ایک اور دھرنا
وزیراعظم نواز شریف، عمران خان اور جہانگیر ترین وغیرہ کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کے سامنے زیرِ سماعت ہے
tauceeph@gmail.com
کیا نیا سیاسی بحران جنم لے رہا ہے؟ عمران خان کے اس مہینے کے اختتام پر اسلام آباد پر دھرنے اور متحدہ قومی موومنٹ کے منتخب اراکینِ اسمبلی کے مستعفی ہونے کی خبروں سے محسوس ہو رہا ہے کہ میاں نواز شریف حکومت کو اگلے ماہ ایک سخت چیلنج کا سامنا ہو گا۔ عمران خان پانامہ لیکس پر وزیر اعظم نواز شریف کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف، عمران خان اور جہانگیر ترین وغیرہ کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ میاں نواز شریف اور عمران خان کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے اختیارکو چیلنج کیا ہے۔ تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی پانامہ لیکس کے تناظر میں عرض داشتیں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
بلاول بھٹوزرداری آف شورکمپنیوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کے لیے سینیٹ سے قانون منظور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس بات پر تیار کرنا چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی بھی اس قانون کی منظوری دیدے، یوں معاملہ عدالتوں کے ذریعے حل ہو جائے اور مستقبل میں اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
عمران خان کا طرزِ سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ وہ 90ء کی دہائی میں سیاست میں متحرک ہوئے۔ اپنے پرانے دوستوں کو جمع کیا اور بائیں بازو کے رہنما معراج محمد خان کو ساتھ ملا لیا۔ عمران خان کرکٹ کے زمانے سے نوجوانوں میں خاص طور پر خواتین میں بے حد مقبول رہے، یوں نوجوانوں کو انھوں نے اپنی طرف مائل کیا، مگر عمران خان ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست پر گامزن رہے۔ پرویز مشرف حکومت کے حامیوں میں عمران خان کا شمار ہوا۔
فوجی جنرل کے صدر منتخب ہونے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کی حمایت کی۔ معراج محمد مرحوم کا کہنا تھا کہ عمران خان کو امید تھی کہ جنرل پرویز مشرف انھیں وزیر اعظم نامزد کریں گے۔ عمران خان 2002ء کے انتخابات کے اعلان کے بعد مشرف سے رابطے میں تھے مگر جب انھیں معلوم ہوا کہ انتخابات میں چوہدری برادران کی بالادستی ہو گی اور انھیں چوہدری برادران کی تجویز کردہ حکومت کا حصہ بننا پڑے گا تو عمران خان مایوس ہوئے اور انھوں نے جنرل پرویز مشرف کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی تجویز پر عمران خان نے 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف بھی انتخابی بائیکاٹ کے حامی تھے مگر پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو شہید کے مشورے پر میاں صاحب نے ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ 2010ء میں اسٹیبلشمنٹ نے تحریکِ انصاف میں معتبر لوگوں کی شمولیت کے لیے حکمت عملی پر اتفاق کیا تھا، یوں مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے بہت سے رہنماؤں نے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔
2013ء کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کو کراچی اور پنجاب سے زیادہ نشستیں ملنی چاہئیں تھی مگر کراچی میں پولنگ اسٹیشنوں پر گنتی کے وقت سیکیورٹی دستے لاپتہ ہو گئے اور پنجاب میں انتخابی قوانین کی پیچیدگیوں کی بناء پر ان کے مرضی کے نتائج سامنے نہ آ سکے، مگر عمران خان نے انتخابی اصلاحات کے بجائے نواز شریف حکومت کے خاتمے کا بیڑا اٹھا لیا اور پھر اسلام آباد میں تاریخی دھرنا دیا۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے جس کے لیے بہت سے لوگوں نے پاکستان، یورپ اور امریکا سے چندے بھیجے مگر بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ اصل سرمایہ کاری کن صاحبِ ثروت افراد کی تھی اس کا انکشاف جب بھی ہو گا تو ایک نیا پاناما اسکینڈل سامنے آئے گا۔ اس دھرنے سے بقول حکومت ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
چین کے صدر کا دورۂ پاکستان بھی اسی دوران ملتوی ہوا۔ عمران خان مجبوراً عدالتی کمیشن پر متفق ہوئے۔ عدالتی کمیشن نے عمران خان کے الزامات کو غلط قرار دیا مگر اس دھرنے کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو ہوا۔ نواز شریف حکومت کمزور ہو گئی۔انسانی حقوق کی قومی تنظیم H.R.C.P نے اپنے گزشتہ اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا کہ سول حکومت کی گرفت کم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کی ذمے داری نواز شریف حکومت کے طرزِ حکومت کے علاوہ عمران خان کے گزشتہ دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کی ہے۔
پاناما لیکس نے بہت سے افراد کو بے نقاب کیا جن میں میاں نواز شریف کے بچوں کے علاوہ بینظیر بھٹو، رحمن ملک اور جہانگیر ترین جیسے بہت سے اہم افراد شامل ہیں۔ عمران خان کی برطانیہ میں قائم کردہ آف شور کمپنی کا انکشاف ہوا۔ اس اسکینڈل میں ملوث ہر فرد کا ایک علیحدہ مؤقف ہے۔ بین الاقوامی ذرایع ابلاغ پر سابق صدر پرویز مشرف کے اثاثوں کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔
اس ملک کے امراء جن میں سول و فوجی افسران، سیاستدان، سرمایہ کار اور جاگیردار شامل ہیں غیر قانونی طریقوں سے دولت کے ارتکاز کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اب تک کسی بھی دور میں حکومت میں غیر قانونی دولت کمانے والے افراد کے خلاف جامع قانون پر کام نہیں ہوا۔
قیامِ پاکستان سے اب تک سیاسی مخالفت کی بناء پر سیاست دانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، بیوروکریسی میں بھی ان لوگوں کا احتساب نہیں ہوا جو کسی گزرے ہوئے حکمرانوں کے منظورِ نظر تھے، بدعنوانی کا زہر معاشرے میں نچلی سطح تک سرایت کر گیا۔ غیر قانونی طور پر دولت کمانے والے معززین کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ معاشرے میں ان کی عزت توقیر بڑھ گئی۔
عمران خان نے کسی عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے نواز شریف کو مجرم قرار دیدیا اور اب وہ اپنے مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے اسلام آباد بند کریں گے۔ ایسی افواہیں گرم ہیں کہ عمران خان کے اس دھرنے کی بناء پر نواز شریف کی حکومت کو رخصت کر دیا جائے گا۔ کسی بھی غیر آئینی طریقے سے نواز حکومت کی برطرفی اس ملک کو ایک نئے بحران میں مبتلا کر دے گی۔
عمران خان گزشتہ دھرنے میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تجویز پیش کر چکے ہیں۔ ان کی تجویز آئین سے ہٹ کر تھی۔ اس طرح کی حکومت اگر احتساب کے نام پر قائم ہوئی تو اس کے جانے کی کوئی تاریخ نہیں دے سکتا۔ آئین سے مبرا قائم ہونے والی حکومت انسانی حقوق کی پاسداری کی پابند نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں عمران خان کو پھر اس طرح کے احتجاج کا موقع نہیں ملے گا اور ملک میں نئے تضادات ابھر آئیں گے۔
عمران خان کو اس حقیقت کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ آمرانہ حکومتوں نے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایوب حکومت کے قیام سے مشرقی پاکستان کے عوام پاکستان سے مایوس ہوئے، جنرل یحییٰ خان کی ناقص پالیسی کی بناء پر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا، جنرل ضیاء الحق نے جہاد کے نام پر ملک کو کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر سے متعارف کرایا اور جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان میں فوج کشی کر کے پاکستان کے واحد حامی بلوچ سردار اکبر بگٹی کو ہلاک کر کے ملک کو نئے بحران میں مبتلا کر دیا۔
عمران خان دھرنے کے ذریعے شارٹ کٹ کھیلنے کے قائل ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی ماڈرن ہے۔ لیکن سندھ اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے رکن تعلیمی اداروں میں موسیقی اور رقص کی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے ساتھی ٹی وی پر مولویوں کی طرح وعظ کرتے ہیں۔ یہ تضادات ملک کے فہمیدہ حلقوں کو شک میں مبتلا کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی باقی مدت صرف 18 ماہ ہے۔
اس دوران بنیادی کام انتخابی اصلاحات اور احتساب کے لیے مؤثر اداروں کے قیام کے لیے قانون سازی ہے۔ عمران خان جلسے جلوس کریں، یہ سیاسی عمل کا حصہ ہے مگر حکومت کی غیر قانونی برطرفی پر زور نہ دیں۔ پارلیمنٹ میں دونوں بنیادی مسائل کے لیے قانون سازی پر اس کے ساتھ توجہ دینا ضروری ہے۔
پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل اور ریپ کے مقدمے میں ڈی این اے کے ٹیسٹ شامل کرنے کے قانون منظورکیے مگر تحریکِ انصاف کے اراکین نے ان قوانین کی منظوری میں کوئی کردار ادا نہ کر کے رجعت پسند قوتوں کو حوصلہ دیا۔ اب انھیں اسلام آباد میں دھرنا دینا ہے مگر یہ دھرنا ایک دن کا ہونا چاہیے۔ عمران خان کو سپریم کورٹ میں اپنے مقدمہ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس مسئلے کا حل سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف، عمران خان اور جہانگیر ترین وغیرہ کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ میاں نواز شریف اور عمران خان کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے اختیارکو چیلنج کیا ہے۔ تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی پانامہ لیکس کے تناظر میں عرض داشتیں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
بلاول بھٹوزرداری آف شورکمپنیوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کے لیے سینیٹ سے قانون منظور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس بات پر تیار کرنا چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی بھی اس قانون کی منظوری دیدے، یوں معاملہ عدالتوں کے ذریعے حل ہو جائے اور مستقبل میں اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
عمران خان کا طرزِ سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ وہ 90ء کی دہائی میں سیاست میں متحرک ہوئے۔ اپنے پرانے دوستوں کو جمع کیا اور بائیں بازو کے رہنما معراج محمد خان کو ساتھ ملا لیا۔ عمران خان کرکٹ کے زمانے سے نوجوانوں میں خاص طور پر خواتین میں بے حد مقبول رہے، یوں نوجوانوں کو انھوں نے اپنی طرف مائل کیا، مگر عمران خان ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست پر گامزن رہے۔ پرویز مشرف حکومت کے حامیوں میں عمران خان کا شمار ہوا۔
فوجی جنرل کے صدر منتخب ہونے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کی حمایت کی۔ معراج محمد مرحوم کا کہنا تھا کہ عمران خان کو امید تھی کہ جنرل پرویز مشرف انھیں وزیر اعظم نامزد کریں گے۔ عمران خان 2002ء کے انتخابات کے اعلان کے بعد مشرف سے رابطے میں تھے مگر جب انھیں معلوم ہوا کہ انتخابات میں چوہدری برادران کی بالادستی ہو گی اور انھیں چوہدری برادران کی تجویز کردہ حکومت کا حصہ بننا پڑے گا تو عمران خان مایوس ہوئے اور انھوں نے جنرل پرویز مشرف کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کی تجویز پر عمران خان نے 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف بھی انتخابی بائیکاٹ کے حامی تھے مگر پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو شہید کے مشورے پر میاں صاحب نے ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ 2010ء میں اسٹیبلشمنٹ نے تحریکِ انصاف میں معتبر لوگوں کی شمولیت کے لیے حکمت عملی پر اتفاق کیا تھا، یوں مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے بہت سے رہنماؤں نے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔
2013ء کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کو کراچی اور پنجاب سے زیادہ نشستیں ملنی چاہئیں تھی مگر کراچی میں پولنگ اسٹیشنوں پر گنتی کے وقت سیکیورٹی دستے لاپتہ ہو گئے اور پنجاب میں انتخابی قوانین کی پیچیدگیوں کی بناء پر ان کے مرضی کے نتائج سامنے نہ آ سکے، مگر عمران خان نے انتخابی اصلاحات کے بجائے نواز شریف حکومت کے خاتمے کا بیڑا اٹھا لیا اور پھر اسلام آباد میں تاریخی دھرنا دیا۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے جس کے لیے بہت سے لوگوں نے پاکستان، یورپ اور امریکا سے چندے بھیجے مگر بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ اصل سرمایہ کاری کن صاحبِ ثروت افراد کی تھی اس کا انکشاف جب بھی ہو گا تو ایک نیا پاناما اسکینڈل سامنے آئے گا۔ اس دھرنے سے بقول حکومت ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
چین کے صدر کا دورۂ پاکستان بھی اسی دوران ملتوی ہوا۔ عمران خان مجبوراً عدالتی کمیشن پر متفق ہوئے۔ عدالتی کمیشن نے عمران خان کے الزامات کو غلط قرار دیا مگر اس دھرنے کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو ہوا۔ نواز شریف حکومت کمزور ہو گئی۔انسانی حقوق کی قومی تنظیم H.R.C.P نے اپنے گزشتہ اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا کہ سول حکومت کی گرفت کم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کی ذمے داری نواز شریف حکومت کے طرزِ حکومت کے علاوہ عمران خان کے گزشتہ دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کی ہے۔
پاناما لیکس نے بہت سے افراد کو بے نقاب کیا جن میں میاں نواز شریف کے بچوں کے علاوہ بینظیر بھٹو، رحمن ملک اور جہانگیر ترین جیسے بہت سے اہم افراد شامل ہیں۔ عمران خان کی برطانیہ میں قائم کردہ آف شور کمپنی کا انکشاف ہوا۔ اس اسکینڈل میں ملوث ہر فرد کا ایک علیحدہ مؤقف ہے۔ بین الاقوامی ذرایع ابلاغ پر سابق صدر پرویز مشرف کے اثاثوں کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔
اس ملک کے امراء جن میں سول و فوجی افسران، سیاستدان، سرمایہ کار اور جاگیردار شامل ہیں غیر قانونی طریقوں سے دولت کے ارتکاز کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اب تک کسی بھی دور میں حکومت میں غیر قانونی دولت کمانے والے افراد کے خلاف جامع قانون پر کام نہیں ہوا۔
قیامِ پاکستان سے اب تک سیاسی مخالفت کی بناء پر سیاست دانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، بیوروکریسی میں بھی ان لوگوں کا احتساب نہیں ہوا جو کسی گزرے ہوئے حکمرانوں کے منظورِ نظر تھے، بدعنوانی کا زہر معاشرے میں نچلی سطح تک سرایت کر گیا۔ غیر قانونی طور پر دولت کمانے والے معززین کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ معاشرے میں ان کی عزت توقیر بڑھ گئی۔
عمران خان نے کسی عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے نواز شریف کو مجرم قرار دیدیا اور اب وہ اپنے مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے اسلام آباد بند کریں گے۔ ایسی افواہیں گرم ہیں کہ عمران خان کے اس دھرنے کی بناء پر نواز شریف کی حکومت کو رخصت کر دیا جائے گا۔ کسی بھی غیر آئینی طریقے سے نواز حکومت کی برطرفی اس ملک کو ایک نئے بحران میں مبتلا کر دے گی۔
عمران خان گزشتہ دھرنے میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تجویز پیش کر چکے ہیں۔ ان کی تجویز آئین سے ہٹ کر تھی۔ اس طرح کی حکومت اگر احتساب کے نام پر قائم ہوئی تو اس کے جانے کی کوئی تاریخ نہیں دے سکتا۔ آئین سے مبرا قائم ہونے والی حکومت انسانی حقوق کی پاسداری کی پابند نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں عمران خان کو پھر اس طرح کے احتجاج کا موقع نہیں ملے گا اور ملک میں نئے تضادات ابھر آئیں گے۔
عمران خان کو اس حقیقت کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ آمرانہ حکومتوں نے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایوب حکومت کے قیام سے مشرقی پاکستان کے عوام پاکستان سے مایوس ہوئے، جنرل یحییٰ خان کی ناقص پالیسی کی بناء پر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا، جنرل ضیاء الحق نے جہاد کے نام پر ملک کو کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر سے متعارف کرایا اور جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان میں فوج کشی کر کے پاکستان کے واحد حامی بلوچ سردار اکبر بگٹی کو ہلاک کر کے ملک کو نئے بحران میں مبتلا کر دیا۔
عمران خان دھرنے کے ذریعے شارٹ کٹ کھیلنے کے قائل ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی ماڈرن ہے۔ لیکن سندھ اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے رکن تعلیمی اداروں میں موسیقی اور رقص کی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے ساتھی ٹی وی پر مولویوں کی طرح وعظ کرتے ہیں۔ یہ تضادات ملک کے فہمیدہ حلقوں کو شک میں مبتلا کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی باقی مدت صرف 18 ماہ ہے۔
اس دوران بنیادی کام انتخابی اصلاحات اور احتساب کے لیے مؤثر اداروں کے قیام کے لیے قانون سازی ہے۔ عمران خان جلسے جلوس کریں، یہ سیاسی عمل کا حصہ ہے مگر حکومت کی غیر قانونی برطرفی پر زور نہ دیں۔ پارلیمنٹ میں دونوں بنیادی مسائل کے لیے قانون سازی پر اس کے ساتھ توجہ دینا ضروری ہے۔
پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل اور ریپ کے مقدمے میں ڈی این اے کے ٹیسٹ شامل کرنے کے قانون منظورکیے مگر تحریکِ انصاف کے اراکین نے ان قوانین کی منظوری میں کوئی کردار ادا نہ کر کے رجعت پسند قوتوں کو حوصلہ دیا۔ اب انھیں اسلام آباد میں دھرنا دینا ہے مگر یہ دھرنا ایک دن کا ہونا چاہیے۔ عمران خان کو سپریم کورٹ میں اپنے مقدمہ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس مسئلے کا حل سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہی ہے۔