بھارت فتح کرنے کیلئے پاکستانی مشقوں کا کل آغاز

20 دسمبر تک تیاریاں جاری رہیں گی، انضمام بیٹسمینوں کو مشورے دیں گے، پریکٹس میچز کرانے کا بھی فیصلہ

سیریز سے قبل ہی بھارتی ٹیم مختلف تنازعات میں الجھ گئی،صدر بورڈ پرکپتان کی بے جا حمایت کا الزام، مہندرادھونی نے اوپنرگوتم گمبھیر کو خود غرص قراردیدیا. فوٹو: اے ایف پی/فائل

بھارت فتح کرنے کیلیے پاکستانی مشقوں کا آغاز جمعے سے ہو گا، سیریز کیلیے منتخب کرکٹرز جمعرات کو لاہور میں رپورٹ کریں گے۔ہیڈکوچ ڈیو واٹمور کی زیرنگرانی 20دسمبر تک تیاریاں جاری رہیں گی۔

کیمپ میں کھلاڑیوں کو تین سیشنز میں پریکٹس کرائی جائے گی، بولنگ کوچ محمد اکرم اور فیلڈنگ کوچ جولین فونٹین بھی موجود رہیں گے،14، 15 اور 16دسمبر کو صبح و شام دو الگ سیشنز میں ٹریننگ ہوگی۔ پہلا سیشن صبح 10 بجے سے شروع ہوگا جس میں فیلڈنگ اور فٹنس پر زور دیا جائے گا،ڈھائی بجے سے شروع ہونے والے دوسرے سیشن میں نیٹ پریکٹس ہوگی۔ قومی ٹیم 17 اور 19 دسمبر کو50 اوورز جبکہ 20 دسمبر کو ٹی 20 پریکٹس میچ کھیلے گی۔

کھلاڑی صبح ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور کے زیرنگرانی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں فزیکل ٹریننگ جبکہ شام کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں بیٹنگ اور بولنگ پریکٹس کریں گے۔ سابق کپتان انضمام الحق بھی کیمپ کے دوران بیٹسمینوں کی تکنیک درست کرائیں گے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹریننگ کیمپ میں تمام کھلاڑیوں کو ہر صورت شرکت یقینی بنانے کی سخت ہدایات کی ہیں۔

پاکستان ٹیم 22 دسمبر کو لاہور سے براستہ نئی دہلی، بنگلور روانہ ہوگی۔15رکنی ون ڈے اسکواڈ میں مصباح الحق (کپتان) ناصرجمشید، محمدحفیظ، اظہرعلی، یونس خان، حارث سہیل، کامران اکمل، سعید اجمل، وہاب ریاض، جنیدخان، عمرگل، عمران فرحت، عمراکمل، انورعلی اور ذوالفقار بابر شامل ہیں۔ ٹی20 ٹیم میں محمدحفیظ (کپتان) ناصرجمشید، کامران اکمل، عمراکمل، عمرامین، شعیب ملک، شاہدآفریدی، سعیداجمل، محمدعرفان، جنیدخان، سہیل تنویر،عمرگل، اسدعلی، ذوالفقار بابر اور احمد شہزاد کو رکھا گیا ہے۔




دریں اثنا پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورے سے قبل ہی بھارتی ٹیم مختلف تنازعات میں الجھ گئی،انگلینڈ کے ہاتھوں مسلسل دو ٹیسٹ میچز میں ناکامی کے بعد جہاں ایک طرف دھونی کو کپتانی سے ہٹانے کے مطالبے میں شدت آئی وہیں ٹیم میں اندرونی اختلافات اور قیادت کیلیے رسہ کشی کی خبریں بھی منظر عام پر آنے لگی ہیں۔ سابق کرکٹر اور سلیکٹر مہندر امرناتھ نے دعویٰ کیاکہ سلیکٹرز کی جانب سے دھونی کو قیادت سے ہٹانے کی متفقہ تجویز بورڈ صدر این سری نواسن نے مسترد کردی تھی، امرناتھ خود بھی اسی سلیکشن کمیٹی کا حصہ تھے۔

انھوں نے کہا کہ انگلینڈ کے بعد جب آسٹریلیا میں بھارتی ٹیم ٹیسٹ سیریز ہاری تو ہم نے اس کے بعد شیڈول ٹرائنگولر سیریز کیلیے قیادت کسی نوجوان کو سونپنے کی تجویز دی مگر سری نواسن نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال دھونی کو ہٹانے کا یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ اس بارے میں بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہاکہ اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا، سلیکشن کمیٹی اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہے، امرناتھ کے اس بیان کو کسی بھی صورت مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا، اس طرح کا کوئی بھی معاملہ میرے نوٹس میں نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق دھونی چونکہ سری نواسن کی آئی پی ایل فرنچائز چنئی سپر کنگز کے بھی کپتان ہیں اس لیے وہ ان کی بے جا حمایت کرتے ہیں،اگر دھونی کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ملک سے باہر مسلسل 8 ٹیسٹ ہارنے پر اس کی چھٹی ہوچکی ہوتی۔ دریں اثنا ٹیم ذرائع نے انکشاف کیاکہ دھونی، گوتم گمبھیر کے آن اور آف دی فیلڈ رویے سے خوش نہیں ہیں، انھوں نے گمبھیر کے بارے میں باقاعدہ بورڈ کو شکایت کی ہے کہ وہ ٹیم کیلیے نہیں بلکہ اپنے کھیلتے ہیں، انھوں نے اوپنر کو 'خودغرض' قرار دیتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انداز بیٹنگ پر تنقید کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھونی اس میچ کی پہلی اننگز میں وریندر سہواگ اور دوسری میں چتیشور پجارا کے رن آئوٹ کی وجہ بھی گمبھیر کو سمجھتے ہیں، جنھوں نے بعد میں ٹیل اینڈرز کے ساتھ بہتر کھیل پیش نہیں کیا جبکہ ایشون نے کہیں زیادہ عمدگی سے کھیل کر بھارت کو فالو آن سے بچایا۔ دوسری جانب گمبھیر کے قریبی ذرائع بھی میدان میں اترآئے،ان کا دعویٰ ہے کہ مہندرا سنگھ دھونی کی کپتانی چونکہ خطرات سے دوچار اور وہ اس معاملے میں گمبھیر کو خطرہ سمجھتے ہیں اس لیے ان کے خلاف سازش کررہے ہیں۔
Load Next Story