بھارتی مواد دکھانے پر چینل لائسنس منسوخی کا اعلان

پیمرا کا بھارتی مواد کی نشریات روکنے کا فیصلہ کثیر جہتی پہلوؤں کے باعث قابل تحسین ہے

فوٹو؛ فائل

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے صائب فیصلہ کیا ہے کہ بھارتی چینلز اور بھارتی مواد دکھائے جانے پر بنا اظہارِ وجوہ نوٹس اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر کمپنی کا لائسنس فوری طور پر معطل یا منسوخ کردیا جائے گا۔

پیمرا کا مذکورہ فیصلہ 15 اکتوبر 2016 کی اعلان شدہ ڈیڈ لائن کے تناظر میں کیا گیا ہے جس کے گزرنے کے بعد پیمرا تمام خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز و تفریق کارروائی کرسکے گی۔ نیز بھارت اور پاکستان کے مابین حالیہ کشیدگی کے باعث عوام بھی پرزور مطالبہ کررہے ہیں کہ بھارتی چینلز اور ڈرامے مکمل طور پر بند کردیے جائیں۔ پیمرا کا بھارتی مواد کی نشریات روکنے کا فیصلہ کثیر جہتی پہلوؤں کے باعث قابل تحسین ہے جس سے عوامی امنگوں کی بھی ترجمانی ہوتی ہے۔

آرٹ اور آرٹسٹوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، فن کے سفیر زبان و ثقافت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ غیر ملکی فنکاروں کی پذیرائی کی ہے، پاکستانی عوام بھی باذوق اور فن کے دلدادہ ہیں، بھارتی فنکاروں کو یہاں آمد پر جو عزت و پذیرائی ملتی ہے اس کا اقرار وہ اپنے ملک جاکر بارہا کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب بھارتی چینلز اور مواد پر پابندی کے عوامی مطالبے کے پیچھے بھارت کا وہ نفرت انگیز رویہ کارفرما ہے جس نے فن و ثقافت کو بھی ایک جنگ کا روپ دے دیا ہے۔


بھارت میں نہ صرف پاکستانی فنکاروں کے ساتھ اہانت آمیز رویہ روا رکھا جانے لگا ہے بلکہ پاکستانی آرٹسٹوں کے ساتھ پرتشدد واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ بھارت میں پاکستانی چینلز اور فنکاروں پر جو پابندیاں عائد ہیں اس کے تناظر میں یہ لازم ہے کہ پاکستان بھی برابری کی سطح پر ایسے اقدامات کرے تاکہ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔

بھارتی نفرت اور شدت پسندی کا یہ حال ہے کہ وہاں اپنے ہی فنکاروں کو پاکستان کی حمایت میں بولنے پر غدار کا لقب دے دیا جاتا ہے، گزشتہ روز بھی بھارتی فنکار اوم پوری نے جب پاکستانی فنکاروں پر پابندی اور بھارتی شدت پسندی کے خلاف بیان دیا تو وہاں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرا دیا گیا۔ بھارت نے اپنے چینلز اور پروگراموں کے ذریعے ایک ثقافتی جنگ چھیڑ رکھی ہے، جس کا مطمع نظر لوگوں کو تفریح طبع کا موقع فراہم کرنے کے بجائے نفرت انگیز و شرپسند نظریات کی ترویج اور اپنے عوام میں پاک مخالف جذبات کو ہوا دینا ہے، جس کا اظہار بھارتی نیوز چینلز کی بلاتحقیق رپورٹنگ اور شرانگیز بیانات میں سامنے آتا رہتا ہے۔

بھارت کا یہ معاندانہ رویہ پاکستانی عوام کی دل آزاری اور دوستانہ جذبات پر قدغن ہے۔ بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ وہ ان حرکات کے باعث اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ بھارت کو اپنی فلموں اور چینلز کی نمائش کی مد میں پاکستان سے کروڑوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ پاکستانی چینلز کو پیمرا کے مذکورہ فیصلے پر حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ عملدرآمد کرنا چاہیے، نیز بھارتی مواد کی نشریات دکھانے پر پیمرا کو سخت ایکشن لینا چاہیے تاکہ فیصلے کی خلاف ورزی نہ کی جا سکے۔

 
Load Next Story