سی این جی کا بحران پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ
سی این جی کی بندش کا زیادہ نقصان ٹرانسپورٹرز اورعوام بھگت رہے ہیں،زائد کرایوں کی طلبی پر کنڈیکٹرز اور شہریوں میں تکرار
سی این جی کی لوڈ شیڈنگ کے سبب ناظم آباد میں شہری اسٹاپ پر پریشان کھڑے ہیں جبکہ ایک کوچ کی چھت پر مسافر خطرناک انداز میں سفر کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
شہر میں سی این جی کے مسلسل بحران کو وجہ بناتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا۔
زائد کرایوں کی طلبی پرکنڈیکٹرز اور شہریوں میں سخت تکرار ، بیشتر جگہوں پر ہاتھا پائی تک نوبت آگئی، شہریوں نے کرایوں میں غیرقانونی اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی کوئی رٹ شہر میں نظر نہیں آتی، کرایوں میں غیرقانونی اضافہ عوام کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے، حکومت ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے، ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ سی این جی کی بندش کے دوران گاڑیاں ایل پی جی پر چلائی جا رہی ہیں جس کے باعث کرایوں میں عارضی طور پر اضافہ کیا ہے تاہم جیسے ہی قدرتی گیس کی فراہمی بحال ہوگی کرایہ سرکاری لسٹ کے مطابق وصول کیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے ہفتہ وار دو سے تین روز تک سی این جی کی فراہمی بند کردی جاتی ہے جبکہ سی این اسٹیشن مالکان بھی کئی کئی روز تک قیمتوں میں اضافے کیلیے احتجاجاً سی این جی کی فراہمی روک دیتے ہیں، قدرتی گیس کی کمی یا بندش کا سب سے زیادہ نقصان پبلک ٹرانسپورٹرز اور غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، سی این جی لوڈ شیڈنگ کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت ہوجاتی ہے اور عوام کو دستیاب گاڑیوں میں دروازوں وپشت کے پائیدان پر لٹک کر اور چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنا پڑتا ہے، ٹرانسپورٹرز نے اس بحران سے تنگ آکر اپنی گاڑیوں میں اضافی ایل پی جی سلنڈر رکھنا شروع کردیے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ ایل پی جی کی قیمت سی این جی سے کافی زیادہ ہے اس لیے سی این جی بحران کے دوران ہم زائد کرایہ چارج کرنے پر مجبور ہیں تاہم کرایہ جات میں اضافہ عارضی ہے اور سی این جی کی بحالی پر کرایہ سرکاری نرخ کے مطابق وصول کیا جائیگا، نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے مطابق بسوں اور منی بسوں کے بیشتر روٹس پر چار سے پانچ روپے زائد کرایہ وصول کیا جارہا ہے جبکہ کوچز میں بھی اکثر مقامات پر سرکاری نرخ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2 روپے زائد وصول کیے جارہے ہیں، بعض ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ سی این جی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران سپرہائی وے، ماڑی پور اور ہاکس بے روڈ پر چند بااثر شخصیات کے اسٹیشنز کھلے رہتے ہیں جہاں سے مہنگے داموں ٹرانسپورٹرز سی این جی بھرواتے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ اگر حکومت بحران کے دوران ٹرانسپورٹرز کو سی این جی کی فراہمی سرکاری نرخ کے مطابق کردے تو ہم کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے، دیگر ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمت125روپے فی کلو اور سی این جی کی قیمت فی کلو 54روپے ہے، جو ٹرانسپورٹرز سی این جی بحران کے دوران ایل پی جی استعمال کرتے ہیں وہ مجبوراً زائد کرایہ چارج کرتے ہیں تاہم جیسے ہی سی این جی کی فراہمی بحال ہوتی ہے کرایوں میں فوری کمی کردی جاتی ہے، شہریوں کا کہنا ہے ہفتے میں دو دن سی این جی کے بجائے کوئی دوسرا ایندھن استعمال کرکے سرکاری کرایہ نامے کی خلاف ورزی کرنا بلاجواز ہے۔
زائد کرایوں کی طلبی پرکنڈیکٹرز اور شہریوں میں سخت تکرار ، بیشتر جگہوں پر ہاتھا پائی تک نوبت آگئی، شہریوں نے کرایوں میں غیرقانونی اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی کوئی رٹ شہر میں نظر نہیں آتی، کرایوں میں غیرقانونی اضافہ عوام کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے، حکومت ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے، ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ سی این جی کی بندش کے دوران گاڑیاں ایل پی جی پر چلائی جا رہی ہیں جس کے باعث کرایوں میں عارضی طور پر اضافہ کیا ہے تاہم جیسے ہی قدرتی گیس کی فراہمی بحال ہوگی کرایہ سرکاری لسٹ کے مطابق وصول کیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے ہفتہ وار دو سے تین روز تک سی این جی کی فراہمی بند کردی جاتی ہے جبکہ سی این اسٹیشن مالکان بھی کئی کئی روز تک قیمتوں میں اضافے کیلیے احتجاجاً سی این جی کی فراہمی روک دیتے ہیں، قدرتی گیس کی کمی یا بندش کا سب سے زیادہ نقصان پبلک ٹرانسپورٹرز اور غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، سی این جی لوڈ شیڈنگ کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت ہوجاتی ہے اور عوام کو دستیاب گاڑیوں میں دروازوں وپشت کے پائیدان پر لٹک کر اور چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنا پڑتا ہے، ٹرانسپورٹرز نے اس بحران سے تنگ آکر اپنی گاڑیوں میں اضافی ایل پی جی سلنڈر رکھنا شروع کردیے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ ایل پی جی کی قیمت سی این جی سے کافی زیادہ ہے اس لیے سی این جی بحران کے دوران ہم زائد کرایہ چارج کرنے پر مجبور ہیں تاہم کرایہ جات میں اضافہ عارضی ہے اور سی این جی کی بحالی پر کرایہ سرکاری نرخ کے مطابق وصول کیا جائیگا، نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے مطابق بسوں اور منی بسوں کے بیشتر روٹس پر چار سے پانچ روپے زائد کرایہ وصول کیا جارہا ہے جبکہ کوچز میں بھی اکثر مقامات پر سرکاری نرخ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2 روپے زائد وصول کیے جارہے ہیں، بعض ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ سی این جی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران سپرہائی وے، ماڑی پور اور ہاکس بے روڈ پر چند بااثر شخصیات کے اسٹیشنز کھلے رہتے ہیں جہاں سے مہنگے داموں ٹرانسپورٹرز سی این جی بھرواتے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ اگر حکومت بحران کے دوران ٹرانسپورٹرز کو سی این جی کی فراہمی سرکاری نرخ کے مطابق کردے تو ہم کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے، دیگر ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمت125روپے فی کلو اور سی این جی کی قیمت فی کلو 54روپے ہے، جو ٹرانسپورٹرز سی این جی بحران کے دوران ایل پی جی استعمال کرتے ہیں وہ مجبوراً زائد کرایہ چارج کرتے ہیں تاہم جیسے ہی سی این جی کی فراہمی بحال ہوتی ہے کرایوں میں فوری کمی کردی جاتی ہے، شہریوں کا کہنا ہے ہفتے میں دو دن سی این جی کے بجائے کوئی دوسرا ایندھن استعمال کرکے سرکاری کرایہ نامے کی خلاف ورزی کرنا بلاجواز ہے۔