کپتان صاحب ’’ہم‘‘ سے ’’میں‘‘ تک

جناب کپتان صاحب جو کچھ کرتے کہتے اور بولتے پھر رہے ہیں اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں

barq@email.com

جناب کپتان صاحب جو کچھ کرتے کہتے اور بولتے پھر رہے ہیں اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں، یہ ہمارے لیول سے بہت اونچے معاملات ہیں اور ایسے اونچے معاملات کے بارے میں مرشد شیراز نے کہا ہے کہ

امور مصلحت ملک خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش

ویسے بھی ہمیں کیا کوئی آئے کوئی جائے، پٹواری اور تھانیدار تو وہی رہیں گے جن تک ہماری رسائی ہے، ایک شخص ملا نصیر الدین کے پاس دوڑا دوڑا آیا اور بتایا کہ میں نے بادشاہ کے آدمی کو دیکھا جو ایک بڑا سا خوانچہ اٹھائے ہوئے تھا، ملا نے کہا بادشاہ کا آدمی خوانچہ اٹھائے ہوئے تھا تو مجھے کیا؟ وہ آدمی بولا مگر وہ تمہارے کوچے تمہارے گھر کی طرف مڑ گیا ۔ اس پر ملا نے کہا وہ خوانچہ میرے گھر دے گیا تو تجھے کیا؟

ہمیں جن سے واسطہ تھا، ہے اور رہے گا وہ وہی رہیں گے چاہے تخت اسلام آباد پر کوئی بھی بیٹھا ہو، تبدیلی کا زلزلہ کتنے سال ہوئے کم از کم ہمارے صوبے میں تو آیا ہوا لیکن ہم تک پہنچتے پہنچتے اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ کوئی جھٹکا محسوس ہی نہیں ہوتا، اس لیے ہمیں ان اونچے لیول کی باتوں سے کوئی خاص سروکار نہیں ہے کہ نہ میاں صاحبان ہمارے خلیرے بھائی ہیں اور نہ کپتان صاحب چچیرے بھائی ہیں حتیٰ کہ پرویز خٹک جو ہمارے ہم ضلع ہم حلقہ اور ہمسایہ ہے اسے بھی یہ تک معلوم نہیں کہ کبھی فتراک میں میرے کوئی نچخیر بھی تھا یا ہے، لیکن اس لاتعلقی کے باوجود بعض باتوں پر دھیان چلا ہی جاتا ہے، مثلاً جب سے کپتان صاحب کو اپنی طاقت کا احساس ہونے لگا ہے لاہور کے پہلے جلسے اسلام آباد کے دھرنے، ایک صوبے پر قبضے اور پرستاروں کے ہجوم میں اضافے نے ان کے اندر بھی تبدیلیوں کا سفر شروع کیا ہے ان کے بیانات سے ''ہم'' مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا اور اس کی جگہ ''میں'' کا مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا، کریں گے کر دیں گے کی جگہ کروں گا، کر دوں گا کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اب تو رائے ونڈ کے بعد وہ مکمل طور پر ''میں'' ہو گئے ہیں، جیسے وہ مسلسل زمین سے بلند ہو رہے ہیں اور آسمان کے قریب ہوتے جا رہے ہیں، فطری طور پر ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اور یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ جلسہ گاہ میں اوپر سے نزول ہو رہا ہے بے چارے براتی دھوپ مٹی اور گرد و غبار پھانک پہنچتے ہیں اور دولہا اوپر آسمان کی بلندیوں سے اترتا ہے۔


دنیاوی تاریخ میں بھی ایسا ہوتا تھا کہ فوج یا تو پیدل ہو کر لڑتی تھی یا گھوڑوں پر سوار ہو کر اور بادشاہ سلامت ہاتھی پر بہت دور بہت بلند ہو کر قیادت کرتے تھے اور یہ ایک لحاظ سے درست بھی ہوتا تھا کہ جو جان قیمتی ہوتی ہے اس کا خاطر خواہ حفاظتی انتظام کرنا پڑتا ہے کیونکہ جس لشکر کا قائد نہ رہے اس کی شکست ہونا یقینی ہو جاتی ہے اور جناب کپتان صاحب کا لشکر ابھی نیا نیا ہے اور وہ اسے کئی کئی محاذوں پر جھونکتے بھی رہتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ ابھی اس پارٹی کے پاس کوئی شہید یا کوئی مزار بھی نہیں ہے کہ قائد کے بعد بھی دھرنے کا کاروبار چلے اس لیے ہم حفاظتی انتظامات پر معترض نہیں ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت اگر واقعی جمہوریت ہو تو وہ تصوف کی طرح ہوتی ہے اور تصوف میں ''میں'' کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی، تصوف اور جمہوریت دونوں میں ''ہم'' پر زور دیا جاتا ہے۔ مگر جب ''ہم'' گم ہو کر رہ جاتا ہے اور اس بدنصیب ملک کے ساتھ تو یہی بدنصیبی مستقل لگی ہوئی ہے کہ یہاں جو بھی آتا ہے نعرہ ''ہم'' کا لگاتا ہے لیکن جب منزل پر پہنچ جاتا ہے تو ہم کا لبادہ دور پھینک کر ''میں'' کا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے۔

اس ملک میں آج تک جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ بھی تبدیلی ہی ہوتی تھی ایک کی جگہ دوسرا، دوسرے کی جگہ تیسرا تبدیلی نہیں تو اور کیا ہوتا، کرسیوں میں بیٹھنے والے تو ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور تبدیلی وہ بھی ہے جو افغانستان میں گزشتہ بیس سال سے چل رہی ہے بلکہ جہاں جہاں شاہی اور خاندانی حاکمیت ہے وہاں کی ایک کے مزے پر تبدیلی ہو جاتی ہے، گویا تبدیلی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی صورت و شکل یا تعریف و شناخت نہیں ہوتی اور کپتان صاحب کے پاس تبدیلی کے مبہم ناقابل فہم اور غیر معینہ نعرے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اس لیے ان کے گرد ''ہم'' کا جو ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ کپتان صاحب کے اندر کوئی کمال ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ مروجہ نظام سے تنگ آئے ہوئے تھے اور ان کے لیے بھڑاس نکالنے کے واسطے کوئی''سمت'' درکار تھی سو اسے کپتان صاحب کی خوش قسمتی کہیے یا ہوشیاری کہ لشکر موجود تھا صرف اس کے لیے کسی سپہ سالار کی ضرورت تھی۔

مطلب یہ کہ کمال کپتان صاحب میں نہیں بلکہ ''ہم'' میں تھا وہ ''ہم'' جو ہمیشہ ''میں'' کا شکار بنتا چلا آ رہا ہے اور اس ''ہم'' نے کپتان صاحب کو ''ہم'' میں سے مان کر اپنا سمجھ لیا، کیونکہ اب تک ان کا واسطہ صرف ''میں'' سے پڑا تھا کوئی نواب تھا کوئی جاگیر دار، سرمایہ دار تھا یا جرنیل یا افسر شاہ یعنی کسی نہ کسی سے خاندانی ''میں'' تھے صرف کپتان صاحب ہی پہلی مرتبہ ''ہم'' بن کر آئے تھے تو ''ہم'' نے انھیں ''ہم'' جان کر دل و جان پے پذیرائی کی اور اب تک سر آنکھوں پہ بٹھایا اس لیے نہیں کہ ان کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ ہے اس لیے بھی نہیں کہ وہ کچھ زیادہ ذہین و فطین ہیں یا کسی بڑے مزار کے متولی ہیں یا جدی پشتی حکمرانوں سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ صرف اس لیے کہ وہ ایک عام آدمی ہیں اور عام آدمیوں نے ان پر بھروسہ کیا اپنی امیدوں کا مرکز بنایا کہ کوئی ''ہم'' ہی ''ہم'' کا درد جان سکتا ہے محسوس کر سکتا ہے، اس لیے چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ ''ہم'' ہی رہتے، لیکن المیہ یہ ہو گیا کہ دوسرے تو ''میں'' کے مقام پر پہنچ کر میں ہو جاتے تھے لیکن کپتان صاحب نے اس ''مقام میں'' تک پہنچنے سے پہلے ہی ہم کی چادر پھینک کر ''میں'' کا لبادہ اوڑھ لیا، یا شاید اس میں ایک صوبے کے بلا شرکت غیرے ملکیت کا احساس بھی ہو، وجہ کچھ بھی ہو لیکن کپتان صاحب کے سیاق و سباق باڈی لینگوئج اور کیمسٹری سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ''ہم'' کا لباس اتار کر ''میں'' کی وردی پہننا شروع کر دی ہے اب ان کے منہ سے جو الفاظ نکل رہے ہیں ان میں ''ہم'' بہت کم ہوتا ہے اور میں بہت زیادہ ہوتا ہے، ''میں'' شہر بند کر دوں گا، ''میں'' پورے ملک کو بند کر دوں گا، ''میں'' کسی وقت بھی فلاں اعلان کر سکتا ہوں، ''میں'' چاہوں تو یہ بھی کر سکتا ہوں، ''میں'' وہ بھی کر سکتا ہوں، اگر ''میں'' کے مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی ''میں میں'' کا یہ حال ہے تو ''میں میں'' کے مقام پر پہنچ کر وہ یہ بھول سکتے ہیں کہ میں کبھی ہم بھی تھا اور یہ صرف ''میں'' نہیں ہوں اس ''میں'' کے مقام پر پہنچنے والے کچھ ''ہم'' بھی ہیں یا تھے

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلاؤں
کبھی فتراک میں تیرے کہیں ایک ''ہم'' بھی تھا
Load Next Story