911 کے متاثرین کا حق
امریکا کا شمار دور حاضر کی جمہوریت کے بڑے سرپرستوں میں ہوتا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
امریکا کا شمار دور حاضر کی جمہوریت کے بڑے سرپرستوں میں ہوتا ہے۔ جمہوری حکومتوں میں اگرچہ پارلیمنٹ قومی مفاد کے فیصلے کرنے میں اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بعض خصوصی صورتوں میں حکمرانوں کو پارلیمنٹ کے فیصلوں میں بالادستی کا حق دیا گیا ہے۔ امریکا کے صدر کو بھی ''ویٹو'' کے حوالے سے پارلیمنٹ کے فیصلوں کو رد کرنے کا حق حاصل ہے۔
امریکا کے موجودہ صدر بارک اوباما نے اپنے دور اقتدار میں اب تک یہ حق 12 بار استعمال کیا ہے، اب انھوں نے 9/11 کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف معاوضے کے حق کے حوالے سے جس بل کو ویٹو کیا تھا اس ویٹو کو امریکا کے ایوان نمایندگان اور سینیٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ ایوان نمایندگان اور سینیٹ کی طرف سے اوباما کے ویٹو کو مسترد کرنے کے بعد 9/11 کے متاثرین کو یہ حق حاصل ہوگیا ہے کہ وہ اب سعودی عرب سے 9/11 کے مرحومین و متاثرین کا معاوضہ طلب کر سکتے ہیں جس میں رقم کا غالباً کوئی تعین نہیں، کسی بھی جانی و مالی نقصان کا معاوضہ طلب کرنا بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق اس لیے ہے کہ اس سے متاثرہ فریق کی دادرسی ہو جاتی ہے۔
9/11 دہشتگردی کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا آغاز کہاں سے ہوا، کس نے کیا اور اس کے مجموعی نقصانات کیا ہیں؟ افغانستان میں روس کی مداخلت سے پہلے دنیا میں مذہبی انتہا پسندی تو موجود تھی لیکن دہشتگردی ان معنوں میں موجود نہ تھی جن معنوں میں آج ساری دنیا میں دیکھی جا رہی ہے۔ افغانستان میں روسی مداخلت بلاشبہ آزاد اور خودمختار ملکوں کی داخلی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے لیکن اس روسی مداخلت کے خلاف کارروائی کا حق اقوام متحدہ کو حاصل تھا، لیکن یہ حق امریکا نے محض اس لیے حاصل کیا کہ اسے سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے۔
جنگل کے قانون کو اس لیے مسترد کیا جاتا ہے کہ اس قانون میں صرف طاقت کی برتری کا اصول کارفرما ہوتا ہے، اگر مہذب دنیا جنگل کے قانون کو نہیں مانتی تو پھر وہ شہروں، ملکوں میں طاقت کی برتری کے اصول کو کس حوالے سے تسلیم کر سکتی ہے۔ افغانستان میں امریکا نے روس کی مداخلت کے خلاف جس طاقت کو استعمال کیا وہ مذہبی انتہاپسندی کی طاقت تھی، جو بعد میں دہشتگردی میں بدل گئی۔
القاعدہ طالبان سمیت سیکڑوں بلائیں 9/11 کے بعد ہی وجود میں آئیں یا متحرک ہوئیں۔ 9/11 کا واقعہ بلاشبہ انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم ہے جس میں چند ہزار انسانی جانوں کا نقصان ہوا لیکن 9/11 کے جرم کے محرکات کیا تھے؟ کیا امریکا نے اس پر غور کرنے کی زحمت کی؟پچھلے 70 برس سے فلسطین میں عربوں پر اسرائیل جو ظلم ڈھا رہا ہے اور اب تک لاکھوں فلسطینی اس ظلم کا شکار ہو چکے ہیں اور لاکھوں بے وطنی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا مذہبی انتہا پسندوں کو یہ مظالم دہشتگردی کی طرف نہیں لا سکتے؟ کشمیر میں 1947ء سے مسلمانوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں کیا وہ اعتدال پسند مسلمانوں کو بھی انتہاپسندی کی طرف نہیں لا سکتے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر دنیا کی واحد سپر پاور کے حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے۔
اگر وہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اقدامات کرتا تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ نہ 9/11 کا المیہ پیش آتا نہ مذہبی انتہا پسندی دہشتگردی میں بدل جاتی، روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے امریکا نے جن مذہبی انتہا پسندوں کو استعمال کیا وہی مذہبی انتہا پسند 9/11 اور آج کی ساری دنیا میں پھیلی ہوئی دہشتگردی کے کردار ہیں اور اس کی حقیقی ذمے داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔
اگر 9/11 کی ذمے داری میں سعودی عرب کو شامل کر کے 9/11 کے متاثرین کو سعودی عرب سے معاوضہ طلب کرنے کا حق دیا جاتا ہے تو پھر فلسطین اور کشمیر کے متاثرین کو اسرائیل اور بھارت سے معاوضہ طلب کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ کیا دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے طاقت کے بل پر پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ نہیں بنایا؟ امریکا کی دہشتگردی کے خلاف اس احمقانہ مہم میں 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی جان بحق ہوئے، جو 9/11 کے سانحے سے 10 گنا زیادہ بنتے ہیں، جس کی ذمے داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔ کیا ان 50 ہزار شہدا کے لواحقین کو امریکا اور نیٹو سے معاوضہ طلب کرنے کا حق نہیں دیا جانا چاہیے؟
امریکی سیاست کا محور امریکا کے قومی مفادات ہیں، امریکا چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا سرپرست ہے لہٰذا امریکا کے قومی مفادات سرمایہ دارانہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کے بالواسطہ جبر سے ہر روز 50 ہزار کے لگ بھگ نومولود بچے دودھ اور معقول غذا کی عدم دستیابی سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں، ہر سال لاکھوں انسان بھوک، بیماری سے موت کا شکار ہو رہے ہیں، کیا ان کے لواحقین کو سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ امریکا سے معاوضہ طلب کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے؟
سعودی عرب امریکا کا اتحادی رہا ہے۔ سعودی عرب دنیائے اسلام میں بوجوہ محترم ہے، سعودی عرب سے تعلقات کی خرابی دنیائے اسلام پر اثرانداز ہو سکتی ہے جو عملاً معاشی اور جنگی اسباب پیدا کر سکتی ہے۔ سعودی حکومت نے اس بل کی منظوری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ اس بل کی منظوری کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے، خود امریکی ری پبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قانون ساز اس حوالے سے آنے والی مشکلات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکا کے بین الاقوامی تعلقات پر بہت منفی اثرات پڑیں گے۔
امریکا کے موجودہ صدر بارک اوباما نے اپنے دور اقتدار میں اب تک یہ حق 12 بار استعمال کیا ہے، اب انھوں نے 9/11 کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف معاوضے کے حق کے حوالے سے جس بل کو ویٹو کیا تھا اس ویٹو کو امریکا کے ایوان نمایندگان اور سینیٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ ایوان نمایندگان اور سینیٹ کی طرف سے اوباما کے ویٹو کو مسترد کرنے کے بعد 9/11 کے متاثرین کو یہ حق حاصل ہوگیا ہے کہ وہ اب سعودی عرب سے 9/11 کے مرحومین و متاثرین کا معاوضہ طلب کر سکتے ہیں جس میں رقم کا غالباً کوئی تعین نہیں، کسی بھی جانی و مالی نقصان کا معاوضہ طلب کرنا بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق اس لیے ہے کہ اس سے متاثرہ فریق کی دادرسی ہو جاتی ہے۔
9/11 دہشتگردی کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا آغاز کہاں سے ہوا، کس نے کیا اور اس کے مجموعی نقصانات کیا ہیں؟ افغانستان میں روس کی مداخلت سے پہلے دنیا میں مذہبی انتہا پسندی تو موجود تھی لیکن دہشتگردی ان معنوں میں موجود نہ تھی جن معنوں میں آج ساری دنیا میں دیکھی جا رہی ہے۔ افغانستان میں روسی مداخلت بلاشبہ آزاد اور خودمختار ملکوں کی داخلی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے لیکن اس روسی مداخلت کے خلاف کارروائی کا حق اقوام متحدہ کو حاصل تھا، لیکن یہ حق امریکا نے محض اس لیے حاصل کیا کہ اسے سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے۔
جنگل کے قانون کو اس لیے مسترد کیا جاتا ہے کہ اس قانون میں صرف طاقت کی برتری کا اصول کارفرما ہوتا ہے، اگر مہذب دنیا جنگل کے قانون کو نہیں مانتی تو پھر وہ شہروں، ملکوں میں طاقت کی برتری کے اصول کو کس حوالے سے تسلیم کر سکتی ہے۔ افغانستان میں امریکا نے روس کی مداخلت کے خلاف جس طاقت کو استعمال کیا وہ مذہبی انتہاپسندی کی طاقت تھی، جو بعد میں دہشتگردی میں بدل گئی۔
القاعدہ طالبان سمیت سیکڑوں بلائیں 9/11 کے بعد ہی وجود میں آئیں یا متحرک ہوئیں۔ 9/11 کا واقعہ بلاشبہ انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم ہے جس میں چند ہزار انسانی جانوں کا نقصان ہوا لیکن 9/11 کے جرم کے محرکات کیا تھے؟ کیا امریکا نے اس پر غور کرنے کی زحمت کی؟پچھلے 70 برس سے فلسطین میں عربوں پر اسرائیل جو ظلم ڈھا رہا ہے اور اب تک لاکھوں فلسطینی اس ظلم کا شکار ہو چکے ہیں اور لاکھوں بے وطنی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا مذہبی انتہا پسندوں کو یہ مظالم دہشتگردی کی طرف نہیں لا سکتے؟ کشمیر میں 1947ء سے مسلمانوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں کیا وہ اعتدال پسند مسلمانوں کو بھی انتہاپسندی کی طرف نہیں لا سکتے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر دنیا کی واحد سپر پاور کے حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے۔
اگر وہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اقدامات کرتا تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ نہ 9/11 کا المیہ پیش آتا نہ مذہبی انتہا پسندی دہشتگردی میں بدل جاتی، روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے امریکا نے جن مذہبی انتہا پسندوں کو استعمال کیا وہی مذہبی انتہا پسند 9/11 اور آج کی ساری دنیا میں پھیلی ہوئی دہشتگردی کے کردار ہیں اور اس کی حقیقی ذمے داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔
اگر 9/11 کی ذمے داری میں سعودی عرب کو شامل کر کے 9/11 کے متاثرین کو سعودی عرب سے معاوضہ طلب کرنے کا حق دیا جاتا ہے تو پھر فلسطین اور کشمیر کے متاثرین کو اسرائیل اور بھارت سے معاوضہ طلب کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ کیا دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے طاقت کے بل پر پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ نہیں بنایا؟ امریکا کی دہشتگردی کے خلاف اس احمقانہ مہم میں 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی جان بحق ہوئے، جو 9/11 کے سانحے سے 10 گنا زیادہ بنتے ہیں، جس کی ذمے داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔ کیا ان 50 ہزار شہدا کے لواحقین کو امریکا اور نیٹو سے معاوضہ طلب کرنے کا حق نہیں دیا جانا چاہیے؟
امریکی سیاست کا محور امریکا کے قومی مفادات ہیں، امریکا چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا سرپرست ہے لہٰذا امریکا کے قومی مفادات سرمایہ دارانہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کے بالواسطہ جبر سے ہر روز 50 ہزار کے لگ بھگ نومولود بچے دودھ اور معقول غذا کی عدم دستیابی سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں، ہر سال لاکھوں انسان بھوک، بیماری سے موت کا شکار ہو رہے ہیں، کیا ان کے لواحقین کو سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ امریکا سے معاوضہ طلب کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے؟
سعودی عرب امریکا کا اتحادی رہا ہے۔ سعودی عرب دنیائے اسلام میں بوجوہ محترم ہے، سعودی عرب سے تعلقات کی خرابی دنیائے اسلام پر اثرانداز ہو سکتی ہے جو عملاً معاشی اور جنگی اسباب پیدا کر سکتی ہے۔ سعودی حکومت نے اس بل کی منظوری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ اس بل کی منظوری کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے، خود امریکی ری پبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قانون ساز اس حوالے سے آنے والی مشکلات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکا کے بین الاقوامی تعلقات پر بہت منفی اثرات پڑیں گے۔