گرین ہاؤس گیسز محدود کرنے پر عالمی معاہدہ طے پا گیا
روانڈا اجلاس میں طے کردہ معاہدہ تاریخی قرار، عملدرآمد2019سے ہوگا،مختلف ممالک کیلیے 3 الگ الگ طریقہ کار وضع کر دیے گئے
مونٹریال پروٹوکول میں ترمیم پراتفاق، پاکستان، انڈیا، ایران، عراق اورخلیجی ممالک کو 2028 تک ایچ ایف سی گیس ترک کرنے کی مہلت۔ فوٹو: اے ایف پی
لاہور:
زمین کے ماحول کے تحفظ کے لیے دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک نے ہائیڈروفلورو کاربن یعنی گرین ہاؤس گیسز کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسز ہیں جو فریزرز، ایئر کنڈیشنرز اور سپریز میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ اور یہ عالمی حدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔روانڈا میں ہونے والے اجلاس میں طے پانے والے اس نئے معاہدے کو ایک 'تاریخی' قرار دیا جا رہا ہے۔یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس معاہدے میں شریک ممالک نے مونٹریال پروٹوکول میں ایک مشکل ترمیم پر بھی اتفاق کیا جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک سے پہلے ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کو کم کریں گے۔
ان ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ 2019 سے اس پر عمل درآمد شروع کریں۔کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے جتنی توقعات ہیں اس قدر اس کے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔امریکی وزیر خارجہ نے اس معاہدے کوبڑا قدم قراردیا۔بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف انفرادی سطح پرممالک کی ضروریات کے بارے میں ہے بلکہ اس سے ہمیں یہ بھی موقع ملا ہے کہ ہم کرہ ارض کی حدت نصف ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کریں۔اس نئے معاہدے کے تحت مختلف ممالک کے لیے 3 الگ الگ طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔
معاشی طور پر مضبوط ممالک جیسے کہ یورپی ممالک،امریکا اوردیگر سے کہاگیا ہے کہ وہ ایچ ایف سی گیسوں کے استعمال کوچند سالوں کے اندر کم ازکم 10 فیصد کم کردیں۔چین، لاطینی امریکا اور جزیرہ نماریاستوں سے کہاگیا ہے کہ وہ سنہ 2024 تک ایچ ایف سی گیسوں کا استعمال مکمل طور پر بند کردیںدیگر ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان،انڈیا، ایران، عراق اورخلیجی ممالک شامل ہیں کو 2028 تک ان گیسوں کا استعمال ترک کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ چین ایچ ایف سی گیسوں کو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ وہ 2029 میں اپنی پیداوار میں کمی کرے گا۔جبکہ انڈیا کچھ تاخیر سے 2032 میں 10 فیصد کمی سے ساتھ ان گیسوں کے استعمال کو کم کرے گا۔اگر اس معاہدے پر صحیح معنوں میں عمل کیا جاتا ہے تو عالمی حدت میں بڑی حد تک کمی ہوگی۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس معاہدے پر عمل سے 2050 تک کْرہ ارض کے ماحول میں موجود 70 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ختم کی جا سکے گی۔گزشتہ برس دسمبر میں پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں تقریباً 2 ہفتے کی سرتوڑ کوششوں کے بعد ماحولیات کا حتمی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 2050 تک دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
زمین کے ماحول کے تحفظ کے لیے دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک نے ہائیڈروفلورو کاربن یعنی گرین ہاؤس گیسز کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسز ہیں جو فریزرز، ایئر کنڈیشنرز اور سپریز میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ اور یہ عالمی حدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔روانڈا میں ہونے والے اجلاس میں طے پانے والے اس نئے معاہدے کو ایک 'تاریخی' قرار دیا جا رہا ہے۔یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس معاہدے میں شریک ممالک نے مونٹریال پروٹوکول میں ایک مشکل ترمیم پر بھی اتفاق کیا جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک سے پہلے ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کو کم کریں گے۔
ان ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ 2019 سے اس پر عمل درآمد شروع کریں۔کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے جتنی توقعات ہیں اس قدر اس کے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔امریکی وزیر خارجہ نے اس معاہدے کوبڑا قدم قراردیا۔بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف انفرادی سطح پرممالک کی ضروریات کے بارے میں ہے بلکہ اس سے ہمیں یہ بھی موقع ملا ہے کہ ہم کرہ ارض کی حدت نصف ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کریں۔اس نئے معاہدے کے تحت مختلف ممالک کے لیے 3 الگ الگ طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔
معاشی طور پر مضبوط ممالک جیسے کہ یورپی ممالک،امریکا اوردیگر سے کہاگیا ہے کہ وہ ایچ ایف سی گیسوں کے استعمال کوچند سالوں کے اندر کم ازکم 10 فیصد کم کردیں۔چین، لاطینی امریکا اور جزیرہ نماریاستوں سے کہاگیا ہے کہ وہ سنہ 2024 تک ایچ ایف سی گیسوں کا استعمال مکمل طور پر بند کردیںدیگر ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان،انڈیا، ایران، عراق اورخلیجی ممالک شامل ہیں کو 2028 تک ان گیسوں کا استعمال ترک کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ چین ایچ ایف سی گیسوں کو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ وہ 2029 میں اپنی پیداوار میں کمی کرے گا۔جبکہ انڈیا کچھ تاخیر سے 2032 میں 10 فیصد کمی سے ساتھ ان گیسوں کے استعمال کو کم کرے گا۔اگر اس معاہدے پر صحیح معنوں میں عمل کیا جاتا ہے تو عالمی حدت میں بڑی حد تک کمی ہوگی۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس معاہدے پر عمل سے 2050 تک کْرہ ارض کے ماحول میں موجود 70 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ختم کی جا سکے گی۔گزشتہ برس دسمبر میں پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں تقریباً 2 ہفتے کی سرتوڑ کوششوں کے بعد ماحولیات کا حتمی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 2050 تک دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔