گندم کا شارٹ فال 15 دن میں ختم ہوجائے گا ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر

چکیوں کو لبرل پالیسی کے تحت گندم فراہم کی جا رہی ہے، چھوٹے تاجروں کو ترجیحی بنیاد پر سہولتیں دے رہے ہیں، مسعود صدیقی

شہریوں کو مناسب ریٹ پر آٹے کی فراہمی کیلیے طلب اور رسد کے تناسب سے گندم مہیا کی جائے، حاجی نواب کا بھی خطاب فوٹو: فائل

ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر حیدرآباد ڈاکٹر مسعود احمد صدیقی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 15 دن میں گندم کا شارٹ فال ختم ہو جائے گا۔

ایوان تجارت و صنعت میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لبرل پالیسی کے تحت آٹا چکیوں کو گندم فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اسمال بزنس مین کو ترجیحی بنیادوں پر سہولتیں دی جائیں۔ آٹا چکی ایسو سی ایشن کی مشاورت سے مسائل حل کیے جا رہے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ حکومت پیداوار کا 45 فیصد گندم ذخیرہ کرتی ہے تاکہ اوپن مارکیٹ میں قیمتوں میں توازن کے ساتھ عوام کو آٹے کی مسلسل فراہمی جاری رہے ۔ مسعود احمد صدیقی نے بتایا کہ حیدرآباد کے 3 گوداموں میں سے 2 آٹا چکی مالکان کیلیے مختص ہیں جبکہ صرف ایک گودام سے فلور ملز کو گندم مہیا کی جار ہی ہے۔


انہوں نے آٹا چکی اور فلور مالکان کی تجویز پر چالان صبح 11 تا 1بجے دوپہر جاری کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ قبل ازیں حیدرآباد چیمبر کی ذیلی کمیٹی برائے فلور اینڈ فلور ملز کے چیئرمین حاجی نواب علی نے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ طلب اور رسدکے تناسب سے گندم مہیا کی جائے تاکہ عوام کو مناسب ریٹ پر آٹا مل سکے۔ بڑھتی ہوئی آباد ی کے لحاظ سے حیدرآباد میںگندم کی کھپت ایک لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن سالانہ ہے۔ 2011 میں 6 ماہ کے لیے 70 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی گئی تھی جو کہ 2012 میں کم کر کے 50 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔



سپلائی اور ڈیمانڈ میں واضح فرق اور اوپن مارکیٹ میں گندم نہ ملنے کی وجہ سے فلور ملز اور چکی مالکان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حیدرآباد ضلع میں سالانہ ایک لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ یہاں کے گوداموں میں گندم ختم ہونے کی وجہ سے فلور مل و چکی مالکان کو شہر سے باہر گوداموں سے گندم لانی پڑتی ہے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر تراب علی خوجہ، رکن مجلس عاملہ سید یاور علی شاہ، ضیاء الدین سمیت چکی مالکان، ایوان کے اراکین محمد سلیم غوری، صلاح الدین غوری، عدنان خان، ضیاء مسرور، اختیار احمد آرائیں، سکندر دھندوری اور عبدالستار خان و دیگر بھی موجود تھے۔
Load Next Story