خطرناک دہشتگردوں کی سرکوبی

دہشتگردی کے خلاف ریاستی اقدامات اور بلا امتیاز کریک ڈاؤن جاری ہے

، اسکرین گریب/ ایکسپریس نیوز

دہشتگردی کے خلاف ریاستی اقدامات اور بلا امتیاز کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس وقت تک اسے جاری رہنا چاہیے جب تک ملکی سالمیت، خود مختاری اور داخلی استحکام کو لاحق خطرات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا دہشتگردوں کی کمر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ نہیں جاتی۔

اس تناظر میں انسانیت کے دشمن قوتوں کے خلاف سیاسی و عسکری قیادت کے مابین مثالی اشتراک عمل اور سرعت کے ساتھ ملزمان کے خلاف عدالتی فیصلے امن و انصاف کی سمت حتمی پیش قدمی کا عندیہ دیتے ہیں جب کہ دہشتگردی میں ملوث طالبانی انتہا پسند سمیت کالعدم تنظیموں، بھتہ خوروں، دہشتگردوں کے مالی گٹھ جوڑ اور ٹارگٹ کلنگ و فرقہ وارنہ قتل و غارت میں ملوث دہشتگردوں کو سزائیں دینے کا عمل بھی سختی سے جاری ہے، چنانچہ مزید ایسے 10 خطرناک دہشتگردوں کی سزائے موت کی چیف جنرل راحیل شریف نے توثیق کر دی ہے۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق یہ دہشتگرد معصوم شہریوں، پولیو ورکرز، این جی اوز کے ملازمین، پولیس اور فوجی اہلکاروں کے قتل اور دہشتگردی کی دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث تھے، ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا، انھیں فوجی عدالتوں نے اعتراف جرم کرنے کے بعد سزائے موت سنائی تھی۔یوں فوجی عدالتوں پر جنگل کے قانون کا الزام لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور دہشتگردوں کے لیے دل میں نرم گوشہ یا اچھے برے طالبان اور انتہا پسندوں کی تفریق روا رکھنے والوں کو بھی فوری انصاف کی شفافیت کا اندازہ ہو سکے گا۔


واضح رہے گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے فوجی عدالت سے سزا پانے والے مبینہ دہشتگرد معتبر خان کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جب کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بھی بعض ملزمان کی فوجی عدالتوں سے سزائے موت کی معطلی کا حکم دے چکی ہے جس سے انصاف اور سزا و جزا کے مسلمہ اسلامی و عالمی اقدار و قوانین سے روگردانی کا تاثر زائل ہو جاتا ہے۔

بہر حال دہشتگردی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، جمعرات کو پاکستان رینجرز سندھ پر گڈاپ ٹاؤن کے علاقے میں دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس کے جواب میں رینجرز کی فائرنگ سے 4 دہشتگرد مارے گئے۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق مارے جانے والے دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، دریں اثنا ڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جب کہ 3 فرار ہو گئے۔

ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے، ادھر سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابق دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، ملزمان محرم کے جلوس کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ناکام ہونے پر حساس تنصیبات پر دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب کہ دہشتگردوں کی کراچی میں فائرنگ سے اے ایس آئی سمیت 3 افراد جاںبحق ہوگئے۔ جب صورتحال اتنی سنگین ہو تو دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔

 
Load Next Story