سخت سیکورٹی انتظامات اولمپک پارک فوجی چھائونی میں تبدیل

برطانوی حکومت نے میگا ایونٹ کے پُرامن انعقاد کیلیے مزید 1200 فوجیوں کا دستہ طلب کرلیا

حفاظت پر مامور کیے جانے والے ٹروپس کی تعداد 18200 تک جا پہنچی

لاہور:
سخت سیکیورٹی انتظامات سے اولمپک پارک فوجی چھائونی میں تبدیل ہوگیا، برطانوی حکومت نے میگا ایونٹ کے پُرامن انعقاد کیلیے مزید1200 فوجیوں کا دستہ طلب کرلیا، گیمز کے دوران حفاظت پر مامور کیے جانے والے ٹروپس کی تعداد 18200 تک جا پہنچی، پولیس، پرائیویٹ گارڈز اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی تعینات ہوںگے، کمٹمنٹ پوری نہ کرنے والی نجی سیکیورٹی کمپنی جی 4 ایس کو اولمپک اسٹیڈیم کی حفاظت سے ہٹا دیا گیا۔

جمعے کو شیڈول افتتاحی تقریب کی فل ڈریس ریہرسل کرلی گئی، تقریب کے ڈائریکٹر ڈینی بوائل دنیا کو پروگرامز کی بھنک تک نہیں پڑنے دینا چاہتے، 10 ہزار پرفارمرز مختلف شوز میں حصہ لیں گے، مرکزی اولمپک مشعل کو روشن ہوتے دیکھنے کیلیے دنیا بھر سے ریکارڈ 120 سربراہان مملکت لندن آئیں گے، عالمی سیاست کی تپش سے کھیل بھی محفوظ نہیں، شام کے صدر بشار الاسد سمیت تین ممالک کے سربراہ یورپ میں داخلہ بند ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کرپائیں گے،27جولائی کی صبح پارلیمنٹ ہائوس میں نصب کلاک ٹاور بگ بین مسلسل تین منٹ تک بجے گا۔

پورے برطانیہ میں اس دوران مختلف اقسام کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی، ایونٹ کے دوران مختلف پارٹیز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لندن اولمپکس کے آغاز میں اب صرف دو دن باقی رہ گئے مگر برطانوی حکومت سیکیورٹی انتظامات سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی، منگل کے روز وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی سربراہی میں کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں لندن گیمز کے پُرامن اور کامیاب انعقاد کیلیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر کابینہ نے ایک ہفتے قبل ریزرو کیے گئے 1500 ٹروپس کو بھی اولمپکس کی سیکیورٹی پر مامور کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد گیمز کی حفاظت کیلیے طلب کیے جانے والے فوجیوں کی تعداد18200 تک پہنچ گئی، پہلے ہی اولمپک پارک کو فوج نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا اور اس کے اطراف میں اینٹی ایئرکرافٹ میزائل نصب کیے جا چکے ہیں۔

دیگر فوجی گاڑیوں کی آمدورفت سے اولمپک پارک کھیلوں کا مرکز ہونے سے زیادہ فوجی چھائونی کا منظر پیش کررہا ہے، اولمپکس منسٹر جیریمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ وینیوز پر سیکیورٹی اسٹاف کا لیول بدستور زیر جائزہ ہے، پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی جی4 ایس کی جانب سے بھی تربیت یافتہ گارڈز کی فراہمی کا سلسلہ جاری مگر وزرا نے فیصلہ کیا ہے کہ گیمز کی سیکیورٹی میں کوئی بھی کمی نہیں چھوڑی جانی چاہیے، اس لیے ان 1200 ٹروپس کو بھی طلب کرلیا گیا جنھیں گذشتہ ہفتے اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا تھا۔


یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے برطانوی حکومت3500 اضافی ٹروپس کو طلب کرچکی ہے۔ گیمز کی حفاظت پر تعینات کیے جانے والوں میں سے11800کا تعلق آرمی،2600 کا نیوی اور باقی فضائیہ کے ہیں، اولمپک وینیوز میں جب کھیلوں کے مقابلے عروج پر ہوں گے اس وقت مجموعی طور پر11 ہزار فوجی اہلکار سیکیورٹی کا فریضہ انجام دیں گے، انھیں پولیس، گارڈز اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کی معاونت حاصل ہوگی، برطانوی انتظامیہ نے جی 4 ایس سے اولمپک اسٹیڈیم کی حفاظت کی ذمہ داری واپس لے لی اب وینیو کے اندر سیکیورٹی معاملات مقامی کمپنیاں سنبھالیں گی۔

گیمز کا آغاز جمعے کو شیڈول افتتاحی تقریب سے ہونا ہے، جس کیلیے ڈائریکٹر ڈینی بوائل نے مختلف پروگرامز ترتیب دیے مگر ان میں سے بیشتر کو خفیہ رکھا جارہا ہے، صرف چندکی تفصیلات خود انھوں نے ہی میڈیا میں پیش کی تھیں، اس میں ایک کھیت کا منظر جبکہ ایک ایکٹ میں جادوئی افسانے کی کردار میری پوپنز کو مشہور سیریز ہیری پورٹر کے ولن لارڈ وولڈی مورٹ پر غالب آتے ہوئے دکھایا جائے گا۔

گذشتہ روز افتتاحی تقریب کی فل ڈریس ریہرسل ہوئی جس کیلیے 30ہزار تماشائیوں کو مدعو کیا گیا تھا، ان کے سامنے 10 ہزار پرفارمرز نے ٹیکنیکل ریہرسل پیش کی، اس موقع پر بوائل نے شرکا اور پرفارمرز کو سختی سے منع کررکھا تھا کہ وہ اس تقریب کے کسی بھی پروگرام کی کوئی تصویر ٹویٹر وغیرہ پر جاری نہیں کریں گے۔

جمعے کو دن کا آغاز ملک بھر میں گھنٹیوں کی گونج سے ہوگا، اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہائوس میں موجود کلاک ٹاور بگ بین 8:12 سے 8:15 تک لگاتار بجایا جائے گا، اس کی برطانوی کابینہ نے خصوصی منظوری دی ہے، گریٹ کلا ک کے کیپر مائیک میک کین کا کہنا ہے کہ روٹین سے ہٹ کر گھنٹے کو بجانے کیلیے انسانی قوت درکار ہوگی اس لیے تین منٹ کے دوران گھنٹہ دستی طور پر بجایا جائے گا۔

افتتاحی تقریب میں120 ممالک کے سربراہان مملکت شریک ہوںگے، ملکہ ایلزبتھ گیمز کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کریں گے، امریکی وفد کی قیادت خاتون اول مشل اوباما کریں گے، روس کے وزیر اعظم ڈیمرٹی آئیں گے، سوازی لینڈ کے بادشاہ سمیت کئی شاہی شخصیات موجود ہوںگی۔
Load Next Story