لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے حساس ادارے فوکل پرسن تعینات کریں سندھ ہائیکورٹ

آئندہ سماعت تک فوکل پرسنز مقرر نہ ہو ئے تو آئی ایس آئی،ایم آئی اور آئی بی کے سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کیے جائیں گے

آئندہ سماعت تک فوکل پرسنز مقرر نہ ہو ئے تو آئی ایس آئی،ایم آئی اور آئی بی کے سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا شہریوں کے متعلق اینٹلی جنس اداروں کی جانب سے فوکل پرسن مقرر نہ کرنے پر برہمی کااظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس مشیرعالم اور جسٹس شفیع صدیقی پرمشتمل 2 رکنی بینچ نے چیف آف آرمی اسٹاف،سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کیلیے آئی ایس آئی،ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) اور آئی بی کے فوکل پرسنز مقرر کیے جائیں، اگر آئندہ سماعت31دسمبر تک فوکل پرسنز مقرر نہ کیے گئے تو آئی ایس آئی،ایم آئی اور آئی بی کے سربراہوں کو بھی براہ راست نوٹس جاری کیے جائیں گے، 2رکنی بینچ نے جمعرات کو متعدد لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کی۔

رحیم سعید خان کی گمشدگی کے حوالے سے اس کے والد محمد حسن کی درخواست کی سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ حساس اداروں کی جانب سے تاحال فوکل پرسنز مقرر نہیں کیے گئے ہیں، عدالت نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آبزرو کیا کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے عدالتی احکامات کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے،ڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل نے عدالت کو بتایا کہ جی ایچ کیو کو 16نومبر کو خط لکھ دیا گیا تھا جس میں فوکل پرسن مقرر کرنے سے متعلق عدالتی حکم سے آگاہ کردیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے فوکل پرسن تعینات کردیا گیاہے وہ اس کے بارے میں قانون نافذ کرنیوالے مقامی اداروں کو تفصیلات فراہم کردینگے ،محمد حسن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اسکے بیٹے رحیم سعیدخان کو15اگست 2012کو سرجانی ٹائون کے علاقے سے قانون نافذ کرنیوالے ادارے گرفتار کرکے لے گئے جو تاحال لاپتہ ہے، عدالت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے سرکاری اداروں کی رپورٹ پر عدم اطمینان کااظہار کیا اور محسوس کیا کہ پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی کارکردگی متاثر نہ ہو، عدالت نے حکم دیا کہ کسی بھی تھانے کے حوالے سے مقدمہ درج نہ کرنے کی شکایت ملی تو متعلقہ ایس ایچ او کے خلاف کارروائی ہوگی اور کم از کم 10ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔




عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ پولیس کی کارکردگی کا جائزہ مقدمات کی تعداد سے نہیں بلکہ تفتیش اورمقدمہ حل کرنے سے اصل کارکردگی کا پتا چلتا ہے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ154کے تحت پولیس پابند ہے کہ مقدمہ درج کرے، فاضل بینچ نے یہ ریمارکس عبدالستار ابڑو کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دیے ، درخواست گزار کے مطابق اس کے بیٹے نور محمد اور ڈرائیور کو 27فروری کو نامعلوم افراد اٹھا لے گئے تھے لیکن پولیس نے انتہائی جدوجہد کے بعد جون میں ایف آئی آر درج کی تاہم ابھی تک اس کے بیٹے اور ڈرائیور کے بارے میں علم نہیں، غیر ملکی اسپتال کے ملازم آئزک سمسن کی گمشدگی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت پر عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو غیرتسلی بخش قراردیا۔

یونس صادق کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کا بیٹا آئزک سمسن 29فروری 2012کو معمول کے مطابق اورنگی ٹائون میں واقع غیر ملکی اسپتال ملازمت پر جارہا تھا کہ بعض افراد نے اسے اور اس کے ساتھی جاوید اندریاس کو اغواء کرلیا، بعد ازاں جاوید اندریاس فرار ہوگیا تھا، عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں،لاپتا افراد اور اغواء برائے تاوان کے مقدمات میں استعمال ہونے والے موبائل فون کاڈیٹا حاصل کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کی جائے،گلفام بی بی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس بیٹا اشفاق احمد 13 اگست 2009 کو اردوبازار گیا تھا واپس نہیں آیا،فضل رحیم نے کہا ہے کہ اس کا بیٹا سجاد رحیم 13مئی2011سے لاپتا ہے،مسمات سمعیہ نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے فیض علی کو 7جنوری2011کو گرفتار کیا گیا۔

سعید خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے بھائی فیاض خان اور اسکے دوست محمد عمران خان کو 17 اپریل 2011 کو حراست میں لیا گیا،مسعود حسن نے کہا ہے کہ اس کے بھائی آصف اقبال کو 21جون2011کو حراست میں لیا گیا، مسمات عائشہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے شوہر محمدافضل کو 22اپریل2011کو جوڑیابازار سے حراست میں لیا گیا جبکہ اسکے دیور سعود میمن کو بھی حراست میں لیاگیا تھا،محمدزمان نے کہا ہے کہ اس کے عزیزوں محمد سلیمان، پیرزادہ، محمد طاہر، ایاز خان، باسن خان،فرحان اللہ اور بسم اللہ خان کو بھی چند ماہ قبل حراست میں لیا گیا مگر رہا نہیں کیا گیا۔
Load Next Story