سینیٹ اجلاس میں وزرا کی عدم شرکت پر ارکان کا شدید احتجاج
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے ا سٹیل ملز میں کرپشن سے متعلق رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سپرد
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے ا سٹیل ملز میں کرپشن سے متعلق رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سپرد فوٹو: فائل
سینیٹ کے88 ویں سیشن میں بھی وزرا کی عدم شرکت کا مسئلہ برقرار رہا ۔
دونوں اطراف کے اراکین نے اس بارے میں شدید احتجاج کیا، وزیرمملکت برائے پیداوار خواجہ شیراز محمود نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملزمیں بے قاعدگیاں میرے استعفیٰ کی وجہ سے ختم ہوسکتی ہیں اور بہتری آسکتی ہے تومیں مستعفی ہونے کوتیارہوں، ان بے قاعدگیوں کا دفاع نہیں کرسکتا، قائمہ کمیٹی میں متعلقہ حکام کوبلوایا جائے، وزیرمملکت کی رائے کے بعد قائم مقام چیئرمین سینیٹ سینیٹرصابر بلوچ نے اسٹیل ملزکے حسابات کے بارے میں آڈٹ رپورٹ پرعملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیا، سینیٹ کااجلاس شروع ہوا تووزارت فوڈ ، سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر تھے اور نہ ہی وزیر مملکت موجود تھے۔
اسی طرح ایوان میں وزارت صنعت کے وزیر اور وزیرمملکت بھی غائب تھے، سینیٹر زاہد خان ، سینیٹر مشاہداﷲ خان ، سینیٹرطاہر حسین مشہدی ، سینیٹر بیگم نزہت صادق سمیت دیگر نے شدید احتجاج کیا اور قائم مقام چیئرمین سے سخت حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا، قائد حزب اختلاف سینیٹراسحق ڈار نے کہاکہ تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے باوجود سینیٹ میں وزیراعظم کے وقفہ سوالات اور نکتہ اعتراض کے بار ے میں زیروآور مقررکرنے کے بارے قواعد وضوابط میں ترمیم نہیں ہوسکی ہے۔
سینیٹر زاہد خان نے کہاکہ وزیراعظم کوایوان بالا میں آنا تھا وہ سینیٹ کو نظر اندازکیے ہوئے ہیں، وزرا کس طرح آئیں گے، سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہاکہ لگتا ہے کہ وزرا سوئے ہوئے ہیں جب یہ کام نہیں کر سکتے تو اپنے عہدے کیوں نہیں چھوڑتے، وزیر مملکت برائے پیداوار خواجہ شیراز محمود نے کہا کہ آڈیٹرز نے آڈٹ رپورٹ میں ا سٹیل ملزکے حوالے سے الزامات اور تحقیقات کی رپورٹ پیش کی ہے، تیارشدہ مصنوعات کی قیمتوں میں شدیدکمی کردی تاکہ چند خریداروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
کورٹ نے معاملہ نیب کے حوالے کردیا ہے، نیب نے تحقیقات شروع کردی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ میں جنرل منیجرقیصرسلیم ، شمسی حسن، ڈی جی ایم اے ، غیاص سبحان ، سابق ڈائریکٹر ٹریڈ سمین اصغر ،ایک اور ڈی جی ایم شامل ہیں، جنہوں نے قصورکیا ہے انھیں بلایا جائے، مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ وزیرموصوف اگرکرپشن نہیں روک سکتے تومستعفی ہوجائیں، خواجہ شیراز محمود نے کہاکہ میرے استعفیٰ سے معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں تومیں مستعفی ہونے کیلیے تیارہوں۔
دونوں اطراف کے اراکین نے اس بارے میں شدید احتجاج کیا، وزیرمملکت برائے پیداوار خواجہ شیراز محمود نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملزمیں بے قاعدگیاں میرے استعفیٰ کی وجہ سے ختم ہوسکتی ہیں اور بہتری آسکتی ہے تومیں مستعفی ہونے کوتیارہوں، ان بے قاعدگیوں کا دفاع نہیں کرسکتا، قائمہ کمیٹی میں متعلقہ حکام کوبلوایا جائے، وزیرمملکت کی رائے کے بعد قائم مقام چیئرمین سینیٹ سینیٹرصابر بلوچ نے اسٹیل ملزکے حسابات کے بارے میں آڈٹ رپورٹ پرعملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیا، سینیٹ کااجلاس شروع ہوا تووزارت فوڈ ، سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر تھے اور نہ ہی وزیر مملکت موجود تھے۔
اسی طرح ایوان میں وزارت صنعت کے وزیر اور وزیرمملکت بھی غائب تھے، سینیٹر زاہد خان ، سینیٹر مشاہداﷲ خان ، سینیٹرطاہر حسین مشہدی ، سینیٹر بیگم نزہت صادق سمیت دیگر نے شدید احتجاج کیا اور قائم مقام چیئرمین سے سخت حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا، قائد حزب اختلاف سینیٹراسحق ڈار نے کہاکہ تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے باوجود سینیٹ میں وزیراعظم کے وقفہ سوالات اور نکتہ اعتراض کے بار ے میں زیروآور مقررکرنے کے بارے قواعد وضوابط میں ترمیم نہیں ہوسکی ہے۔
سینیٹر زاہد خان نے کہاکہ وزیراعظم کوایوان بالا میں آنا تھا وہ سینیٹ کو نظر اندازکیے ہوئے ہیں، وزرا کس طرح آئیں گے، سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہاکہ لگتا ہے کہ وزرا سوئے ہوئے ہیں جب یہ کام نہیں کر سکتے تو اپنے عہدے کیوں نہیں چھوڑتے، وزیر مملکت برائے پیداوار خواجہ شیراز محمود نے کہا کہ آڈیٹرز نے آڈٹ رپورٹ میں ا سٹیل ملزکے حوالے سے الزامات اور تحقیقات کی رپورٹ پیش کی ہے، تیارشدہ مصنوعات کی قیمتوں میں شدیدکمی کردی تاکہ چند خریداروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
کورٹ نے معاملہ نیب کے حوالے کردیا ہے، نیب نے تحقیقات شروع کردی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ میں جنرل منیجرقیصرسلیم ، شمسی حسن، ڈی جی ایم اے ، غیاص سبحان ، سابق ڈائریکٹر ٹریڈ سمین اصغر ،ایک اور ڈی جی ایم شامل ہیں، جنہوں نے قصورکیا ہے انھیں بلایا جائے، مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ وزیرموصوف اگرکرپشن نہیں روک سکتے تومستعفی ہوجائیں، خواجہ شیراز محمود نے کہاکہ میرے استعفیٰ سے معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں تومیں مستعفی ہونے کیلیے تیارہوں۔