کک کو نئی تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع مل گیا
بھارت کیخلاف چوتھے ٹیسٹ میں عمدہ کھیل پر نمبر ون ٹیسٹ بیٹسمین بن جائینگے
دوسرے نمبر پر موجود آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک صرف ایک ریٹنگ پوائنٹ کی دوری پر ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی / فائل
KARACHI:
انگلینڈ کے کپتان الیسٹرکک کو نئی تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع مل گیا۔ وہ بھارت کیخلاف چوتھے ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی سے نمبر ون ٹیسٹ بیٹسمین بن سکتے ہیں، ایک اور سنچری انھیں سیریز میں 4 تھری فیگر اننگز سجانے والا چوتھا انگلش کرکٹر بنادے گی۔
تفصیلات کے مطابق اینڈریو اسٹروس کی ریٹائرمنٹ پر کپتانی ملنے کے بعد سے الیسٹرکک کا کھیل مسلسل نکھر رہا ہے، وہ بھارت کے خلاف سیریز میں اب تک 109.6 کی ایوریج سے 548 رنز بناچکے، انھوں نے مسلسل تینوں ٹیسٹ میچز میں سنچریاں اسکور کیں، اس عمدہ کاوش کی بدولت وہ ٹیسٹ بیٹسمین رینکنگ میں چوتھے نمبر پر پہنچ چکے اور اب ان کا ٹاپ پر موجود چندرپال سے فاصلہ صرف پانچ ریٹنگ پوائنٹ کا رہ گیا۔
اگرچہ دوسرے نمبر پر موجود آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک صرف ایک ریٹنگ پوائنٹ کی دوری پر ہیں، مگر ان کا سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ چونکہ بھارت انگلینڈ کے میچ سے ایک دن بعد ختم ہوگا اس لیے کک کے پاس مائیکل وان کے بعد ٹاپ بیٹسمین کا اعزاز پانے کا موقع موجود ہے، وان نے 2003 میں ٹاپ رینکنگ پوزیشن حاصل کی تھی۔
ان سے قبل گراہم گوچ (1994) اور ڈیوڈ گاویر (1986) یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ اگر الیسٹرکک ناگپور میں بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب رہے تو وہ ایک سیریز میں چار مرتبہ تھری فیگر اننگز سجانے والے چوتھے انگلش کرکٹر بن جائیں گے، ابھی یہ اعزاز ہربرٹ سٹکلف (دومرتبہ)، ویلی ہیمنڈ اور ڈینس کامپٹن کے پاس ہے۔ اگر انگلینڈ چوتھا ٹیسٹ جیتنے یا ڈرا کرنے میں کامیاب رہتا ہے تب بھی اس کی دوسری پوزیشن برقرار رہے گی، فتح کی صورت میں پوائنٹس 119 اور ڈرا پر 118 ہوجائیں گے لیکن اگر بھارتی ٹیم سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوگئی اور آسٹریلیا سری لنکا کو 3-0 سے شکست دے دیتا ہے تو پھر انگلش ٹیم تیسرے نمبر پر چلی جائے گی۔
انگلینڈ کے کپتان الیسٹرکک کو نئی تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع مل گیا۔ وہ بھارت کیخلاف چوتھے ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی سے نمبر ون ٹیسٹ بیٹسمین بن سکتے ہیں، ایک اور سنچری انھیں سیریز میں 4 تھری فیگر اننگز سجانے والا چوتھا انگلش کرکٹر بنادے گی۔
تفصیلات کے مطابق اینڈریو اسٹروس کی ریٹائرمنٹ پر کپتانی ملنے کے بعد سے الیسٹرکک کا کھیل مسلسل نکھر رہا ہے، وہ بھارت کے خلاف سیریز میں اب تک 109.6 کی ایوریج سے 548 رنز بناچکے، انھوں نے مسلسل تینوں ٹیسٹ میچز میں سنچریاں اسکور کیں، اس عمدہ کاوش کی بدولت وہ ٹیسٹ بیٹسمین رینکنگ میں چوتھے نمبر پر پہنچ چکے اور اب ان کا ٹاپ پر موجود چندرپال سے فاصلہ صرف پانچ ریٹنگ پوائنٹ کا رہ گیا۔
اگرچہ دوسرے نمبر پر موجود آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک صرف ایک ریٹنگ پوائنٹ کی دوری پر ہیں، مگر ان کا سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ چونکہ بھارت انگلینڈ کے میچ سے ایک دن بعد ختم ہوگا اس لیے کک کے پاس مائیکل وان کے بعد ٹاپ بیٹسمین کا اعزاز پانے کا موقع موجود ہے، وان نے 2003 میں ٹاپ رینکنگ پوزیشن حاصل کی تھی۔
ان سے قبل گراہم گوچ (1994) اور ڈیوڈ گاویر (1986) یہ اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ اگر الیسٹرکک ناگپور میں بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب رہے تو وہ ایک سیریز میں چار مرتبہ تھری فیگر اننگز سجانے والے چوتھے انگلش کرکٹر بن جائیں گے، ابھی یہ اعزاز ہربرٹ سٹکلف (دومرتبہ)، ویلی ہیمنڈ اور ڈینس کامپٹن کے پاس ہے۔ اگر انگلینڈ چوتھا ٹیسٹ جیتنے یا ڈرا کرنے میں کامیاب رہتا ہے تب بھی اس کی دوسری پوزیشن برقرار رہے گی، فتح کی صورت میں پوائنٹس 119 اور ڈرا پر 118 ہوجائیں گے لیکن اگر بھارتی ٹیم سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوگئی اور آسٹریلیا سری لنکا کو 3-0 سے شکست دے دیتا ہے تو پھر انگلش ٹیم تیسرے نمبر پر چلی جائے گی۔