مالی شمولیت اقوام متحدہ کی رکاوٹیں ہٹانے میں مدد کی پیشکش
گورنراسٹیٹ بینک سے ڈچ ملکہ کی واشنگٹن میں ملاقات، یورومنی کے ایوارڈ پرمبارکباد دی
اشرف محمود وتھرانے معاشی حالات، اصلاحات اور مالی شمولیت حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ فوٹوـ: فائل
نیدر لینڈز کی ملکہ میکسیما نے واشنگٹن میں گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا سے ملاقات کی اور انھیں یورو منی کی جانب سے بہترین مرکزی بینک گورنر ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کی۔ یاد رہے کہ ملکہ میکسیما مالی شمولیت برائے ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نمائندہ خصوصی بھی ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکہ میکسیما کو پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری کے بارے میں آگاہ کیا اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل اور اس دوران معاشی استحکام و نمو برقرار رکھنے کے لیے متعدد اہم اصلاحات پر روشنی ڈالی۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھاکہ پاکستان مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی میں طے کردہ اہداف پرتسلسل کے ساتھ کامیابی حاصل کر رہا ہے، جون 2016 تک ملک میں ڈیڑھ کروڑ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے جاچکے ہیں، اس ضمن میں ایک برس میں 34 فیصد نمو ہوئی، اس کے ساتھ بینکوں نے مختصر مدت میں کم خطرے کے حامل صارفین کے لیے 10 لاکھ سے زائد آسان اکاؤنٹس کھولنے کا سنگ میل عبور کیا۔
مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی پر عمل درآمد کرنے کے لیے نجی شعبے کی سربراہی کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کو فعال کردیا گیا ہے تاکہ وہ مالی نظام کے استعمال اور رسائی میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف امور سے متعلق عملی منصوبوں کو ٹھوس شکل دے سکیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکہ کو حالیہ قانونی اصلاحات بشمول محفوظ لین دین کے قانون کے نفاذ پر بھی بریفنگ دی جس سے پاکستان میں منقولہ اثاثوں کے برقی اندراج کی راہ ہموار ہوگی۔
مزید برآں پارلیمنٹ کی جانب سے کریڈٹ بیورو ایکٹ منظور اور ضبطی کے قوانین کو بھی مضبوط کیا گیا ہے، ان اقدامات سے ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر ملکہ میکسیما نے پاکستان میں مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کم آمدن افراد کو مالی رسائی میں اضافے کے لیے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں مالی شمولیت کے فروغ کے لیے ذاتی دلچسپی ظاہر کرنے پر نیدرلینڈز کی ملکہ کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں اسٹیٹ بینک کے مشیر اعلیٰ برائے معاشی امور ڈاکٹر سعید احمد اور یو این ایس جی اے کے ڈائریکٹر ایرک ڈفلوس نے بھی شرکت کی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکہ میکسیما کو پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری کے بارے میں آگاہ کیا اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل اور اس دوران معاشی استحکام و نمو برقرار رکھنے کے لیے متعدد اہم اصلاحات پر روشنی ڈالی۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھاکہ پاکستان مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی میں طے کردہ اہداف پرتسلسل کے ساتھ کامیابی حاصل کر رہا ہے، جون 2016 تک ملک میں ڈیڑھ کروڑ ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھولے جاچکے ہیں، اس ضمن میں ایک برس میں 34 فیصد نمو ہوئی، اس کے ساتھ بینکوں نے مختصر مدت میں کم خطرے کے حامل صارفین کے لیے 10 لاکھ سے زائد آسان اکاؤنٹس کھولنے کا سنگ میل عبور کیا۔
مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی پر عمل درآمد کرنے کے لیے نجی شعبے کی سربراہی کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کو فعال کردیا گیا ہے تاکہ وہ مالی نظام کے استعمال اور رسائی میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف امور سے متعلق عملی منصوبوں کو ٹھوس شکل دے سکیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکہ کو حالیہ قانونی اصلاحات بشمول محفوظ لین دین کے قانون کے نفاذ پر بھی بریفنگ دی جس سے پاکستان میں منقولہ اثاثوں کے برقی اندراج کی راہ ہموار ہوگی۔
مزید برآں پارلیمنٹ کی جانب سے کریڈٹ بیورو ایکٹ منظور اور ضبطی کے قوانین کو بھی مضبوط کیا گیا ہے، ان اقدامات سے ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر ملکہ میکسیما نے پاکستان میں مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کم آمدن افراد کو مالی رسائی میں اضافے کے لیے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں مالی شمولیت کے فروغ کے لیے ذاتی دلچسپی ظاہر کرنے پر نیدرلینڈز کی ملکہ کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں اسٹیٹ بینک کے مشیر اعلیٰ برائے معاشی امور ڈاکٹر سعید احمد اور یو این ایس جی اے کے ڈائریکٹر ایرک ڈفلوس نے بھی شرکت کی۔