ٹارگٹ کلنگ کب رکے گی…
ٹارگٹ کلنگ کا شکار پندرہ سے بیس سال کی عمر کے نوجوان بن رہے ہیں جن کی مائوں و بہنوں کے نوحے وبین دل کو دہلا دیتے ہیں.
مصلحت اور مفاہمت کے نام پر شہر کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
BINT JBEIL:
کراچی کے حرماں نصیب شہری بے یقینی اورخوف وہراس کی ایک ایسی مستقل کیفیت کا شکارہیں کہ کب وہ کسی اندھی گولی کاشکارہوجائیں۔ بیتے تین دنوں کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں کا محدود پیمانے پر محاصرہ کرکے ٹارگٹ کلرز کو پکڑا گیا اور اسلحے کی برآمدگی بھی ظاہر کی گئی ۔ لیکن گزشتہ روز تشددکی لہر میں اچانک تیزی آگئی اور سیاسی کارکنوں سمیت دس افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ۔ان سطور کے لکھنے تک یہ سلسلہ تھما نہیں ہے بلکہ پولیس وقانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں سمیت دیگر 6افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی خبریں آچکی ہیں ۔ پاکستان کا سب سے بڑا میگاسٹی اور معاشی حب یرغمال بن چکا ہے ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں نہ جانے کیوں قانون کے لمبے ہاتھ چھوٹے ہوگئے ہیں جو قاتلوں کے گریبان تک نہیں پہنچ پا رہے یا پھر مصلحت اور مفاہمت کے نام پر شہر کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ یہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔جمہوری دور میں سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش اور عدم برداشت کا جوار بھاٹا انسانی جانوں کو نگل رہا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹارگٹڈ کارروائی سے بچنے کے لیے گلیوں میں بیریئر تو پہلے ہی لگائے گئے تھے اب ملحقہ بڑی سڑکوں پر بھی لگائے جارہے ہیں جو رینجرز اورپولیس کی کارروائی کے دوران ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں ، ان بیرئیر کا فوری طور پر نوٹس لے کر ہٹایا جانا ضروری ہوچکا ہے ۔معاشی حب میں امن وامان کی صورتحال پر قابو نہ پانے کا خمیازہ اہل کراچی بھگت رہے ہیں کیونکہ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں جب کہ صنعتکار اپنے صنعتی یونٹ بند کر کے بنگلہ دیش، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ غریب عوام کے منہ سے نوالہ بھی چھیناجا رہا ہے ۔ٹارگٹ کلنگ کا شکار پندرہ سے بیس سال کی عمر کے نوجوان بن رہے ہیں جن کی مائوں و بہنوں کے نوحے وبین دل کو دہلا دیتے ہیں۔شہر ویران اور قبرستان آباد ہو رہے ہیں ۔مظلوم مائوں کی فریاد حاکم وقت سے ہے کہ آخر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کب رکے گی...؟
کراچی کے حرماں نصیب شہری بے یقینی اورخوف وہراس کی ایک ایسی مستقل کیفیت کا شکارہیں کہ کب وہ کسی اندھی گولی کاشکارہوجائیں۔ بیتے تین دنوں کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں کا محدود پیمانے پر محاصرہ کرکے ٹارگٹ کلرز کو پکڑا گیا اور اسلحے کی برآمدگی بھی ظاہر کی گئی ۔ لیکن گزشتہ روز تشددکی لہر میں اچانک تیزی آگئی اور سیاسی کارکنوں سمیت دس افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ۔ان سطور کے لکھنے تک یہ سلسلہ تھما نہیں ہے بلکہ پولیس وقانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں سمیت دیگر 6افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی خبریں آچکی ہیں ۔ پاکستان کا سب سے بڑا میگاسٹی اور معاشی حب یرغمال بن چکا ہے ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں نہ جانے کیوں قانون کے لمبے ہاتھ چھوٹے ہوگئے ہیں جو قاتلوں کے گریبان تک نہیں پہنچ پا رہے یا پھر مصلحت اور مفاہمت کے نام پر شہر کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ یہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔جمہوری دور میں سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش اور عدم برداشت کا جوار بھاٹا انسانی جانوں کو نگل رہا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹارگٹڈ کارروائی سے بچنے کے لیے گلیوں میں بیریئر تو پہلے ہی لگائے گئے تھے اب ملحقہ بڑی سڑکوں پر بھی لگائے جارہے ہیں جو رینجرز اورپولیس کی کارروائی کے دوران ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں ، ان بیرئیر کا فوری طور پر نوٹس لے کر ہٹایا جانا ضروری ہوچکا ہے ۔معاشی حب میں امن وامان کی صورتحال پر قابو نہ پانے کا خمیازہ اہل کراچی بھگت رہے ہیں کیونکہ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں جب کہ صنعتکار اپنے صنعتی یونٹ بند کر کے بنگلہ دیش، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ غریب عوام کے منہ سے نوالہ بھی چھیناجا رہا ہے ۔ٹارگٹ کلنگ کا شکار پندرہ سے بیس سال کی عمر کے نوجوان بن رہے ہیں جن کی مائوں و بہنوں کے نوحے وبین دل کو دہلا دیتے ہیں۔شہر ویران اور قبرستان آباد ہو رہے ہیں ۔مظلوم مائوں کی فریاد حاکم وقت سے ہے کہ آخر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کب رکے گی...؟