پاکستانی وبھارتی نجی شعبہ نان ٹیرف بیریئرز پر کمیٹی بنانے پر متفق
لاہور چیمبر اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے درمیان اجلاس میں اصولی فیصلہ
بھارت سے آزاد تجارت خطرہ ہے، فاروق افتخار، بھارتی وفد آج کراچی چیمبر کا دورہ کریگا۔ فوٹو: فائل
لاہورچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (سی آی آئی) کے درمیان بدھ کو منعقدہ اجلاس میں پاک بھارت تجارت میں حائل نان ٹیرف رکاوٹوں کو ہٹانے کیلیے کمیٹی بنانے پراصولی طور پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔
لاہور چیمبر میں اجلاس کے موقع پر صدر چیمبر فاروق افتخار اور 17 رکنی سی آئی آئی وفد کے سربراہ کرن وہرہ نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر لاہور چیمبر کے دیگر عہدیدار اور ارکان بھی موجود تھے۔نان ٹیرف رکاوٹوں کے لیے تجویز کردہ مشترکہ کمیٹی 10 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں 5 ارکان پاکستان اور 5 بھارت سے ہوں گے جو دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی بلارکاوٹ ترسیل میں حائل لاجسٹکس امور کا بھی جائزہ لیں گے، کمیٹی دونوں حکومتوں پر تجارت میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کیلیے دونوں حکومتوں پر دبائو ڈالے گی، اجلاس میں بھارت کی جانب سے ویزے نہ دینے کا معاملہ، فارما اور انجینئرنگ انڈسٹری کے خدشات پر بھی غور کیاگیا۔
کرن وہرہ نے کہا کہ بھارتی نجی شعبہ پاکستانی کاروباری برادری کو مضبوط بنانے کیلیے ہرممکن تعاون کرے گا۔ فاروق افتخارنے کہا کہ بھارتی معیشت کا حجم اور آزادتجارت ہماری صنعت کیلیے نسبتاً بڑا خطرہ ہے، پاکستان اور بھارت میں کاروباری لاگت، ڈیوٹی اسٹرکچر اور معیشتوں کا حجم مختلف ہے، بہترین طریقہ یہ ہے کہ اقتصادی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی سے آغاز کیا جائے، مشترکہ منصوبوں، آئوٹ سورسنگ اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ تجارت کو فروغ دینے کی راہ ہموار کرے گا۔ علاوہ ازیں سی آئی آئی کا وفد جمعرات کو کراچی چیمبر کا دورہ کرے گا، اس موقع پر ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
لاہور چیمبر میں اجلاس کے موقع پر صدر چیمبر فاروق افتخار اور 17 رکنی سی آئی آئی وفد کے سربراہ کرن وہرہ نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر لاہور چیمبر کے دیگر عہدیدار اور ارکان بھی موجود تھے۔نان ٹیرف رکاوٹوں کے لیے تجویز کردہ مشترکہ کمیٹی 10 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں 5 ارکان پاکستان اور 5 بھارت سے ہوں گے جو دونوں ممالک کے درمیان اشیا کی بلارکاوٹ ترسیل میں حائل لاجسٹکس امور کا بھی جائزہ لیں گے، کمیٹی دونوں حکومتوں پر تجارت میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کیلیے دونوں حکومتوں پر دبائو ڈالے گی، اجلاس میں بھارت کی جانب سے ویزے نہ دینے کا معاملہ، فارما اور انجینئرنگ انڈسٹری کے خدشات پر بھی غور کیاگیا۔
کرن وہرہ نے کہا کہ بھارتی نجی شعبہ پاکستانی کاروباری برادری کو مضبوط بنانے کیلیے ہرممکن تعاون کرے گا۔ فاروق افتخارنے کہا کہ بھارتی معیشت کا حجم اور آزادتجارت ہماری صنعت کیلیے نسبتاً بڑا خطرہ ہے، پاکستان اور بھارت میں کاروباری لاگت، ڈیوٹی اسٹرکچر اور معیشتوں کا حجم مختلف ہے، بہترین طریقہ یہ ہے کہ اقتصادی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی سے آغاز کیا جائے، مشترکہ منصوبوں، آئوٹ سورسنگ اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ تجارت کو فروغ دینے کی راہ ہموار کرے گا۔ علاوہ ازیں سی آئی آئی کا وفد جمعرات کو کراچی چیمبر کا دورہ کرے گا، اس موقع پر ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔