مراد علی شاہ کی نیک خواہشات

مراد علی شاہ ایک نوجوان اور کچھ کر دکھانے کے خواہشمند وزیراعلیٰ ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے حکم دیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر بنایا جائے۔ موصوف نے کہا ہے کہ ایس ای ایف اور بی بی ایس وائی ڈی پی مل کر 25 ہزار بچوں کو اسکول لائیں گے۔ 582 اسکول گود دے دیے گئے ہیں اور گود لینے والوں کی 147 درخواستیں فیصلے کی منتظر ہیں۔

مراد علی شاہ ایک نوجوان اور کچھ کر دکھانے کے خواہشمند وزیراعلیٰ ہیں، انھوں نے جب سے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے مسلسل مثبت خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مثبت خواہشات کا اظہار یقیناً قابل تعریف ہے لیکن حقائق بلکہ تلخ حقائق یہ ہیں کہ اس ملک کی 80 فیصد آبادی کے بچے عملاً تعلیم سے محروم ہیں۔ جس شہر میں لاکھوں بچے جس ملک میں کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہوں وہاں 25 ہزار بچوں کو اسکول لانے کی سبیل کرنا اور 582 اسکولوں کو صاحب ثروت افراد کو گود دینا بچوں کی تعلیم جیسے اہم قومی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مراد علی شاہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، ان کے اختیارات بھی محدود ہیں اور وسائل بھی محدود ہیں، لہٰذا پورے ملک کے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے ان سے شکایت نہیں کی جاسکتی۔ یہ بنیادی طور پر ایک اہم ترین قومی مسئلہ ہے اور اسے حل کرنے کے لیے ایک موثر قومی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے کہ اس قومی مسئلے کا معروضی جائزہ لیا جائے تعلیم کے حوالے ہی سے ایک خبر پیش کرنا ضروری ہے جو مراد علی شاہ کے بیان کے نیچے چھپی ہے۔ اس خبر کی سرخی ہے ''بلدیاتی ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لیے فنڈ نہیں ہے''۔ بلدیاتی ملازمین کی تعداد 80 ہزار بتائی جاتی ہے جن میں اساتذہ کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔

اساتذہ کو بھی مہینوں تنخواہ نہیں ملتی، جس کی وجہ سے اساتذہ سخت مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں اور نوبت فاقہ کشی تک پہنچ جاتی ہے۔ اس قسم کے مسائل میں گھرے ہوئے اساتذہ سے یہ امید کرنا کہ وہ تعلیمی معیار بہتر بنانے میں دلچسپی لیں گے ایک نیک خواہش تو کہلاسکتی ہے لیکن اس کے مثبت نتائج نکلنے کی کوئی امید نہیں، کیونکہ معاشی مشکلات اور فاقہ کشی میں مبتلا اساتذہ تعلیم کی بہتری پر توجہ دے ہی نہیں سکتے۔

چونکہ بات اساتذہ کے مسائل کی ہو رہی ہے لہٰذا ان مظلوم ریٹائرڈ اساتذہ کا ذکر کرنا بے محل نہیں ہوگا جو اپنی زندگی کے 40-30 سال بچوں کو تعلیم دینے کے بعد جب ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو پنشن اور واجبات کے حصول کے لیے انھیں مہینوں نہیں برسوں دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ ریٹائرڈ اساتذہ پر یہ بہت بڑا ظلم ہے، کیونکہ ریٹائرمنٹ کے فوری بعد وہ تنخواہ سے محروم ہوجاتے ہیں اور یہ وقت سے آزاد محرومی انھیں بھی فاقہ کشی پر مجبور کردیتی ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور مراد علی شاہ کے دائرہ اختیار میں بھی ہے۔


عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی ملازم ریٹائر ہونے کے قریب ہوتا ہے تو متعلقہ حکام اور اسٹاف اس کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے کاغذی کارروائی مکمل کرلیتے ہیں اور جیسے ہی ملازم ریٹائر ہوجاتا ہے اس کی پنشن جاری کردی جاتی ہے اور تمام واجبات ادا کردیے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اس قسم کی کوئی روایت نہیں ہے۔ مراد علی شاہ یہ حکم دے سکتے ہیں کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات ایک مہینے کے اندر ہر حال میں جاری کردیے جائیں۔ اس سلسلے میں ہمیں لانڈھی کورنگی کے ریٹائرڈ اساتذہ کی بہت شکایات ملی ہیں۔

اب آئیے مراد علی شاہ کی اس خواہش یا حکم کی طرف جس میں انھوں نے تعلیمی معیار بہتر بنانے کا ذکر کیا ہے۔ مراد علی شاہ کی یہ خواہش یا حکم قابل تعریف ہے لیکن یہ مسئلہ مقامی نہیں ہے بلکہ قومی مسئلہ ہے۔ اس کو حل کرنے کے لیے بنیادی کام یہ ہے کہ ملک سے دہرے نظام تعلیم کو ختم کیا جائے۔

ہمارے طبقاتی معاشرے میں صحت اور تعلیم کا جو دہرا نظام قائم ہے، اس کا سفاکانہ نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ان کے والدین گلی محلے کی آوارگی سے بچانے کے لیے کالے پیلے اسکولوں میں بٹھا دیتے ہیں، جہاں بچے کھیل کود اور شرارتوں کے علاوہ کچھ نہیں سیکھ سکتے۔ ان اسکولوں میں زیر تعلیم بچے یا تو پرائمری کے بعد ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں یا پھر بڑی محنت اور مشکلوں سے میٹرک کرکے تعلیم سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ انھیں ماں باپ کے معاشی مسائل شیئر کرنا پڑتے ہیں۔ اگر سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم کو بہتر بنانا ہو تو سب سے پہلے اساتذہ کو بروقت تنخواہیں دینے کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ اساتذہ یکسوئی کے ساتھ بچوں کی تعلیم پر توجہ دے سکیں۔

سرکاری اسکولوں کا نصاب تعلیم جدید تعلیم کے مطابق بنانا چاہیے جس میں سائنس، میتھ کے ساتھ ساتھ سائنسی ترقی و انکشافات پر مشتمل مواد نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ سرکاری اسکولوں کے طلبا دور حاضر کے حقائق تحقیق اور انکشافات سے آگہی حاصل کرسکیں۔ مفروضات اور تصورات پر مبنی مواد کو نصاب سے خارج کرکے زمینی حقائق پر مشتمل مواد نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ پرائیویٹ انگلش اسکول ہیں، بنیادی طور پر یہ ملک میں کاٹیج انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اس انڈسٹری میں چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کرکے سرمایہ کار لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ ان پرائیویٹ اسکولوں میں معیار تعلیم انتہائی پست ہے۔ نمائش کے لیے بچوں کے بیگز کتابوں، کاپیوں سے اس قدر بھر دیے جاتے ہیں کہ بچے یہ بوجھ بڑی مشکل سے اٹھا پاتے ہیں، لیکن معیار تعلیم کے حوالے سے پرائیویٹ اسکول سرکاری اسکولوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔

کم تنخواہ پر معمولی پڑھے لکھے لوگوں کو اساتذہ کا درجہ یا ملازمت دے کر طلبا کے سروں پر سوار کر دیا جاتا ہے لہٰذا تعلیم کا معیار پست ہی رہتا ہے۔ اس مسئلے کو جو قوم و ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے نہ لیپا پوتی سے حل کیا جاسکتا ہے نہ حکم کے ذریعے۔ اس مسئلے کا معروضی حل یہ ہے کہ ملک سے دہرے نظام تعلیم کو ختم کیا جائے اور ملک کی 80 فیصد آبادی کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا سکیں تا کہ اعلیٰ ملازمتوں پر سے اشرافیہ کی سفارشی اولاد کا قبضہ ختم کیا جا سکے۔
Load Next Story