دہشتگردی کی دو بڑی وارداتیں ناکام

کئی علاقوں میں فائرنگ کی اطلاعات ملیں جو گینگ وار کے پھر سے منظم ہونے کی باتیں ہیں۔

، اسکرین گریب/ ایکسپریس نیوز

محرم الحرام کے مقدس مہینے کے شروع ہوتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں تخریب کاری اور دہشتگردی کے واقعات سے تشویش کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ سلامتی کے امور اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت انٹیلی جنس اداروں کی فعال انٹیلی جنس شیئرنگ کو پوری طاقت سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں دہشتگری سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانہ پر بین الصوبائی رابطہ اور دہشگردوں کی نقل مکانی پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہے کیونکہ ماہ محرم کے دوران دہشتگرد خود کش حملوں کی نہ صرف دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ اپنے ہدف کا پیشگی تعین بھی کرتے ہیں جیسا جعفر ایکسپریس پر حملہ ہے۔

یاد رہے یہ حملہ پہلا نہیں، وارداتوں کے پچھلے ریکارڈ کے مطابق 2004ء میں بلوچستان میں مسافر ٹرینوں پر 11 حملے ہوئے جن میں 29 افراد جاں بحق اور 117 زخمی ہوئے، محرم میں کوئٹہ، تربت اور ہندوؤں کے مذہبی مقام ہنگلاج اور دیگر ہزارہ و ذکری آبادیوں میں دہشتگرد سرگرم ہو جاتے ہیں اور ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔ کراچی کے دونوں واقعات میں سیکیورٹی الرٹس قابل تعریف تھی ورنہ دہشتگردی کی وارداتیں کامیاب ہوتیں تو کافی نقصان کا اندیشہ تھا۔

کراچی، نواب شاہ اور بلوچستان میں مچھ کے دور افتادہ علاقہ میں دہشت گردی اور امن دشمن کارروائیوں کی اندوہ ناک وارداتیں ملک دشمنوں کی فعالیت کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم شہر قائد میں کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ سول لائنز نے ماہ محرم میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم القاعدہ برصغیر کراچی کے امیر اور نائب امیر سمیت 9 دہشتگرد گرفتار کیے جو خود کش حملے اور فائرنگ کر کے بڑے پیمانہ پر تباہی پھیلانا چاہتے تھے، ایک مبینہ خودکش بمبار محمود کی تلاش جاری ہے۔


ایس ایس پی عمر شاہد حامد کے مطابق پکڑے جانے والے ملزمان متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی منظر امام اور 8 کارکنان پر حملوں سمیت دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں، کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک ہوئے، کئی علاقوں میں فائرنگ کی اطلاعات ملیں جو گینگ وار کے پھر سے منظم ہونے کی باتیں ہیں۔

ادھر نواب شاہ میں حساس ادارے اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کیا اور دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے گروہ کے 11 ملزمان پکڑ لیے اور مہلک ہتھیار اور فوجی وردیاں برآمد کیں جب کہ بلوچستان کے شہر مچھ میں ریلوے ٹریک پر 2 بم دھماکوں کے نتیجے میں کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس کے7 مسافر جاں بحق اور 22 زخمی ہو گئے، 2 بوگیاں تباہ اور انجن کو بھی شدید نقصان پہنچا جب کہ 30میٹر ٹریک متاثر ہوا جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی، بی بی سی کے مطابق اس دھماکے کی ذمے داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی، انھوں نے دہشتگردی کی اس کارروائی میں قیمتی جانی نقصان پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا، صوبائی وزیر داخلہ میر سر فراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے بلوچستان کے امن کو تہہ بالا نہیں کر سکتے۔ مگر اولین ضرورت محرم الحرام کے دوران فالٹ فری سیکیورٹی انتظامات کی ہے، ابھی بہت کچھ کرنا ہے تا کہ تخریب کاری اور دہشتگردی کی کوئی کارروائی کہیں سے ممکن ہی نہ ہو۔

 
Load Next Story