سینئر سٹی زن کے لیے مژدہ

حالانکہ آدم نے کچھ نہ کچھ تو کھایا پیا بھی تھا جب کہ … ہم گلاس ٹوٹنے کا جرمانہ لے کر نکالے گئے

barq@email.com

بڑی اچھی خبر آئی ہے اتنی اچھی کہ ہم اسے خوش خبری بلکہ مژدہ جاں فزا کے زمرے میں ڈال سکتے ہیں کیوں کہ اس خبر کے ساتھ ہمارا بھی کچھ نہ کچھ تعلق تو بنتا ہی ہے، اور خبر کا ذریعہ بھی اچھا خاصا ''قابل اعتماد'' ہے یعنی شوکت علی یوسف زئی جن کا تعلق ہماری ہی برادری سے تھا لیکن ان کے پروں میں طاقت پرواز زیادہ تھی اس لیے وہ ہماری ''ڈار'' سے الگ ہو کر اونچی پرواز والے روٹ میں اڑ گئے اگرچہ سنا ہے کہ وہاں کے پرندوں نے اسے اجنبی پکھیرو سمجھ کر کچھ ایسی ٹھونگیں ماریں کہ درمیان سے نکل کر پیچھے پیچھے اور کنارے کنارے محو پرواز ہو گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اب شاہین کا جہان اور ہے اور کرگس کا جہاں اور لیکن پھر بھی پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں

واں کے نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

اور یہ خبر بلکہ خوش خبری انھی شوکت یوسف زئی کے ذریعے پہنچی ہے اس لیے ''ثقہ'' یقیناً ہو گی، خوش خبری یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ''سینئر سٹیزن'' کی سہولت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی کوئی پروگرام چلا دیا ہے اور ہمارے لیے یہی بہت ہے کہ ہم بھی کسی نہ کسی ''زمرے'' میں آ ہی گئے۔ وہ تین اور تیرہ کا قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا لیکن ہمارا معاملہ اس بے چارے سے بھی زیادہ درد ناک ہے جس کا شمار نہ تین میں تھا اور نہ تیرہ میں۔ چنانچہ جہاں بھی کھڑے ہوئے وہاںسے ٹھیک اسی طرح نکالے گئے جیسے غالبؔ کو نکالا گیا تھا

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بڑے بے آبرو ہو کر تر ے کوچے سے ہم نکلے

حالانکہ آدم نے کچھ نہ کچھ تو کھایا پیا بھی تھا جب کہ ... ہم گلاس ٹوٹنے کا جرمانہ لے کر نکالے گئے، لگ بھگ چالیس پچاس سال اخباروں میں جوتے چٹخانے کے بعد جب صحافیوں کی قطار میں کھڑا ہونا چاہا تو اسی پریس کلب سے ہمیں نکالا گیا جو کبھی ہم نے اور قلندر مومند مرحوم نے بارہ آدمیوں سے ابتدا کر کے بنائی تھی، الزام یہ تھا کہ ہم تو کالم نگار ہیں اور کالم نگار صحافی نہیں ہوتے، رائٹر ہوتے ہیں رائٹروں کی قطار میں گھسے تو یہ کہہ کر نکالے گئے کہ ہم تو کالم نگار ہیں کالم نگاروں میں ناک گھسانی چاہی تو شاعر کا ٹھپہ لگا کر دھکا دیدیا اس کے علاوہ بھی کئی مقامات پر سینگ سمانے کی کوشش کی لیکن سوائے سینگ ٹوٹنے کے کچھ بھی نہ پایا، اب آپ ہی بتایئے کہ اس سینئر ''سٹی زن'' والے زمرے میں آنا ہمارے لیے کتنی بڑی خوش خبری ہے... خدا شوکت یوسف زئی کو خوش رکھے اور زیرین کے زمرے سے نکال کر ''وزیرین'' کے زمرے میں جگہ عطا فرمائے۔ اب آگے ہماری قسمت ہے۔

حالانکہ ہماری قسمت نے ہمیں خراب کرنے کی جو قسم کھائی ہوئی ہے وہ ابھی تک توڑی نہیں ہے اس لیے ہماری شہری سینارٹی کو کسی بھی بہانے جونیارٹی میں بدل سکتی ہے

ہر خوشی میں کوئی غم یاد دلا دیتا ہے
دل کا یہ رخ میری آنکھوں سے نہاں تھا پہلے


مانا کہ ہماری عمر ہمارے بال اور دیگر آثار و علامات ہمیں سینارٹی دلانے کے لیے کافی ہیں لیکن اعتراضات کی کمی کم از کم سرکاری دفتروں میں کبھی نہیں ہوتی، سو سو طرح کے ثبوت مانگے جا سکتے ہیں کیونکہ ''نہ دینے'' کے بہانے ہزار ہو سکتے ہیں اور دینے کے ہزار ثبوت بھی عدم ثبوت بن سکتے ہیں، اب تک تو ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔ یہ جو طرح طرح کے سرکاری ''کارڈ'' ہیں ان سب کو منسوخ کر دیجیے لیکن منسوخ کرنے کے لیے پہلے بنوانا ہو گا، انکم سپورٹ کی رقومات جیسے جیسے کو ملتی ہے، غربت کارڈ، انصاف کارڈ، صحت کارڈ یہ کارڈ وہ کارڈ عشر زکوٰۃ بیت المال مطلب یہ کہ کیا نہیں ہے جو نہیں ہے

شفق دھنک، مہتاب، ہوائیں، بجلی، تارے، پھول
اس ''دامن'' میں کیا کچھ ہے وہ ''دامن'' ہاتھ میں آئے تو

مطلب یہ کہ ہنوز دلی دور است، خود کو سینئر سٹیزن ثابت کرنے کے لیے نہ جانے کتنے جونیئر سٹیزنوں سے رجوع کرنا پڑے گا، بال سفید ہیں تو کیا ہوا بال تو دھوپ میں بھی سفید کیے جا سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ نہ مانوں کو کوئی بھی ''دلیل'' مانوں میں نہیں بدل سکتی، تو ان کے لیے تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن کوئی بات نہیں کم از کم خود کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ چلو ہم بھی کسی زمرے میں آ تو گئے

قتل ہوں گے ترے ہاتھوں سے خوشی اس کی ہے
آج اترائے ہوئے پھرتے ہیں مرنے والے

... ایک اور چیز جس کی خبر میں خوش خبری دی گئی ہے کہ ان سینئر سٹیزن کو سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولت ''مفت'' فراہم کی جائے گی اور اس کا ہمیں بھروسہ ہے کہ ایسا ضرور ہو گا کیوں کہ بڈھوں کو اس عمر میں جو امراض لاحق ہوتے ہیں اس کا علاج اسپتالوں کے انتظار گاہوں میں نہایت بہتر طریقے پر ہو سکے گا اور ''مفت'' پر تو ہمیں پکا پکا یقین ہے کیوں کہ انتظار گاہوں میں کچھ خرچ ہوتا ہی نہیں دو چار سیمنٹ کے بینچ تو ویسے بھی پڑے رہتے ہیں اور پنکھا اتنا تھک چکا ہوتا ہے کہ بجلی آنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ جب ہٹے کٹے اور دھینگا مشتی کا طویل تجربہ رکھنے والوں کے مریضوں کا بھی علاج نہیں ہو پاتا تو ان سینئر سٹی زن کا علاج کیسے ہو گا جو طرح طرح کی بیماریوں کا مجموعہ ہوتے ہیں تو آپ یقیناً غلط سوچ رہے ہیں ہم ان بیماریوں کا ذکر ہر گز ہر گز نہیں کر رہے ہیں جن کا علاج اسپتالوں میں ہوتا ہے لیکن نہیں ہوتا بلکہ ان بیماریوں کی بات کر رہے ہیں جن کا علاج اسپتالوں میں نہیں ہوتا لیکن ہو جاتا ہے۔

بلکہ انتظار گاہ ہی میں ہو جاتا ہے بالکل مفت اور امداد باہمی کے طریقے پر ۔۔۔ بیچارے بوڑھوں کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ جمع ہو چکا ہوتا ہے اور یہ کم بخت جونیئر سٹیزنز اتنا بھی نہیں کرتے کہ دو چار گھنٹوں کے لیے اپنے کان ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان میں اپنے کردہ و ناکردہ کارناموں اور بے مثل و بے مثل جوانی کے قصے انڈیل سکیں اور ہمارے خیال میں اس مرض کے علاج کے لیے اسپتالوں کی انتظار گاہوں سے زیادہ بہتر اور کوئی شفاخانہ نہیں ہے کہ یہاں ڈسٹرب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا سینئر سٹیزن نہایت اطمینان سے اپنے اپنے امراض اور مال و متاع ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے، اسپتال والوں کی طرف سے دوسرے دن آنے کی ہدایت بھی ضروری نہیں ہوتی کیوں کہ وہ خود اپنی ادھوری شیئرنگ کے لیے آنے کا سوچ رہے ہوتے ہیں اس طرح اسپتال کے اندر نہ سہی انتظار میں تو ان کو افاقہ ہو جائے گا اس سے بڑی صحت کی سہولت اور کیا ہو سکتی ہے اور وہ بھی بالکل مفت

پؤ کہ مفت لگا دی ہے خون دل کی کشید
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
Load Next Story