روس ممکنہ امریکی ایٹمی حملے کیخلاف زیر زمین پناہ گاہ تیار
صدر پوتن نے 12ملین افراد کیلیے زیر زمین پناہ گاہ بنوالی ہے، برطانوی پریس کا دعویٰ
ایوان زیریں کا افتتاحی اجلاس، روسی صدر نے خطاب کیا، امریکا سے نیوکلیئر معاہدہ معطل۔ فوٹو: فائل
برطانوی پریس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ روس نے امریکا کی طرف سے ممکنہ جوہری حملے کا مقابلہ کرنے کیلیے بعض تدابیر اختیار کی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن نے ممکنہ ایٹمی جنگ کا مقابلہ کرنے کیلیے 12ملین افراد کے لیے ایک زیر زمین پناہ گاہ تعمیر کروائی ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور امریکا کے درمیان پلوٹونیم کو ناکارہ بنانے کے معاہدے کو ملتوی کرنے پر مبنی ایک قرار داد پر دستخط کیے ہیں۔
دریں اثنا گزشتہ روز روسی دارالحکومت ماسکو میں ایوان زیریں کے نو منتخب ارکان اسمبلی کا افتتاحی سیشن ہوا' اس افتتاحی سیشن سے صدر پوتن نے خطاب کیا۔
قبل ازیں صدر پوتن نے روس ، یوکرائن تناؤ میں ماسکو پر واشنگٹن کی طرف سے پابندیوں کے بعد امریکا سے نیوکلیئر و توانائی تحقیقاتی معاہدہ ملتوی کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن نے ممکنہ ایٹمی جنگ کا مقابلہ کرنے کیلیے 12ملین افراد کے لیے ایک زیر زمین پناہ گاہ تعمیر کروائی ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور امریکا کے درمیان پلوٹونیم کو ناکارہ بنانے کے معاہدے کو ملتوی کرنے پر مبنی ایک قرار داد پر دستخط کیے ہیں۔
دریں اثنا گزشتہ روز روسی دارالحکومت ماسکو میں ایوان زیریں کے نو منتخب ارکان اسمبلی کا افتتاحی سیشن ہوا' اس افتتاحی سیشن سے صدر پوتن نے خطاب کیا۔
قبل ازیں صدر پوتن نے روس ، یوکرائن تناؤ میں ماسکو پر واشنگٹن کی طرف سے پابندیوں کے بعد امریکا سے نیوکلیئر و توانائی تحقیقاتی معاہدہ ملتوی کردیا۔