عوامی مقامات پر بیت الخلا تعمیر کرنے سے متعلق تفصیلات طلب
بنیادی سہولتوں کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، عدالت کے ریمارکس.
عوامی مقامات پرریمپ کی سہولت نہیں،معذور شہری مشکلات کا شکارہیں،ڈس ایبل ویلفیئر فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مشیر عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوبے میں عوامی مقامات پر بیت الخلا تعمیر کرنے کے متعلق صوبائی اور ضلعی حکومت کراچی سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی مقامی اور صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، جبکہ فاضل بینچ نے اس درخواست میں ڈس ایبل ویلفیئر ایسوسی ایشن کو بھی فریق بننے کی اجازت دیدی ہے، ایسوسی ایشن کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری عمارتوں میں معذوروں کیلیے ریمپ کی سہولت نہ ہونے سے معذور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
راہ راست ٹرسٹ کی درخواست میں سٹی گورنمنٹ کراچی کے وکیل خورشیدجاوید نے بتایاکہ انھوںنے فہرست صوبائی حکومت کے وکیل کو فراہم کردی ہے جو صوبے کے ہرضلع سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرینگے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میراں محمد شاہ نے بتایاکہ مختلف مقامات کی نشاندہی کرلی گئی ہے جہاں بیت الخلا تعمیر کیے جائینگے، درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ جو مقامات بیت الخلا کی تعمیر کیلیے ظاہر کیے جارہے ہیں وہ اکثر سرکاری عمارتوں میں ہیں یہ عام شہریوں کیلیے نہیں تاہم وہ اس فہرست کا جائزہ لے کر عدالت کو صورتحال سے آگاہ کرینگے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی مقامی اور صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، جبکہ فاضل بینچ نے اس درخواست میں ڈس ایبل ویلفیئر ایسوسی ایشن کو بھی فریق بننے کی اجازت دیدی ہے، ایسوسی ایشن کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری عمارتوں میں معذوروں کیلیے ریمپ کی سہولت نہ ہونے سے معذور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
راہ راست ٹرسٹ کی درخواست میں سٹی گورنمنٹ کراچی کے وکیل خورشیدجاوید نے بتایاکہ انھوںنے فہرست صوبائی حکومت کے وکیل کو فراہم کردی ہے جو صوبے کے ہرضلع سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرینگے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میراں محمد شاہ نے بتایاکہ مختلف مقامات کی نشاندہی کرلی گئی ہے جہاں بیت الخلا تعمیر کیے جائینگے، درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ جو مقامات بیت الخلا کی تعمیر کیلیے ظاہر کیے جارہے ہیں وہ اکثر سرکاری عمارتوں میں ہیں یہ عام شہریوں کیلیے نہیں تاہم وہ اس فہرست کا جائزہ لے کر عدالت کو صورتحال سے آگاہ کرینگے۔