یمن میں جنازے پر بمباری کا افسوسناک واقعہ

عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں اور وہ اس خطے کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر رہی ہیں۔

لاہور:
اندرونی شورش کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ اڑوس پڑوس کے ممالک کی رقابت اور دشمنی سہنے والا جزیرہ نما عرب کا ملک یمن جو قدیم اساتیری تہذیب میں ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے، اگلے روز اس کے دارالحکومت صنعا میں حوثی حکومت کے وزیر داخلہ جلال الرویشن کے والد کے جنازہ کے لیے ایک ہال میں جمع ہونے والے افراد پر اتحادی طیاروں نے بمباری کر دی جس کے نتیجے میں 100 افراد جاں بحق اور ساڑھے پانچ سو کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔ اتحادی طیاروں کی پشت پر سعودی حکومت کا نام لیا گیا ہے مگر سعودی عرب نے تردید کی ہے کہ یمن پر حملے میں اس کے جنگی طیارے شامل تھے۔


اس حملے کے بعد حوثیوں کے قائم مقام وزیر صحت غازی اسماعیل نے بتایا کہ ابھی تک مرنیوالوں اور زخمیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ ریسکیو اہلکاروں نے بمباری والی جگہ سے 20 انتہائی جلے ہوئے افراد کے جسموں کے بکھرے ہوئے حصوں کو اکٹھا کیا ہے جب کہ زیادہ افراد بمباری میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ بعض زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دی جا رہی تھی۔ بمبار طیاروں نے صنعا کے جنوبی علاقے میں جس عمارت کو نشانہ بنایا وہاں حوثی حکومت کے وزیر داخالہ جلال الرویشن کے والد کے انتقال پر سیکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع تھے ۔

اس فضائی حملے میں صنعا کے میئر عبدالقدیر ہلال بھی مارے گئے ہیں۔جب کہیں جنگ ہو رہی ہوتی تو ایسے المناک واقعات ہوتے رہتے ہیں' افغانستان' لیبیا اور شام میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں کسی طیارے نے جنازے' شادی کی تقریب' اسپتال یا اسکول اور مدرسے وغیرہ کو نشانہ بنا لیا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کے حالات خاصے سنگین ہیں۔ شام' عراق اور یمن میں ایک طرح سے جنگ جاری ہے' اس صورتحال سے نکلنے کا بہترین حل یہ ہے کہ مسلم ممالک کی قیادت آگے بڑھے اور باہمی تنازعات ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں اور وہ اس خطے کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر رہی ہیں۔
Load Next Story