انصاف میں تاخیر کا المیہ

یہ واقعات ہمارے ملکی تناظر میں فراہمی انصاف کے مروجہ نظام پر ایک سوالیہ نشان ہیں

۔ فوٹو: فائل

دنیا بھر کے عدالتی نظام اس عالمگیر اصول پر متفق ہیں کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ اس لیے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں عدلیہ انصاف کے حصول کے جاں گسل سفر کی آخری منزل تصور کی جاتی ہے جہاں سائل کو انصاف ملنے کی توقع ہوتی ہے، تاہم گزشتہ روز ایکسپریس کی ایک دلگداز خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر عینی گواہ کے بیان میں موجود تضاد کی بنیاد پر سزائے موت کے دو ملزم بری کر دیے لیکن ان دونوں بھائیوں کو انصاف ملنے کے بجائے موت نے گلے لگا لیا کیونکہ ایک سال پہلے ڈسٹرکٹ جیل بہاولپور میں ان بد نصیبوں کو پھانسی دی جا چکی تھی جب کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2010ء کا حکم نامہ تمام اداروں کو مل چکا تھا جسے وصول کرنے کے بعد پھانسی کا موخر ہونا ناگزیر تھا۔

یاد رہے اسی نوعیت کا ایک واقعہ لاہور کے ایک نوجوان مظہرحسین کے ساتھ پیش آیا جسے عدالت نے کیس سے بری تو کر دیا مگر پتہ چلا کہ اس کا دو ماہ قبل جیل ہی میں انتقال ہو چکا تھا۔ کتنا مشکل ہو گیا اس ناانصافی کا ازالہ کرنا، یہ واقعات ہمارے ملکی تناظر میں فراہمی انصاف کے مروجہ نظام پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔

بلاشبہ عدالت عظمیٰ انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عدالتی اصلاحات اور ما تحت عدالتوں میں کرپشن، ججز کے علمی استعداد، دیانت داری اور فرض شناسی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے اور متعدد اقدامات روبہ عمل لائے جا رہے ہیں لیکن یہ ایک درد انگیز صورتحال ہے کہ جرم ثابت نہ ہو یا عدالت کسی کو بری بھی کر دے تو اسے عدالتی نظام میں مضمر خرابی یا تساہل کے باعث رہائی کا پروانہ ملنے کے بجائے جرم بیگناہی میں موت نصیب ہو۔


عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم غلام قادر اور غلام سرور پر الزام تھا کہ انھوں نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر دو فروری 2002ء کو تھانہ صدر صادق آباد ضلع رحیم یارخان کی حدود میں گاؤں رانجھے میں عبدالقادر اور اس کے بیٹے اکمل کو قتل کرنے کے بعد اپنی بیٹی سلمہ کو بھی قتل کر دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے نامزد ملزمان میں سے چھ کو بری کر دیا تھا جب کہ ملزم غلام فرید کو دو بار عمر قید اور غلام قادر اور غلام سرور کو تین تین بار سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے اس فیصلے کو بر قرار رکھا۔

یہ عقدہ اس وقت کھلا جب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل بینچ نے 6 اکتوبر کو کیس کی سماعت کی تو عدالت نے نشاندہی کی کہ گواہ نمبر سات موقع کا گواہ ہے لیکن جرح میں کہہ رہا ہے کہ جب وہ پہنچے تو عبدالقادر اور اکمل قتل ہوچکے تھے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عدلیہ، وکلاء برادری اور انصاف سے متعلق قانون و منطق کے پاسبان (legal logicians) ایسے درد انگیز واقعات کے سدباب کے لیے لازماً پیش قدمی کریں گے۔

 
Load Next Story