تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی

بھارت کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ پاکستان کشمیر میں لڑنے والے گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، اس کی اصل وجہ کو جانے بغیر اگر اس کشیدگی کو کم یا ختم کرنے کی کو شش کی گئی تو اس کے مثبت نتائج نکلنے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک اور اقوام متحدہ دونوں ملکوں کو مذاکرات کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بلاشبہ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑتا ہے اگر دو ملکوں کے خلاف باضابطہ جنگ بھی ہو رہی ہو تو اس کا حل بھی مذاکرات ہی کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔

افغانستان میں ہونے والی دہشتگردی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے پچھلے ہفتے افغان حکومت اور گلبدین حکمت یار کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جو مذاکرات ہی کا نتیجہ تھا، امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور بھارت سے اس کے تعلقات کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت کے علاوہ فوجی معاہدوں سمیت کئی شعبوں میں تعاون کا سلسلہ جاری ہے، اگر امریکا تجارتی اور فوجی مفادات کو اصولی سیاست اور اصولی خارجہ پالیسی کے تابع رکھے تو بھارت پاکستان کے درمیان موجود مسئلہ کشمیر ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا مسئلہ، مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے۔

بھارت کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ پاکستان کشمیر میں لڑنے والے گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ بھارت کا یہ الزام درست ہو سکتا ہے لیکن بھارت پاکستان پر جب دراندازی کی سرپرستی کرنے کا الزام لگاتا ہے تو یہ بھول جاتا ہے کہ وہ چھ سات لاکھ فوج کے ساتھ کشمیر میں خود ریاستی دراندازی کر رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بھارتی حکمرانوں نے انتہائی بد نیتی سے اپنا وعدہ بھلا دیا اور اب وہ اس وعدے کو رات گئی بات گئی کہہ کر ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اقوام متحدہ میں آج بھی کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہی ہے لیکن بھارت کا حکمران طبقہ اس مسئلے کے گہرے مضمرات سے آنکھیں بند کر کے ''کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے'' کی رٹ لگا رہا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو بڑی جنگوں کے باوجود کشمیر میں لڑائی ''در اندازوں کے حملوں'' تک محدود تھی لیکن اب صورتحال میں مصنوعی تبدیلی آ گئی ہے۔ اب کشمیری عوام بذات خود اس لڑائی کا حصہ بن گئے ہیں۔ کشمیر کی بد ترین صورتحال کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تین ماہ سے زیادہ عرصے سے کرفیو نافذ ہے اور کشمیری عوام کرفیو توڑ کر بھارتی فوجوں پر حملے کر رہے ہیں۔

اب تک سو سے زیادہ کشمیری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو گئے ہیں۔ دنیا ٹی وی اسکرین پر ہر روز کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے مظالم کا مشاہدہ کر رہی ہے، آنسو گیس، پیلٹ گن اور گولیوں کی آواز سے ساری وادی گونج رہی ہے، ان حقائق کے پیش نظر بھارتی حکمران طبقہ اب دنیا کو یہ باور کرانے کے قابل نہیں رہا کہ پاکستان کے بھیجے ہوئے دہشتگرد کشمیر کا امن خراب کر رہے ہیں۔


بھارت بلا شبہ پاکستان سے پانچ گنا زیادہ فوجی طاقت رکھتا ہے۔ 1965ء اور 1971ء میں فوجی طاقت کی اسی برتری کی وجہ سے وہ پاکستان پر حملہ کرنے کے قابل تھا لیکن آج کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ مسئلہ اب روایتی جنگ کا نہیں رہا اب دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ اب روایتی جنگ کی طرف جائیں تو سر پر ایٹمی جنگ منڈلانے لگتی ہے اور ایٹمی جنگ کیا ہوتی ہے۔ اس کا مشاہدہ دنیا نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بموں کی لائی ہوئی تباہی سے کر لیا ہے۔

1945ء میں جاپان ایٹمی طاقت نہیں تھا صرف امریکا ایٹمی طاقت تھا لہٰذا جاپان امریکا پر جوابی ایٹمی حملے نہیں کر سکتا تھا۔ اسی صورت حال کی وجہ سے جاپان میں لڑی جانے والی یہ ایٹمی جنگ امریکا کی طرف سے دو ایٹم بم گرانے تک ہی محدود رہی لیکن ان دو معمولی طاقت کے ایٹم بموں نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی کو جس طرح جلا کر خاک کر دیا اور لاکھوں جاپانی دو ایٹم بموں کی آگ میں جس طرح جل کر خاک ہو گئے اس کا ماتم آج تک کیا جا رہاہے۔

آج کے برصغیر کی صورت حال 1945ء کی جاپان کی صورت حال سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس 1945ء میں جاپان پر استعمال کیے جانے والے ایٹم بموں سے کئی گنا زیادہ طاقتور ایٹم بم سیکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی احمقانہ کوشش کی تو کمزور پاکستان کے پاس اپنے بچاؤ کا واحد ذریعہ ایٹمی ہتھیار ہی ہو گا۔

اگر پاکستان کو ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کر دیاگیا تو پھر یہ دو طرفہ ایسی ایٹمی جنگ ہو گی جو پورے برصغیر کو ہیروشیما اور ناگا ساکی کی طرح جلا کر رکھ دے گی۔ کیا اس ایٹمی جنگ میں کوئی بچے گا؟ اس سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں، اس تباہ کن پس منظر میں بھارتی قیادت کو بار بار سوچنا چاہیے کہ پاکستان پر روایتی ہتھیاروں سے کیا جانے والا ممکنہ حملہ دونوں ملکوں کو ایٹمی جنگ میں ملوث کر دے گا۔

کشمیر کی صورت حال میں اب ایک جوہری تبدیلی آ گئی ہے اب کشمیری عوام اس جنگ کے باضابطہ فریق بن چکے ہیں اور حقائق سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کشمیری عوام کو اب فوجی قوت سے دبایا نہیں جا سکتا، یہ لڑائی جتنی طویل ہوتی جائے گی مسئلہ کشمیر اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ اس حوالے سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اعتدال پسند مذہبی جماعتیں بھی انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرنے لگیں گی۔

اگرچہ مذہبی جذبات کبھی اعتدال پسند نہیں ہوتے لیکن دنیا میں پھیلی ہوئی بے لگام دہشتگردی کی تباہ کاریوں نے مذہبی جماعتوں کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اعتدال میں رہیں لیکن دونوں ملکوں کی انتہائی کشیدہ صورتحال اعتدال پسندوں کو بھی اب انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''بھارت میں اب کئی پاکستان بنیں گے، ڈھاکا کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے، نئی دہلی سے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں'' اس کے جواب میں بھارت کی مذہبی جماعتیں بھی وہی زبان اختیار کریں گی جو جماعت کے امیر نے کی ہے یہ ایسے خوفناک حقائق ہیں کہ بھارت کے اہل عقل، اہل دانش اور میڈیا کو آگے بڑھ کر بھارتی حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر راضی کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ''تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں'' والا معاملہ ہو جائے گا۔
Load Next Story