آئی ایم ایف پاکستان کونیا قرضہ دینے پر مشروط رضامند

ایمنسٹی اسکیم،ایس آراوکلچرختم،زیروریٹنگ بتدریج کم،ٹیکس وصولیاں بہتربنانیکی شرائط عائد.

اختلافات سے قرضہ لیٹ ہونیکاخدشہ،پروگرام منظوری سے آئی ایم ایف30 کروڑ ڈالردیگا،ذرائع۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو چار سالہ پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ پروگرام کے تحت نیا قرضہ دینے پرمشروط رضامندی ظاہرکردی ہے جبکہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لینے کیلیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ لانے کی شرط ماننے پر بھی آمادگی ظاہرکردی ہے۔

تاہم پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے آپس کے اختلافات کے باعث آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی منظوری تاخیرکا شکار ہونیکا خطرہ ہے۔اس ضمن میں وزیرخزانہ عبد الحفیظ شیخ کی قیادت میں پاک امریکہ سٹریٹیجک مذاکرات کے موقع پرکالا دھن سفیدکرنے کیلیے ایمنسٹی سکیم لانے کیلیے آئی ایم ایف حکام سے ہونیوالی حالیہ سائیڈلائن ملاقاتوں میں شریک ٹیم کے اہم ممبرنے ''ایکسپریس'' آئی ایم ایف نے پاکستان کوچار سالہ مدت کیلیے ایکسٹینڈڈفنڈ پروگرام دینے پرآمادگی ظاہرکی ہے اس کیلیے عائد شرائط عائدکا پورا کرنا بہت آسان ہے۔




ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ بھی پیشکش کی ہے کہ اگرپاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت اس پروگرام کومزید بڑھانا چاہے تووہ بڑھا سکے گی ۔ ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم لانے کی تجویزکی مخالفت کی تھی اورنئے پروگرام کیلیے یہ سکیم ختم کرنیکی شرط عائدکی تھی اس کے علاوہ ایس آراوکلچرختم کرنیکی شرط عائد کی ہے اورکہاکہ صرف بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ کی منظوری سے ٹیکس عائدکئے جائیں اگررعایت دینا یا کمی کرنا ہے تو وہ بھی بجٹ میں ہی دی جائے اور ایس آر اوز سے ٹیکسوںکی شرح میں ردوبدل کرنا یا ٹیکسوں میں چھوٹ کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

علاوہ ازیں زیرو ریٹنگ بتدریج کم کرنے اور واپس لینے کی شرط عائدکی ہے پاکستان نے ان شرائط پررضامندی ظاہرکی ہے کیونکہ یہ سب اقدامات پاکستان پہلے ہی کر رہاہے اوربہت سی اشیا پر زیروریٹنگ کیس سہولت ختم کی جاچکی ہے۔آئی ایم ایف نے یہ شرط بھی عائدکی ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری لائی جائے۔
Load Next Story