بنگلہ دیش71 کے جنگی جرائم تحقیقاتی ٹریبونل کے سربراہ مستعفی

انعام الحق کی سربراہی میں قائم ٹریبونل2010 میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد جنگی جرائم کے مشتبہ افرادپرمقدمہ چلانا تھا۔

انھوں نے سیکریٹری قانون کے نام اپنے استعفیٰ کی وجہ ذاتی بتائی ہے۔ ۔فوٹو : فائل

بنگلہ دیش میں 1971ء کی جنگ کے جنگی جرائم کی تحقیقات کیلیے قائم کیے گئے ٹریبونل کے چیف جج نظام الحق اپنی کالیں ہیک کیے جانے اور گفتگواخبارات میں چھپنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔


انھوں نے سیکریٹری قانون کے نام اپنے استعفیٰ کی وجہ ذاتی بتائی ہے۔ بنگلہ دیش کے نائب وزیرقانون نے اے ایف پی کوبتایا کہ نامعلوم ہیکروں نے گزشتہ ہفتے ان کی کالیں ہیک کرکے یوٹیوب پررکھ دی تھیں جن میں وہ زیرسماعت کیسوں کے بارے میں گفتگوکرتے سنائی دیتے ہیں۔17گھنٹے کی یوٹیوب پر گفتگوکواپوزیشن کے حامی اخبار امردیش نے شائع کردیا۔ان کالوں میں نظام الحق کی گفتگومیں مبینہ طورپریہ بتایا گیا ہے کہ حکومت ان پر جلد فیصلوں کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ وہ ایک قانونی ماہرسے یہ کہتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ حکومت پاگل ہوگئی ہے جوجلدفیصلہ چاہتی ہے۔

انعام الحق کی سربراہی میں قائم انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل2010ء میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد جنگی جرائم کے مشتبہ افرادپرمقدمہ چلانا تھا۔ اس ٹریبونل کے حوالے سے عوامی لیگ کی حکومت پرالزام لگایاجاتاہے کہ یہ اس نے اپنے مخالفین کوتنگ کرنے کیلیے سیاسی آلے کے طورپرقائم کیاہے۔اب تک جماعت اسلامی کے 9 اوربی این پی کے دورہنماؤں کے خلاف اس ٹریبونل میں مقدمے چلائے جارہے ہیں۔یہ دونوں اپوزیشن جماعتیں اس ٹریبونل کومستردکرچکی ہیں۔
Load Next Story