سفارتی محاذ پر بھی بھارتی سازشیں ناکام بنانے کی ضرورت

جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں تب تک خطے میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن نہیں

.

اڑی واقعہ کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی پروپیگنڈا مہم تیز کرتے ہوئے کثیرالجہتی محاذ کھول دیے' ایک جانب اس نے جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کیں تو دوسری جانب پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی بند کرنے کے لیے سرگرم ہو گیا پھر اس نے عالمی سطح پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کر ڈالا۔

اس دعوے کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔ صورتحال کی نزاکت کا بروقت ادراک کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے سرجیکل سڑائیکس کا دعویٰ مسترد کر دیا اور واضح کر دیا کہ بھارت نے اگر کوئی حرکت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ بھارتی پروپیگنڈے کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی حکومت اور سیاسی قوتیں بھی متحرک ہو گئیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں واضح کیا گیا کہ وطن کی بقا اور سلامتی کے لیے پوری قوم ایک ہے۔

اندرون اور بیرون ملک سلامتی کے امور کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل سیکیورٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ حکومت نے قومی سطح پر تمام پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد طلب کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کو واضح طور پر پیغام دے دیا کہ اگر اس نے پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کیے تو پوری قوم اور سیاسی جماعتیں اپنے تمام اندرونی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوکر اس کا مقابلہ کریں گی۔ تمام پارلیمانی جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

چند روز پیشتر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دیں گے۔ اپنے اس مذموم ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی کثیرالجہتی منصوبوں پر عمل شروع کر دیا۔ پاکستان میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے انھوں نے بنگلہ دیش' سری لنکا' بھوٹان اور افغانستان کو اپنے ساتھ ملا کر سارک کانفرنس میں شریک نہ ہونے پر راضی کر لیا' اس طرح سارک کانفرنس پاکستان میں منعقد نہ ہو سکی۔


بھارت نے اپنی ان چال بازیوں سے دنیا کو یہ پیغام دینے کی سازش کی کہ پاکستان تنہا ہوتا جا رہا ہے یہاں تک کہ جنوبی ایشیا کے ممالک بھی اس کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات رکھنے کے لیے آمادہ نہیں۔ سارک کانفرنس کا ملتوی ہونا خوش آیند بات نہیں کیونکہ بھارت پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے اور دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کے لیے ہر ممکن حربہ آزما رہا ہے۔ عسکری محاذ پر تو پاکستان بھارت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے' اس حقیقت کا بھارت کو بھی ادراک ہے کہ اگر اس نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا لیکن سفارتی محاذ پر بھارت کا مقابلہ اور پوری دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کے لیے حکومت کو اپنی پالیسیاں واضح کرنا ہوں گی۔

سفارتی محاذ پر جس قسم کی پیچیدہ اور مشکل صورت حال پیدا ہو چکی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ متحرک اور جہاندیدہ شخص کو وزیرخارجہ تعینات کیا جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کا موقف بہتر طور پر بیان کر سکے۔ بھارت کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا' یورپی اور دیگر ممالک میں بھرپور لابنگ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

افغانستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے تجارتی اور سفارتی سطح پر جو مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں اس کا بھی تقاضا ہے کہ وزارت خارجہ کو زیادہ سے زیادہ متحرک کیا جائے۔ ادھر ایک خوش آیند خبر منظرعام پر آئی ہے کہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی دوڑ روکنے میں ناکامی پر پاکستان کے خلاف مارشل آئی لینڈز کی جانب سے دائر مقدمے کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے' دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ تھا کہ مارشل آئی لینڈز کے ساتھ پاکستان کا کوئی تنازع نہیں۔

اگرچہ پاکستان نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے مگر وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عمل پر سختی سے کاربند ہے۔ پاکستان پوری دنیا پر واضح کر چکا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس ناسور کا خاتمہ کرنے کے لیے بھرپور جنگ لڑ رہا ہے اس لیے اس پر دہشت گردی کو پھیلانے کا الزام قطعی طور پر درست نہیں۔ جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں تب تک خطے میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشت گردی پھیلانے میں طاقتور ممالک کی اپنی پالیسیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے انھیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔

 
Load Next Story