پاک فرانس تعاون بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے پر اتفاق

اضافی تجارتی مواقع کے حصول، توانائی بحران اور شدت پسندی کے خاتمے کیلیے پاکستان کی ہر ممکن مدد کرینگے، فرانسیسی صدر

انقرہ:ترک صدر عبداللہ گل کی جانب سے دیے گئے عشایئے میں صدر آصف علی زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستان اور فرانس نے تعلیم، صحت، معیشت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔

پیرس کے ایلسے پیلس میں فرانسیسی صدر فرانکوئس ہالینڈی اور صدر آصف زرداری نے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنی بات چیت کو اطمینان بخش اور حوصلہ افزا قرار دیا جس کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ صدر زرداری نے کہا پاکستان اور فرانس اچھے پارٹنر ہیں، توقع ہے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان لڑکوں اور لڑکیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کیلیے کوششیں کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ہماری مستقبل کی نسلوں کو دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پڑھنے لکھنے اور معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ ملالہ یوسف زئی کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔




ہم نے جمہوریت کے فروغ اور دہشت گردی کی ذہنیت کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ ہم نے تعلیم، صحت، دفاع اور معیشت کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی۔ فرانس نے صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی پیشکش کی۔ فرانس پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ہر ممکن مدد اور تعاون کرے گا۔ ہم نے افغانستان کے مستقبل، دہشت گردی اور منشیات کے مسئلہ سے نمٹنے کا بھی جائزہ لیا جو دنیا کا بڑا مسئلہ ہے اور اس کے حل کیلئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کے دوران ایٹمی معاملے کے علاوہ خطے میں سلامتی اور استحکام کیلیے پاکستان کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مدد دی جا سکے۔ قبل ازیں فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران صدر زرداری کہا کہ پاکستان فرانس کے ساتھ جامع اور کثیر الجہتی شراکت داری، تجارتی تعلقات میں اضافہ اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کے لیے نئے مواقع چاہتا ہے۔ انھوں نے اضافی تجارتی اور مارکیٹ رسائی کی سہولتوں پر زور دیا۔ صدر نے فرانسیسی سرمایہ کاروں کو توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، زرعی صنعتوں، انفراسٹرکچر اور مواصلاتی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پیشکش کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان جنگ زدہ اور سانحات سے متاثرہ اپنی معیشت کے استحکام کے لیے زیادہ تجارتی مواقع کا خواہاں ہے۔

پاکستان جی ایس پی اسکیم پر نظرثانی کے لئے یورپی یونین کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے اور جی ایس پی پلس درجہ کا خواہاں ہے۔ پاکستان افغان عوام کی زیر قیادت افغانستان میں مفاہمتی اور امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ فرانس اضافی تجارتی مواقع کیلیے پاکستان کی کوششوں اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اس کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ہر ممکن امداد فراہم کرے گا۔ انھوں نے صدر زرداری کو تعلیمی شعبے میں تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ فرانسیسی صدر نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر لی۔ اقوام متحدہ کے خصوصی تعلیمی نمائند ے اورسابق برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون سے ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان ابتدائی تعلیم سب کیلیے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان ملالہ یوسف زئی کے نصب العین کو اجاگر کرنے کیلیے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے تعاون کوبہت قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے۔گورڈن برائون نے پاکستان میں خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مددجاری رکھنے کا یقین دلایا۔ علاوہ ازیں صدر زرداری پاکستان، افغانستان اور ترکی کے ساتویں سہ فریقی سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے ترکی کے تین روزہ سرکاری دورہ پر انقرہ پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر انکا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر السلام، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور دیگر حکام بھی صدر کے وفد میں شامل ہیں۔ صدر زرداری، ترک صدر عبداللہ گل، ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
Load Next Story