جنگ نہیں بات چیت

سرحدوں پر گھن گرج میڈیا پر انتہا پسندانہ بیانات کے بعد بھارت اورپاکستان کے درمیان بات چیت کے امکانات پیدا ہوگئے۔

tauceeph@gmail.com

سرحدوں پر گھن گرج میڈیا پر انتہا پسندانہ بیانات کے بعد بھارت اورپاکستان کے درمیان بات چیت کے امکانات پیدا ہوگئے۔ امریکا ، روس ، چین، برطانیہ اور دوسرے ممالک بھی یہی چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان جنگ کے بجائے بات چیت سے مسئلہ حل کریں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان

کشمیر بنیادی مسئلہ ہے ۔ 1948 سے1965کی جنگیں کشمیرکی بنیاد پر ہوئیں۔سیاچن اور کارگل کے تنازعات بھی اس کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے مگر ان جنگوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا اور پھر بات چیت کے ذریعے ہی دونوں ممالک کے تعلقات معمول پرآگئے تھے ۔کشمیر کا معاملہ 1947میں تقسیم ہندکے نتیجے میں ہوا تھا۔ بھارت 1948میں ہونے والی جنگ کے وقت یہ معاملہ سلامتی کونسل میں لے گیا ۔سلامتی کونسل نے ایک قرارداد میں کشمیر میں فوری جنگ بندی اور دونوں ممالک کواپنی فوجیں کشمیر سے نکالنے اورکشمیر میں رائے شماری کا فیصلہ دیا تھا۔

بھارت نے اس قرارداد پر عمل نہیں کیا ۔بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہروکے کشمیر میں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کرنیوالے اپنے پرانے ساتھی شیخ عبداللہ کو سالوں نظر بند رکھا، شیخ عبداللہ بھارتی یونین میں کام کرنے پر آمادہ ہوئے۔ بھارتی آئین میں ایک خصوصی ترمیم 370 کی گئی جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر کوخصوصی حیثیت حاصل ہوئی مگرکشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ کشمیری سال دو سال بعد حق خود ارادی کے لیے آواز اُٹھاتے رہے۔

1965 اور1971کی جنگوں کے بعد ہونے والے معاہدہ تاشقند اور شملہ میں اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت پر زور دیا گیا تھا جس کے لیے کمپوزٹ ڈائیلاگ کیا گیا تھا، یوں دونوں ممالک کے خارجہ امورکے سیکریٹریوں کے درمیاں بہت سی ملاقاتیں ہوئیں اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بھی ملتے رہے۔ سال میں دونوں ملکوں کے سربراہوں کی کسی نہ کسی حوالے سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔جس میں دوسرے معاملات پر حوصلہ افزاء فیصلے ہوئے۔

گزشتہ صدی کے آخری عشرے سے ٹریک ٹو ڈپلومیسی شروع ہوئی ۔ اس طریقہ کار میں سرکاری سفارت کاروں کے علاوہ ریٹائرڈ فوجی افسران اراکین پارلیمنٹ ، سیاسی وسماجی رہنماؤں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کو شریک کیا جاتا ہے۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی اسرائیل اورعرب ممالک چین اور امریکا ،سوویت یونین اور ویت نام کی جنگ میں خاصی کامیاب ثابت ہوئی۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے بھی لاتعداد غیر رسمی اجلاس منعقد ہوئے۔ پاکستانی سیاسی کارکنوں، صحافیوں کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جانے کے مواقعے فراہم کیے، جہاں ان کی ملاقات کشمیرکی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں سے ہوئی۔

یاسین ملک جیسے کشمیری رہنما بھی پاکستان آئے۔انھوں نے کراچی لاہور اور اسلام آباد میں صحافیوں، دانشوروں سے خطاب کیا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کشمیر کوالگ ریاست بنادیا جائے۔ یاسین ملک خود ایک زمانے سے گوریلا تحریک سے منسلک رہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے بدتریں مظالم کا شکار رہے۔ یاسین ملک کا موقف ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی پر امن جدوجہد کررہے ہیں کہ پورے کشمیرکوآزادی مل جائے۔کشمیر کے مسئلے پر سفارتی سطح پر اہم تبدیلیاں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئیں جب جنرل پرویزمشرف بھارتی وزیراعظم واجپائی سے مذاکرات کے لیے آگرہ گئے۔ انھوں نے کشمیرکے مسئلے کے چھ نکات پیش کیے،ان نکات میں دونوں کشمیرکی سرحدیں کھولنے،کشمیریوں کودونوں حصوں میں آنے جانے کی آزادی اور جموں وکشمیرکو خود مختاری دینے کے معاملات شامل تھے۔


پہلی دفعہ سفارتی سطح پر پاکستانی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔ بھارتی قیادت اس طرح کی پاکستانی ڈپلومیسی کے جواب کے لیے تیار نہیں تھی اور محض سرحدوں کے اطراف سے دہشت گردی کے معاملے پر یہ سربراہی اجلاس ناکام ہو گیا۔بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسنددھڑے نے جس کی قیادت ایل کے ایڈوانی کررہے تھے۔ واجپائی کی تاریخ بنانے کی کو شش کو ناکام بنا دیا۔ سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنی یاداشتوںمیں لکھا ہے کہ آگرہ سربراہی اجلاس کی ناکامی کے بعد بھی دونوں ممالک مذاکرات کرتے رہے اور دونوں ممالک اس معاملے کے حل کے قریب تھے کہ پاکستان میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک زور پکڑ گئی اور پرویز مشرف فیصلہ کن طاقت سے محروم ہو گئے۔

بھارت میں گزشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو توا کے نعرے پر برسراقتدارآئی، مودی کے خلاف گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا سیاہ حاشیہ موجود تھا۔ بھارتی جنتا پارٹی کا مقصد بھارت کو ہندؤں کی مذہبی ریاست بنانا ہے، مودی حکومت آنے کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے مختلف ریاستوں میں مسلمانوںسے اپنی مرضی سے کھانے کا حق چھین لیا ،کئی مسلمان گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں قتل کردیے۔ بھارت کا لبرل سوچ کا طبقہ انتہا پسندی سے براہ راست متاثر ہوا۔ دانشوروں اور ادیب و فن کاروں نے مودی حکومت کی پالیسی کے خلاف قومی ایوارڈ واپس کر دیا۔

اس پالیسی سے کشمیر براہ راست متاثر ہوا، وہاں فوج اور پولیس نے انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثالیں قائم کیں۔ بعض واقعات پر تو سابق وزیراعلیٰ عمرعبد اللہ نے بھی تشویش کا اظہارکیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا۔ ارون دھتی رائے جیسے دانشوروں نے بھارتی فوج کے مظالم کو بدترین تشدد قرار دیا مگر نریندر مودی حکومت نے اس صورتحال کا ادارک نہیں کیا ،ان ہی دنوں سری نگر میں حکومت کرنے والی مخلوط حکومت کے سربراہ مفتی سعید انتقال کر گئے ان کی صاحبزادی محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ بنی وہ کشمیر کی حکومت پر اپنی حاکمیت قائم نہ کر سکیں۔

فوج اور پولیس نے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ برقرار رکھا۔ اچانک نوجوان برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کا سانحہ ہوا جس کے خلاف پورے کشمیر میں احتجاج ہوا۔ بھارتی فوج اور پولیس نے چھروں والی بندوقوں کے استعمال سے نوجوانوں کو گھائل کیا اور اب دو ماہ سے وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور مزاحمتی تحریک جاری ہے۔ سینئرصحافی سعید حسن خان گزشتہ سال سری نگر گئے تھے انھوں نے واپسی پر لکھا تھا کہ کشمیری نوجوان بپھرے ہوئے ہیں جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔

بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر نے کانگریس کے رہنما ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حمایت کی تھی، ان کے دور میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے بھارت کے دروازے کھل گئے تھے۔ بھارت نے ان کمپنیوںکو متوجہ کرنے کے لیے لیبر قوانین میں ترامیم کیں ، امریکا سے سول ایٹمی معاہدہ کرکے عالمی برادری کوایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں مطمئن کردیا تھا مگر من موہن سنگھ کے اتحادیوں نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے یوں کارپوریٹ سیکٹر نے مایوسی میں مودی کی حمایت کی تھی ۔ مودی شفاف نظام اور اچھی طرز حکومت کے نعرے پر کامیاب ہوئے تھے مگر ہندو توا کا ایجنڈااُن کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔

کارپوریٹ سیکٹرکے دانشور اس حقیقت کو فراموش کرگئے تھے، یوں مودی نے بیک وقت پاکستان سے دوستی اوردشمنی اورہندوانتہا پسندی کے نعرے کے ساتھ اپنی حکومت شروع کی تھی اور وہ اسی لیے لاہور بھی آئے تھے۔سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کے اجراء کی تقریب کے میزبان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا اور اُن کے چہرے پر سیاہ رنگ پھینکنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسند ونگ سے تعلق رکھتے تھے ماہرین اب اس بات پر متفق ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تین بڑی اور تین چھوٹی جنگوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلابلکہ جنگ کے نتیجے میں دونوں ممالک کی سماجی اور اقتصادی بدحالی بڑھ گئی۔بھارت کے بڑے شہروں میں اور کلکتہ میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھ پر پیدا ہوتے اور وہیں زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھارت کے ایک دیہات کی تصویر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جہاں ایک غریب آدمی ایمبولینس نہ ملنے کی بناء پر اپنی بیوی کی لاش کندھے پر اُٹھا کرگھر جانے پر مجبور ہوا۔ اُس نے کئی کلومیٹرکا سفر اسی طرح طے کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان غربت کے خاتمے کی جنگ ہونی چاہیے، یہی بات دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اب تو بھارت اور پاکستان ایٹمی طاقتیں ہیں اگر کسی جنگ میں دونوں نے ایٹم بم کا استعمال کیا تو یہ خطہ سو سال پیچھے چلاجائے گا۔امریکا نے جاپان پر1945 میں بم گرائے تھے،جاپان اب تک ایٹم بم کے گرائے جانے کے اثرات سے نہیں نکلا، دونوں ممالک کو فوری طور پر بات چیت شروع کرنی چاہیے بات چیت کے علاوہ کشمیرکے حل کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔
Load Next Story