بلاول کی قیادت میں ’’سلام شہدا ریلی‘‘ آج نکالی جائے گی

صبح10بجے بلاول ہاؤس سے آغاز،اختتام سانحہ کارسازکی یادگار پر ہوگا، بلاول جلسہ عام سے خطاب کرینگے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کامختلف استقبالیہ کیمپوں کا دورہ، ریلی سیاسی ماحول کو جلا بخشنے کا منفرد طریقہ ہے،قائم علی شاہ۔ فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام سانحہ کارساز کے شہداکی یادمیں '' سلام شہدا ریلی '' اتوارکونکالی جائے گی۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ریلی کی قیادت کریں گے اور سانحہ کارساز کے مقام پر جلسہ عام سے بھی خطاب کریں گے۔

یہ ریلی بلاول ہاؤس کراچی سے شروع اور کارساز پر اختتام پذیر ہو گی ۔ صبح 10 بجے ریلی کا آغاز ہو گا۔ ریلی کے راستے میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں ۔ ریلی کی تیاریوں کے لیے شہر بھر میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں پر پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں جمع ہو کر پارٹی ترانوں پر رقص کرتے ہوئے نظرآئے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سلام شہدا ریلی کی تیاریوں کے سلسلے میں بلاول ہاؤس کے سامنے بلاول چورنگی پرقائم کیمپ کا اچانک دورہ کیا اور کارکنان سے گھل مل گئے۔ بلاول بھٹو کواپنے درمیان پاکرکیمپ پرموجود کارکنان نے بلاول بھٹو کے حق میں خوب نعرے بازی کی اوران کا نعروں سے خیرمقدم کیا۔ اس مو قع پرپیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پارٹی ورکرزکا جذبہ دیکھ کرخوشی ہوئی ہے اورکارکنان کے حوصلے بلند ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ریلی کی تیاریوں کے لیے کارکنان کے پرجوش ہونے سے لگتا ہے کہ 16 اکتوبرکی ریلی ایک تاریخ ساز ریلی ہوگی۔

علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹرشیری رحمن ، سنیٹرسلیم مانڈوی والا اوربلاول ہاؤس کے ترجمان اعجازدرانی نے لی مارکیٹ پرپیپلزپارٹی کے کیمپ کا دورہ کیا اس موقع پرکارکنان نے اپنے خون سے دیے روشن کیے اورسانحہ 18 اکتوبرکے شہدا سے اظہار یکجہتی کیا۔ شیری رحمنٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام سولہ اکتوبرکوبلاول بھٹو کا تاریخی خیرمقدم کریں گے اورسلام شہداء ریلی کراچی کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔

دریں اثنا پیپلزپارٹی کی جانب سے سانحہ کارساز کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 16اکتوبر سے 18اکتوبر تک ریلیوں اور قرآن خوانی کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، شیڈول کے مطابق 16اکتوبر کو کراچی میں'' سلام شہدا ریلی'' نکالی جائے گی، 17اکتوبر کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں قرآن خوانی اور 18اکتوبر کو ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے تمام رہنماؤں کو شیڈول پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے ۔علاوہ ازیں ریلی بوٹ بیسن ، مائی کلاچی روڈ ، مولوی تمیز الدین خان روڈ ، جناح برج ، آئی سی آئی پل ، نواب مہابت خان جی روڈ، لی مارکیٹ ، نیپئر روڈ ، ایم اے جناح روڈ ، نمائش چورنگی ، شاہراہ قائدین اور شاہراہ فیصل سے ہوتے ہوئے کارسازپہنچے گی ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ضلع جنوبی اورضلع غربی کراچی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلاول ہاؤس سے ریلی میں شرکت کریں جبکہ کراچی کے دیگر 4 اضلاع کے رہنماؤں ، کارکنوں اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے راستوں سے کسی بھی جگہ ریلی میں آکر شرکت کریں۔


استقبالیہ کیمپس پر پمفلٹ بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں ، جن میں لوگوں کو ریلی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ شہر کی تمام اہم شاہراہوں پر ریلی کے حوالے سے بینرز لگائے گئے ہیں۔ ریلی کا مرکزی استقبالیہ کیمپ کارساز پر قائم کر دیا گیا ہے جبکہ کارساز پر لائٹنگ اور ساؤنڈ سسٹم کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی حفاظت کے لیے خصوصی دستہ '' جانثاران بلاول '' تیار کیا گیا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کے لیے ایک خصوصی ٹرک تیارکیا گیا ہے ۔ ٹرک میں خصوصی سیکیورٹی آلات نصب ہوں گے۔

سلام شہدا ریلی جب کارساز پہنچے گی توکارساز پل کے ایک طرف ریلی کے شرکا ہوں گے جبکہ ایئرپورٹ والی سائیڈ پربلاول بھٹو زرداری کا ٹرک ہو گا ۔ وہ اپنے ٹرک سے ہی ریلی کے شرکا سے خطاب کریں گے ۔ اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری 4 مختلف مقامات پر خطاب کریں گے ۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ریلی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے شہر میں لگائے گئے مختلف استقبالیہ کیمپس اور کارساز میں جلسہ گاہ کا دورہ کیا اور ریلی کے انتظامات کا خود جائزہ لیا۔

وزیراعلیٰ سندھ پروٹوکول کے بغیر چیف منسٹر ہاؤس سے روانہ ہوئے۔ جناح برج پر ان کی گاڑی ہیوی ٹریفک میں پھنس گئی ۔ وزیراعلیٰ سب سے پہلے لیاری گئے اور وہاں انھوں نے استقبالیہ کیمپ پر موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے ملاقاتیں کیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزرا مکیش کمار چاولہ ، ناصر حسین شاہ ، فیاض بٹ اور امداد پتافی بھی تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے چیل چوک سمیت لیاری میں تین استقبالیہ کیمپس کا دورہ کیا ۔ وہاں موجودکارکنوں نے جئے بھٹو اور جئے بے نظیر کے نعرے لگا کران کا استقبال کیا۔

لیاری سے وزیر اعلیٰ سندھ برنس روڈ پرموجود استقبالیہ کیمپ میں گئے اور وہاں سے نمائش چورنگی پرلگے ہوئے استقبالیہ کیمپ کا بھی دورہ کیا ۔ نمائش چورنگی سے وزیر اعلیٰ سیدھے کارساز پہنچے، جہاں انھوں نے یادگار شہدا کا معائنہ اور جلسے کے انتظامات کا جائزہ بھی لیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وہاں عام لوگوں سے بھی ملاقات کی۔

پیپلز پارٹی میڈیا سیل سندھ کے اعلامیے کے مطابق اتوارکوسانحہ کارساز کے شہدا کی نویں برسی کے موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلی کی تمام تیاریاں اور انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ریلی صبح 10 بجے بلاول ہاؤس سے روانہ ہوکر سانحہ کارساز کی یادگار شاہراہ فیصل پر اختتام پذیر ہوگی ، جہاں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کرینگے۔ ریلی کے روٹ اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں پیپلز لائرز فورم کی جانب سے نرسری اسٹاپ شاہراہ فیصل کے مقام پراستقبالیہ کیمپ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ اتوار کوسلام شہدا کے عنوان سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پہلی عظیم الشان ریلی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو اور مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے بھی خطاب کیا۔سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سلام شہدا ریلی ملک کی موجودہ صورت حال میں جمہوریت بالخصوص سیاسی ماحول کو جلا بخشنے کا ایک منفرد طریقہ ہے جس سے معاشرے میں پھیلنے والی مایوسی اور جمود کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

Load Next Story