورافغان حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا توکچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن قندوز میں لڑائی کے باعث عوام کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کے جان ومال کے تحفظ کا کسے بھی احساس نہیں، ہاتھیوں کی لڑائی میں گنے کے کھیت ہی برباد ہوتے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، حتیٰ کہ امریکا اوردیگر عالمی قوتیں جو انھیں آزادی دلانے کے لیے ایک دہائی قبل آئی تھیں وہ بھی ' عوامی آزادی' کے بجائے اپنے مقاصدکے حصول کے لیے کوشاں رہے اورعالمی سطح پر میڈیا کے ذریعے یہ تاثر ابھرا جاتا رہا کہ افغانستان تبدیل ہورہا ہے اور حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، لیکن حقیقی صورتحال اس کے برعکس رہی ۔طالبان کے اچانک حملے کی ٹائمنگ کودیکھیے افغان صدر یورپی یونین کے اہم شہر برسلز میں ہیں، ہمارے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز بھی وہیں ہیں جہاں وہ ملک کی معیشت اورانفرا سٹرکچر میں بہتری کے لیے عالمی رہنماؤں سے مالی امداد کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔
لامحالہ یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ حملہ بین الاقوامی ڈونرزکانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا ہے یا پھرطالبان دوبارہ قوت پکڑچکے ہیں؟ جواب جو بھی ہو، تلخ حقیقت یہ ہے، اس ساری صورتحال سے براہ راست جو ملک سب سے زیادہ متاثرہوا ہے ، ہورہا ہے اور ہوگا وہ ہے پاکستان ۔امریکا بہادرہم سے ''ڈو مور''کا مطالبہ کرتا رہا۔
پاکستان نے تو پائیدار امن کے لیے افغانستان حکومت اورطالبان کے درمیان صلح اورمذاکرات کے لیے باقاعدہ کوششیں کی لیکن امریکا نے طالبان کی قیادت پر ڈرون حملے کرکے انھیں سبوتاژکیا ۔اب بھی طالبان سے مذاکرات کے بغیر امن ممکن نہیں ہے اور اس اس معاملے میں پاکستان کے مفادات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں جب کہ اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے، یہ وہ خبریں ہیں جو اخبارات میں شایع ہوئی ہیں۔ افغانستان کی صورتحال الارمنگ ہے، نیٹو افواج کی موجودگی کے باوجود شورش کا ہونا یہ ظاہرکرتا ہے کہ افغانستان پر نیٹواورافغان فوج کی مکمل اتھارٹی موجود نہیں، بلکہ اس اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے عناصرموجود ہیں ،جن سے بات چیت ضروری ہے۔
چند دن قبل حزب اسلامی اورافغان حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا توکچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن قندوز میں لڑائی کے باعث عوام کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کے جان ومال کے تحفظ کا کسے بھی احساس نہیں، ہاتھیوں کی لڑائی میں گنے کے کھیت ہی برباد ہوتے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، حتیٰ کہ امریکا اوردیگر عالمی قوتیں جو انھیں آزادی دلانے کے لیے ایک دہائی قبل آئی تھیں وہ بھی ' عوامی آزادی' کے بجائے اپنے مقاصدکے حصول کے لیے کوشاں رہے اورعالمی سطح پر میڈیا کے ذریعے یہ تاثر ابھرا جاتا رہا کہ افغانستان تبدیل ہورہا ہے اور حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، لیکن حقیقی صورتحال اس کے برعکس رہی ۔طالبان کے اچانک حملے کی ٹائمنگ کودیکھیے افغان صدر یورپی یونین کے اہم شہر برسلز میں ہیں، ہمارے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز بھی وہیں ہیں جہاں وہ ملک کی معیشت اورانفرا سٹرکچر میں بہتری کے لیے عالمی رہنماؤں سے مالی امداد کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔
لامحالہ یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ حملہ بین الاقوامی ڈونرزکانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا ہے یا پھرطالبان دوبارہ قوت پکڑچکے ہیں؟ جواب جو بھی ہو، تلخ حقیقت یہ ہے، اس ساری صورتحال سے براہ راست جو ملک سب سے زیادہ متاثرہوا ہے ، ہورہا ہے اور ہوگا وہ ہے پاکستان ۔امریکا بہادرہم سے ''ڈو مور''کا مطالبہ کرتا رہا۔
پاکستان نے تو پائیدار امن کے لیے افغانستان حکومت اورطالبان کے درمیان صلح اورمذاکرات کے لیے باقاعدہ کوششیں کی لیکن امریکا نے طالبان کی قیادت پر ڈرون حملے کرکے انھیں سبوتاژکیا ۔اب بھی طالبان سے مذاکرات کے بغیر امن ممکن نہیں ہے اور اس اس معاملے میں پاکستان کے مفادات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔