مساجد مدارس کے یوٹیلٹی بلز میں اضافہ واپس لیا جائے حنیف جالندھری
غیرملکی طلبہ کے مدارس میں داخلوں کی راہ میں رحمٰن ملک رکاوٹ ہیں ، مفتی نعیم
غیرملکی طلبہ کے مدارس میں داخلوں کی راہ میں رحمٰن ملک رکاوٹ ہیں ، مفتی نعیم ، فوٹو : فائل
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری نے حکومت اور اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ مدارس مساجد اور مذہبی طبقے کے خلاف جانبدارانہ رویہ ترک نہ کیا گیا اور ظالمانہ فیصلے واپس نہ لیے گئے تو ہزاروں مدارس کے لاکھوں طلبہ اور کروڑوں اسلام پسند پاکستانی راست اقدام پر مجبور ہوں گے ۔
وفاق المدارس کے تحت ملک گیر کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان ہوگا، علما، طلبہ ،مدارس پر حملے اسلام دشمنی اور عالمی سامراج کی سازش ہے ، مساجد اور مدارس کو کمرشل قرار دیکر یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں ،غیر ملکی مذہبی طلبہ کی راہ میں اصل رکاوٹ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمٰن ملک ہے۔وہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم اور جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
قاری حنیف جالندھری نے کہاکہ کہ ملک اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے ، پورا ملک خصوصاً کراچی مقتل کا منظر پیش کر رہا ہے ، روزانہ بے گناہ عوام کی جانوں سے کھیلا جارہاہے ۔ ملالہ پر حملے کو تعلیم پر حملہ قرار دیا جارہاہے لیکن علماء اور طلبہ پر حملے اور شہادتوں پر لوگ خاموش کیوں ہیں۔ حکومت کا رویہ ہمیں ملک گیر احتجاج کرنے پر مجبور کررہاہے ،انھوں نے کہاکہ وفاق المدارس کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں کنونشن منعقد ہوں گے بعدازاں ملک گیر کنونشن ہوگا اس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی دھرنا ہوگا ۔
مدارس اور مساجد کو کمرشل اداروں میں شامل کرکے ان کے یوٹیلٹی بلز میں3000فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس کی ہم مذمت اورمطالبہ کرتے ہیں اس کو واپس لیا جائے ۔مفتی نعیم نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن یہاں غیر ملکی طلبہ کے مدارس میں داخلے پر پابندی ہے اور یونیورسٹیوں میں نہیں ، بھارت نے ایک سیکولر ملک ہوتے ہوئے بھی مدارس کے طلبہ کے لیے ایئر پورٹ پر ہی ویزے کی سہولت فراہم کی ہے۔انھوں نے کہاکہ اس مسئلے کے حل میں اصل رکاوٹ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک ہیں۔قاری عثمان نے کہاکہ علماء کو اتنا مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سروں پر کفن باندھ کر میدان میں کود پڑیں اگر یہ بوریا نشین میدان میں آگئے تو کوئی قوت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
وفاق المدارس کے تحت ملک گیر کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان ہوگا، علما، طلبہ ،مدارس پر حملے اسلام دشمنی اور عالمی سامراج کی سازش ہے ، مساجد اور مدارس کو کمرشل قرار دیکر یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں ،غیر ملکی مذہبی طلبہ کی راہ میں اصل رکاوٹ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمٰن ملک ہے۔وہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم اور جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
قاری حنیف جالندھری نے کہاکہ کہ ملک اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے ، پورا ملک خصوصاً کراچی مقتل کا منظر پیش کر رہا ہے ، روزانہ بے گناہ عوام کی جانوں سے کھیلا جارہاہے ۔ ملالہ پر حملے کو تعلیم پر حملہ قرار دیا جارہاہے لیکن علماء اور طلبہ پر حملے اور شہادتوں پر لوگ خاموش کیوں ہیں۔ حکومت کا رویہ ہمیں ملک گیر احتجاج کرنے پر مجبور کررہاہے ،انھوں نے کہاکہ وفاق المدارس کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں کنونشن منعقد ہوں گے بعدازاں ملک گیر کنونشن ہوگا اس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی دھرنا ہوگا ۔
مدارس اور مساجد کو کمرشل اداروں میں شامل کرکے ان کے یوٹیلٹی بلز میں3000فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس کی ہم مذمت اورمطالبہ کرتے ہیں اس کو واپس لیا جائے ۔مفتی نعیم نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن یہاں غیر ملکی طلبہ کے مدارس میں داخلے پر پابندی ہے اور یونیورسٹیوں میں نہیں ، بھارت نے ایک سیکولر ملک ہوتے ہوئے بھی مدارس کے طلبہ کے لیے ایئر پورٹ پر ہی ویزے کی سہولت فراہم کی ہے۔انھوں نے کہاکہ اس مسئلے کے حل میں اصل رکاوٹ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک ہیں۔قاری عثمان نے کہاکہ علماء کو اتنا مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سروں پر کفن باندھ کر میدان میں کود پڑیں اگر یہ بوریا نشین میدان میں آگئے تو کوئی قوت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔