خواتین کی بہبود کے قوانین اور عمران خان

عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہیں گئے، پارلیمنٹ نے عورتوں کے حقوق کے لیے تاریخی قوانین منظورکرلیے۔

tauceeph@gmail.com

عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہیں گئے، پارلیمنٹ نے عورتوں کے حقوق کے لیے تاریخی قوانین منظورکرلیے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے 2015میں غیرت کے نام پر قتل اور خواتین پر مجرمانہ حملے کے بارے میں قوانین کے مسودے سینیٹ میں پیش کیے تھے۔ لیکن بعض حلقوں کی مخالفت کی بنا پر یہ التواء کا شکار تھے۔ حکومت ان قوانین کو منظورکرانے کے لیے پارلیمنٹ میں لے گئی۔ دونوں ایوانوں کی اکثریت نے ان قوانین کی منظوری دے دی۔

سینیٹر فرحت اللہ بابرکے تجویزکردہ مسودہ قانون میں درج کیا گیا ہے کہ اگر کوئی قریبی رشتے دار اپنی عزیزہ کے قتل کے الزام میں ملوث قریبی رشتے دارکو معاف بھی کردے تو عدالت ملزم کو عمر قید تک کی سزا دے سکتی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر اور شیری رحمن کی تجویز کہ غیرت کے نام پر قتل کو non compoundable offence قرار دیا جائے۔

اسی سال قندیل بلوچ کے ملتان میں، ماریہ کو مری، مہرین کو ایبٹ آباد ، نازمہ کے قصورمیں قتل کے بعد یوں محسوس ہورہا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ رک نہیں سکے گا کیونکہ ملکی قوانین اس جرم کے مرتکب افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہر سال ایک ہزارکے قریب خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوجاتی ہیں۔ قتل کرنے والے ان کے قریبی رشتے دار ہوتے ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر تحقیق کرنے والی مصنفہ سعدیہ بلوچ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل پیچیدہ معاملہ ہے، عمومی طور پر مخالفین کو سزا دینے اور خواتین کومحض گھروں میں بند کر نے کے لیے غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ قتل میں ملوث باپ، بھائی، ماں اور بہنیں ہوتی ہیں۔ سعدیہ بلوچ لکھتی ہیں کہ بالائی سندھ ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں اپنی عزیزہ کے ساتھ مخالفین کو قتل کرتے ہیں اور قتل کی وارداتوں کو عزت کے نام پر قتل قراردیتے ہیں۔

ان افراد کے قریبی عزیز انھیں معاف کردیتے ہیں کہ نوجوان فخرکے ساتھ جیل سے رہا ہوتے ہیں اور زندگی بھر مزے کرتے ہیں جب سے دیہی علاقوں میں خواتین کی تعلیم کو اہمیت دی جانے لگی ہے خواتین تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے پیشے کا خود انتخاب کرنے لگی ہیں اور شادی کے لیے شریک حیات کے انتخاب کا حق استعمال کرنے لگتی ہیں توخاندانی جائیداد تقسیم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس کا حل والد، بھائی ، بہن، چچا ، ماموں،خالہ زاد، پھوپھی زاد بھائی، بیٹی اور اس کے محبوب کو قتل کر کے نکالتے ہیں ۔ عمومی طور والد یا والدہ اپنے عزیزکو معاف کردیتی ہیں یوں یہ ملزمان رہا ہوجاتے ہیں۔

دیہی کلچر پراتھارٹی رکھنے والے صحافی اختر بلوچ کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے کا سلسلہ دیہی علاقوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی ہوتا ہے۔ ناخواندہ افراد کے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اپنی بیویوں، ماؤں اوربیٹیوں کو قتل کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، یوں خواتین گھروں سے اپنی جان بچا کر اپنے محبوب کے ساتھ بڑے شہر پہنچ کر عدالتوں سے تحفظ حاصل کرتی ہیں۔

کچھ عرصے بعد ان خواتین اوران کے شوہروں کو قتل کردیا جاتا ہے، بعض شادی شدہ جوڑوں کو تو دس دس سال بعد بھی قتل کیا گیا ہے۔ اخبارات اورالیکڑانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس طرح کی وارداتوں کی کوریج نے وارداتوں کو بڑھاوا دیا تو سماجی ماہرین کے علاوہ وکلاء اور قانون دانوں کو بھی اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوا۔


بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش ،افغانستان، بھارت اور عرب ممالک میں غیرت کے نام پر قتل کی روایت پائی جاتی ہے۔ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے جو خاندان ہجرت کرکے یورپ، امریکا اورکینیڈا میں آباد ہوچکے ہیں مغربی ممالک میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے ان ایشیائی باشندوں کی زندگی تبدیل ہو گئی ہے۔

لڑکوں کے علاوہ لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کرتی ہیں اور مرد مغربی روایات سے خوب استفادہ کرتے ہیں مگر جب ان کی لڑکی جوان ہوتی ہے تو وہ اپنے آبائی علاقے میں کسی قریبی رشتے دارکے لڑکے سے بیٹی کا رشتہ طے کرتے ہیں تو عموما لڑکیاں ان فیصلوں کو قبول نہیں کرتیں اگر کوئی ایشیائی لڑکی کسی یورپی لڑکے کو پسند کر لے تو پھر ان کی غیرت جاگ جاتی ہے۔ یورپ امریکا اورکینیڈا میں والدین کے ہاتھوں بچوں کے قتل کی خبریںشایع ہوتی ہیں۔ ان خاندانوں کے دہرے معیار کی بناء پر تمام ایشیائی باشندوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

برطانیہ میں برسوں سے آباد ایک خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی کو اس کے والدایک منصوبے کے تحت گجرات لائے، جہاں اس کے شوہر نے اسے قتل کردیا۔ والدین نے اپنی بیٹی کی موت کو خودکشی قرار دیا۔ اس لڑکی نے اپنے پہلے شوہرکو چھوڑ کرایک اور نوجوان سے شادی کرلی تھی۔اس نوجوان کی اپیل پر برطانوی وزیراعظم نے نواز شریف کو خط لکھا، پولیس نے دوبارہ تحقیقات کیں، اس کے والد اور سابق شوہرگرفتار ہوئے۔

غیرت کے نام پر قتل کی روایت کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مغلوں کے دور میں اس طرح کا قتل اعزازکی بات سمجھی جاتی تھی۔ انگریزوں نے ستی کی رسم پر پابندی کے بعد غیرت کے نام پر قتل کو قتل عمد قرار دیا تھا اور تعزیرات ہند کی دفعہ 302کے دائرے میں اس جرم کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد غیرت کے نام پر قتل کو ورثا سے معافی سے منسلک کردیا گیا تھا۔ یوں عورتوں اورمخالفین کو قتل کرکے باعزت زندگی گذارنے کا ایک نیا راستہ کھل گیا تھا۔بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی پارلیمنٹ کے منظورکردہ قانون کو ناقص قانون قراردیتی ہے۔

پارٹی کے سیکریٹری جنرل فاروق کا کہنا ہے کہ اس قانون میں غیرت کے نام پر قتل کو compoundable offecnce قرار دیا گیا ہے، یہ non compoundable offenceہونا چاہیے ۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے 2015میں ریپ کے مقدمے میں ڈی این اے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کا قانون پیش کیا تھا۔ فرحت اللہ بابر اور شیری رحمان کا یہ موقف تھا کہ عموما ریپ کے واقعے کے عینی گواہ دستیاب نہیں ہوتے مگر جینیات کے علم میں ہونے والی ترقی کے بعد ڈی این اے کا ٹیسٹ تیار ہوا۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے انسانی خلیوں کی شناخت ہوتی ہے۔

ریپ کے معاملے میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے یہ پتا چل جاتا ہے کہ واقعے کا ملزم کون ہے مگر اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈی این اے کو ریپ کے مقدمے کو بطور شہادت قبول کرنے سے انکارکیا۔ بدقسمتی سے کونسل میں میڈیکل سائنس کا کوئی ماہر موجود نہیں تھا جو ان اراکین کو ٹیسٹ کی اہمیت سے آگا ہ کرسکے۔ یہ معاملہ 2015سے التواء کا شکار تھا۔

عالمی شہرت یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کی آسکرایورڈ یافتہ فلم کی نمائش وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی۔ یہ فلم غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر بنائی گئی تھی ۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ یہ فلم دیکھی تھی۔ وزیراعظم نے اسی وقت اعلان کیا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کے قانون کو پارلیمنٹ سے منظورکرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ریپ کے مقدمے میں ڈی این اے ٹیسٹ کو شامل کرنے کا قانون بھی پارلیمنٹ سے منظورکرانے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔ اس قانون کے تحت بچوں اورذہنی وجسمانی افراد کو ریپ کرنے والے ملزم کو موت کی سزا سنائی جائے گی۔ اس قانون کی منظوری سے عدالتوں کو ملزمان کو سزا دینا آسان ہوگا اور ریپ کا جھوٹا الزام لگانے والے سزا کے مستحق ہوں گے۔ بدقسمتی سے ان بلوں کی موجودگی کے وقت پارلیمنٹ کے اراکین کی اکثریت موجود نہیں تھی۔

پارلیمنٹ سے تحریک انصاف کے اراکین کی غیرحاضری کا معاملہ بھی اہم ہوگیا۔ تحریک انصاف کے اراکین بھی ان قوانین کی حمایت کا اعلان کرتے تو پارلیمنٹ کے اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو جاتی مگر شاید عمران خان کے نزدیک ایسی قانون سازی اہمیت نہیں رکھتی ۔ عمران خان کے ارد گرد جمع ہونے والی خواتین کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے، ان قوانین کی منظوری سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے۔ امریکی وزات خارجہ نے ان قوانین کی منظوری کو تاریخی واقعہ قرار دیا ہے مگر خواتین کی بہبود کا معاملہ ابھی اختتام کو نہیں پہنچا، ان قوانین کے بارے میں آگاہی مہم منظم ہونی چاہیے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو ان قوانین پر عمل درآمد میں رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل تیارکرنا چاہیے۔
Load Next Story