حکومت بھتے میں لی جانیوالی رقم ٹیکس میں ایڈجسٹ کرے تاجروں کا مطالبہ

سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب، موبائل فون سموں کی فروخت کی بندش کے باوجود بھتہ خوری عروج پر ہے،تاجر رہنما.

سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب، موبائل فون سموں کی فروخت کی بندش کے باوجود بھتہ خوری عروج پر ہے،کراچی کے چھوٹے تاجروں کو ریلیف پیکیج دیا جائے،تاجر رہنما. فوٹو: ایکسپریس/فائل

بھتہ خوری کا شکار کراچی کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھتے میں ادا کی جانے والی رقم ٹیکس میں ایڈجسٹ کی جائے۔

دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے تاجروں اور عام شہریوں کو جان کا معاوضہ ان کی زندگی میں ادا کردیا جائے تاکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کاروبار کرنے والے تاجر اپنے گھروں میں کفن دفن اور لواحقین کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرسکیں،گورنر سندھ اور تاجر برادری میں طویل مذاکرات اور شہر میں سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب، موبائل فون سموں کی فروخت کی بندش کے باوجود شہر میں ایک بار پھر بھتہ خوری کی لہر عروج پر پہنچ گئی ہے۔




سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھتہ خوری کا شکار کراچی کے تاجروں کو ریلیف پیکیج فراہم کیا جائے شہر میں 50 فیصد سے زائد چھوٹے تاجر بدامنی کے باعث نادہندہ ہوچکے ہیں حکومت بھتہ خوروں کے آگے بے بس ہے تو بھتے میں ادا کی جانیوالی رقم کو ٹیکس میں ایڈجسٹ کیا جائے بصورت دیگر کراچی میں تاجروں کے قتل اور بھتہ خوری کے خلاف سندھ بھر کے تاجروں کو متحد کرکے منظم مہم چلائی جائیگی۔

انھوں نے کہا کہ کراچی جنریٹرز مارکیٹ میں سر عام آصف نامی تاجر کو ہلاک کردیا گیا،پاکستان آٹوموبائل اسپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بھتہ مافیا کی جانب سے دھمکی آمیز فون کالز میں ایک بار پھر اضافہ ہورہا ہے،آٹو پارٹس مارکیٹ کے کئی تاجروں کو بدستور بھتہ نہ دینے کی پاداش میں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور جب انھوں نے بھتہ دینے سے انکار کردیا تو ان کی دکان کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، پاسپیڈا کی منیجنگ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں آٹو پارٹس مارکیٹوں میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
Load Next Story