بھارت کو تنازع کشمیر پر مذاکرات کی دعوت

پاکستان نے بھارت کی مشروط مذاکرات کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں کشمیر مائنس نہیں ہو گا

، فوٹو؛ فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے سے گریز کیا ہے، خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، بھارت کو اپنے وعدے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلہ کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اڑی جیسے واقعات بھارت کی جانب سے کشمیر میں مظالم کا ردعمل ہیں۔ اڑی واقعہ کے 6گھنٹے گزرنے کے بعد ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کر دی، پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے ، وہ ایک امن پسند ملک ہے۔

لائن آف کنٹرول سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی۔ پاکستان نے کئی بار مذاکرات کے ذریعے دیرینہ مسائل کے حل کی پیشکش کی تاہم بھارت کی جانب سے اس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا، اگر وہ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اگر بھارت کشمیر کو سائیڈ لائن کریگا تو بات نہیں ہو سکتی۔ تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے لیکن ہمارا موقف ہے مقبوضہ کشمیر میں اب تحریک نوجوانوں کے ہاتھ میں آ چکی ہے، لوگ خود اپنے اوپر ظلم کا بدلہ لے رہے ہیں۔ نریندر مودی بات کرنے کو تیار ہیں تو ہم بھی کشمیر پر بات کرنے کو تیار ہیں، لیکن جب بھی بات ہو گی کشمیر پر سب سے پہلے بات ہو گی، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ اس خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، پاکستان بھارت کو بارہا مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے، اب جب بھارت خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا اور پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر سازشوں کے جال بن رہا ہے، ان کشیدہ حالات میں بھی وزیراعظم نواز شریف نے خطے کے امن کو ترجیح دیتے ہوئے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن انھوں نے واضح کر دیا کہ اس میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی جائے گی۔ پاکستان نے جب بھی بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تو اس نے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر راہِ فرار اختیار کی۔ بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، وہ پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر کشمیر پر بات نہیں ہو گی۔

پاکستان نے بھارت کی مشروط مذاکرات کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں کشمیر مائنس نہیں ہو گا۔ اب ایک بار پھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اگر بھارت کشمیر کو سائیڈ لائن کرے گا تو بات نہیں ہو سکتی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پاکستان کے بارے میں خیالات، بیانات اور پالیسیوں کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو بڑی تشویش ناک صورت حال ابھرتی ہے، نریندر مودی کے سر پر جنگی جنون سوار ہے اور وہ ہر صورت پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔


جس کا اعلان وہ بارہا کر چکے ہیں، گزشتہ دنوں بھی انھوں نے یہ بڑھک لگائی تھی کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دیں گے، پاکستان کے خلاف ان کا تعصب کھل کر سامنے آ چکا ہے، ہفتے کو بھارت کے شہر گووا میں برکس اجلاس کے موقع پر بھی وہ شرپسندی سے باز نہیں آئے اور روسی صدر سے ملاقات میں شوشہ چھوڑتے ہوئے کہا کہ دو نئے دوستوں کے بجائے ایک پرانا دوست بہتر ہوتا ہے۔

بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے جدید ترین ہتھیاروں کے انبار لگا رہا ہے، پہلے اس نے امریکا کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کیے، اب اس نے روس کے ساتھ جدید ترین میزائل دفاعی نظام اور دیگر ہتھیار خریدنے کے معاہدے کیے ہیں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ عالمی قوتیں بھی بھارت کے اس جنگی جنون میں اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔ عالمی قوتوں کا منافقانہ رویہ بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے، ایک جانب وہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور امن کی بات کرتی ہیں تو دوسری جانب خوفناک ہتھیاروں کی اربوں ڈالر کی تجارت کے معاہدے بھی کرتی ہیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ کئی نئے مسائل جنم دیتی ہے، شام، عراق، افغانستان، لیبیا اور یمن کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔

ایک جانب بھارت نے اسلحے کی دوڑ شروع کر رکھی ہے جس کے منفی اثرات پورے خطے کی معیشت اور استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے وہ آئے دن سرحدوں پر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے،اتوار کو بھی اس نے کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کی ۔پاکستان کے باربار احتجاج کے باوجود بھارت سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنے سے باز نہیں آ رہا۔

عالمی قوتوں کا گیم پلان بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے بجائے خطے میں جنگی جنون اور کشیدگی کو ہوا دینے میں پس پردہ کردار ادا کر رہی ہیں کیونکہ وہ بخوبی جانتی ہیں کہ جب تک مسئلہ کشمیر موجود ہے اس خطے میں ان کا اسلحہ بکتا رہے گا۔ بھارتی حکمرانوں کو عالمی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ خطے کا استحکام پرامن مذاکرات ہی میں مضمر ہے لہٰذا باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔
Load Next Story