عوام کی قوت خرید متاثر ٹوپیوں تسبیح اور جائے نماز کی فروخت میں کمی

چین ،تھائی لینڈ،بنگلہ دیش اور ملائشیا سے بھی درآمدات15فیصدگھٹ گئی

چین ،تھائی لینڈ،بنگلہ دیش اور ملائشیا سے بھی درآمدات15فیصدگھٹ گئی (فوتو ایکسپریس)

عوام کی قوت خرید متاثر ہونے کے باعث رواں سال ماہ رمضان المبارک کے دوران مختلف اقسام کی ٹوپیوں،تسبیح اورجائے نمازکی فروخت میںگذشتہ سال کے مقابلے میں 60تا 70 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ٹوپیوں کی قیمتیں گذشتہ رمضان کی نسبت20 تا25 فیصد بڑھ گئی ہیں،مقامی سطح پرطلب میں کمی کا اندازہ اس امرسے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ رواںرمضان کے سیزن کے لیے چین سے ٹوپیوں کی درآمدات میں50 فیصد گھٹ گئی ہے،

تھائی لینڈ،بنگلہ دیش اور ملائشیا سے بھی ٹوپیوں کی درآمدات15 فیصدگھٹ گئی ہے،یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ دنیا کی دیگر اسلامی ریاستوں کی طرح پاکستان میںبھی ٹوپیاں پہنے کا رحجان گھٹتاجارہا ہے،مساجد میںنمازیوں کی ایک کثیرتعداد بغیرٹوپی کے نماز پڑھتی ہے، چندسال قبل تک مساجد میں نمازیوں کی سہولت کے لیے کھجورکے درخت کے تنکوںسے بنی ٹوپیاںرکھی جاتی تھیں لیکن اب ان مساجد میںپلاسٹک یاعام کپڑے کی تیارکردہ ٹوپیاںرکھی جاتی ہیںاس کے باوجود بیشترنمازی بغیرٹوپی پہنے نمازپڑھتے ہیں،

مقامی وغیرملکی ٹوپیوںکے ایک بڑے بیوپاری محمدصادق نے ''ایکسپریس'' کوبتایا کہ چندسال سے کراچی میں تسلسل سے امن وامان کی خراب صورتحال برقراررہنے کے اثرات ٹوپیوں کی فروخت پر براہ راست مرتب ہوئے ہیں کیونکہ امن وامان کی تواترسے خراب صورتحال کے باعث ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر کے بیشتر علاقوں میںلگنے والے ٹوپیوں کے سیکڑوںعارضی پتھارے اب خوف کے باعث نہیں لگ رہے ہیں جبکہ بازاروں اورشاپنگ سینٹرزکے اطراف میں ریڑھیوں پر ٹوپیوں کی فروخت بھی تقریبا بند ہوچکی ہے،شہرکی بیشتر بڑی مساجد کے باہر ٹوپیاں اورتسبیح وغیرہ کی فروخت کارحجان بڑھتاجارہا ہے،


نیو میمن مسجدبولٹن مارکیٹ کے صدردروازے کے باہرپہلے20 سے زائدٹوپیاں،تسبیح اور جائے نمازفروخت کرنے کے پتھارے پورے سال قائم رہتے تھے لیکن امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث رواں سال وہاں پتھاروں کی تعداد گھٹ کر4 پتھاروں تک محدود ہوگئی جہاں کم سے کم قیمت اور زیادہ سے زیادہ قیمت کی حامل ٹوپیاں، جائے نماز اور تسبیح دستیاب ہیں،

ان پتھاروںپر شوقین افراد کی گہما گہمی صرف ماہ رمضان کے مہینے میںبڑھ جاتی ہے، مارکیٹ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران عمرہ کی ادائیگی کرنے والوں کی جانب سے پہلے عشرے کے اختتام پر ٹوپیوں کی طلب 100 فیصد بڑھ جاتی ہے لیکن چند سال کے دوران قوت خرید متاثر ہونے کے سبب عازمین عمرہ بنگلہ دیشی یا انڈونیشین ٹوپیوں کے بجائے سستی قیمت کی حامل جالی دار ٹوپیاں خرید رہے ہیں، اسی طرح دوست واحباب کوتحفہ میںدینے کیلیے تسبیح اورجائے نماز بھی سستی قیمت کی خریدی جارہی ہے،

ٹوپی اورتسبیح کے تھوک بیوپاریوں نے بتایاکہ ماہ رمضان البارک کے دوران کراچی کے مختلف بڑی مساجد میںتقریباً5 تا8 ہزارعارضی نوعیت کے پتھارے قائم ہوگئے ہیںجن کی اوسطاًیومیہ ٹوپیوں اورتسبیح کی فروخت25 تا40 یونٹس ہے، سروے کے دوران معلوم ہوا کہ مارکیٹ میں ترکی کی ''زروی ٹوپی'' کی زبردست ڈیمانڈ موجود ہے لیکن ماہ رمضان سے قبل یہ ٹوپی50روپے میں میسرتھی اب قلت کے باعث چند مخصوص پتھاریداروں کی جانب سے یہ ٹوپی 80 تا 100 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔
Load Next Story