رکن بلوچستان اسمبلی بختیار ڈومکی کے قافلے پر حملہ
کوئٹہ جارہے تھے کچھی میں پہاڑوں سے راکٹ داغے گئے، معجزانہ طور پر محفوظ رہے
کوئٹہ جارہے تھے کچھی میں پہاڑوں سے راکٹ داغے گئے، معجزانہ طور پر محفوظ رہے فوٹو : فائل
BAHAWALPUR:
رکن صوبائی اسمبلی سردار زادہ میربختیار خان ڈومکی کے قافلے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
تفصیلات کے مطابق نواب اکبر بگٹی کے نواسے رکن بلوچستان اسمبلی سردار زادہ میربختیار خان ڈومکی اپنے قافلے کے ہمراہ لہڑی سے کوئٹہ جارہے تھے کہ ضلع کچھی کے علاقہ بی بی نانی کے قریبی پہاڑوں سے ان کے قافلے پر راکٹ داغے گئے جس کے نتیجے میں ان کے قافلے میں شامل گاڑیوں کو جزوی نقصان ہوا اور کئی محافظ زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں تاہم میربختیارخان ڈومکی اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
نمائندے کے مطابق قاتلانہ حملے کیخلاف آج ڈیرہ مرادجمالی میں احتجاجاً شٹرڈائون ہڑتال اور احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ دریں اثناء صوبائی وزیر مواصلات حاجی علی مدد جتک نے رکن صوبائی اسمبلی و قبائلی رہنما میر بختیار خان ڈومکی اور ان کے ساتھیوں پر راکٹ فائرنگ کو صوبے کی سیاسی و قبائلی روایات پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے رہنمائوں نے بھی میر بختیار خان ڈومکی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات بلوچستان میں لگی آگ میں شدت لانے کی سازش ہے۔ واضح رہے کہ 30 جنوری 2012ء کو ان اہلیہ اور بیٹی کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں پشین سے نمائندے کے مطابق منزرئی میں دوگروہوں کے مسلح تصادم میں ایک شخص دلبر خان جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ ڈیرہ بگٹی سے نمائندے کے مطابق پٹوخ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص خاوند بخش جاں بحق اور جمعہ خان زخمی ہوگیا۔ سبی سے نمائندے کے مطابق تلی میں بارودی سرنگ دھماکے میں دوافراد زخمی ہوگئے۔ ڈیرہ اﷲ یار قومی شاہراہ پر مسلح افراد ٹرک ڈرائیور گل رحمان کو اغوا کرکے لے گئے جس پر ٹرک والوں نے شدید احتجاج کیا اور قومی شاہراہ بلاک کردی۔ قلعہ عبداﷲ کے علاقے گلستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک شخص سپن کے گھر چھاپہ مارکر 110 کلاشنکوفیں برآمدکرلیں۔
رکن صوبائی اسمبلی سردار زادہ میربختیار خان ڈومکی کے قافلے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
تفصیلات کے مطابق نواب اکبر بگٹی کے نواسے رکن بلوچستان اسمبلی سردار زادہ میربختیار خان ڈومکی اپنے قافلے کے ہمراہ لہڑی سے کوئٹہ جارہے تھے کہ ضلع کچھی کے علاقہ بی بی نانی کے قریبی پہاڑوں سے ان کے قافلے پر راکٹ داغے گئے جس کے نتیجے میں ان کے قافلے میں شامل گاڑیوں کو جزوی نقصان ہوا اور کئی محافظ زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں تاہم میربختیارخان ڈومکی اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
نمائندے کے مطابق قاتلانہ حملے کیخلاف آج ڈیرہ مرادجمالی میں احتجاجاً شٹرڈائون ہڑتال اور احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ دریں اثناء صوبائی وزیر مواصلات حاجی علی مدد جتک نے رکن صوبائی اسمبلی و قبائلی رہنما میر بختیار خان ڈومکی اور ان کے ساتھیوں پر راکٹ فائرنگ کو صوبے کی سیاسی و قبائلی روایات پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے رہنمائوں نے بھی میر بختیار خان ڈومکی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات بلوچستان میں لگی آگ میں شدت لانے کی سازش ہے۔ واضح رہے کہ 30 جنوری 2012ء کو ان اہلیہ اور بیٹی کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں پشین سے نمائندے کے مطابق منزرئی میں دوگروہوں کے مسلح تصادم میں ایک شخص دلبر خان جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ ڈیرہ بگٹی سے نمائندے کے مطابق پٹوخ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص خاوند بخش جاں بحق اور جمعہ خان زخمی ہوگیا۔ سبی سے نمائندے کے مطابق تلی میں بارودی سرنگ دھماکے میں دوافراد زخمی ہوگئے۔ ڈیرہ اﷲ یار قومی شاہراہ پر مسلح افراد ٹرک ڈرائیور گل رحمان کو اغوا کرکے لے گئے جس پر ٹرک والوں نے شدید احتجاج کیا اور قومی شاہراہ بلاک کردی۔ قلعہ عبداﷲ کے علاقے گلستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک شخص سپن کے گھر چھاپہ مارکر 110 کلاشنکوفیں برآمدکرلیں۔