امریکی صدارتی مباحثہ میں ضابطہ اخلاق عنقا

امریکا کی عالمی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف کے باوجود دنیا امریکی سیاسی نظام اور انتخابات کی معترف رہی ہے

۔ فوٹو: سوشل میڈیا

امریکا میں صدارتی انتخاب سے قبل فریقین کے درمیان باقاعدہ مباحثے کی روایت موجود ہے جس میں دونوں امیدوار اپنے منصوبوں، وژن اور منتخب ہونے کے بعد دوران صدارت ملکی اور عالمی تناظر میں اپنے رویوں اور لائحہ عمل کا کھل کر اظہار کرتے ہیں تاکہ باقی ممبران اور قوم نہ صرف صدارتی امیدواروں کے وژن سے واقف ہوکر ان کا میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کرسکیں بلکہ یہ ایک طرح کا منشور اور قوم سے ہونے والے صدر کا وعدہ بھی ہوتاہے جس کی پاسداری دوران صدارت انھیں کرنا ہوتی ہے۔

امریکا کی عالمی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف کے باوجود دنیا امریکی سیاسی نظام اور انتخابات کی معترف رہی ہے۔ تمام امیدوار بھی اخلاقی ضوابط کو مدنظر رکھتے ہیں کیونکہ انھیں اس بات کا بخوبی ادراک ہوتا ہے کہ تمام دنیا کی نگاہیں انھیں جانچ رہی ہیں۔ لیکن حالیہ ہونے والے صدارتی انتخاب کے تیسرے اور آخری مباحثے میں امریکا کی یہ اخلاقی قدریں دم توڑتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں جب امریکی ریاست لاس ویگاس میں ہونے والے مباحثے میں ری پبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کی ہلیری کلنٹن مباحثے کے آغاز پر مصافحہ کیے بغیر ہی پوڈیم کی جانب چلے گئے۔


امیدواروں کی اس ابتدائی حرکت سے ہی اندازہ ہوگیا کہ دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف کس قدر کدورت ہے۔ یہ وہی امریکا ہے جس کے سابقہ عظیم صدور جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن اور روز ویلٹ وغیرہ نے اپنے طرز عمل اور اخلاق سے ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ تو ابتدا ہی سے اخلاقیات کا جنازہ نکالتے دکھائی دیے، مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی اور خواتین کی تحقیر کے بعد نہ صرف امریکی عوام کی ناراضی بلکہ خود ان کی اپنی پارٹی کے کئی ممبران کی جانب سے مخالفت کا سامنا رہا۔

کئی خواتین نے بھی ٹرمپ پر دست درازی کا الزام عائد کیا جس کی ٹرمپ نے حالیہ مباحثے میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کے پیچھے ہلیری کا ہاتھ ہے۔ دوران مباحثہ ہونے والی الزام تراشی اور اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی کو عالمی میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے۔ صدارتی امیدواروں کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ عالمی طاقت ہونے کی وجہ سے ان کا ملک دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے۔
Load Next Story