مشق ستم
روس نے اعلان کیا ہے کہ 2017ء میں بھی ایک بار پھر روسی فوجیں پاکستانی فوج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
مختلف ملکوں کے درمیان فوجی مشقوں کا اہتمام ہوتا رہتا ہے، جس کا ایک مقصد فوجی مشقوں میں شامل ملکوں کے درمیان یکجہتی کے اظہار کے علاوہ دشمن یا مخالف ملکوں پر یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ وہ فوجی حوالے سے متحرک ہیں۔ حال ہی میں روس اور پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقوں کا اہتمام کیا گیا جو 24 ستمبر سے 10 اکتوبر تک جاری رہیں۔
روس نے اعلان کیا ہے کہ 2017ء میں بھی ایک بار پھر روسی فوجیں پاکستانی فوج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی۔ اس کے علاوہ روسی فوجیں بھارت اور منگولیا کے ساتھ بھی مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی۔ اس موقع پر ہمیں اپنے ایک افسانے ''مشق ستم'' کی یاد آ رہی ہے جو اسی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ اس افسانے کے کچھ اقتباسات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں جو ہمارے کالم کے قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں۔
''فرینک کو راجستھان کے اس ریگزار میں آئے ہوئے اٹھارہ گھنٹے ہو رہے تھے، ریت کے اس صحرا میں ایک خیمہ بستی بسائی گئی تھی، فرینک امریکا کے اس فوجی دستے میں شامل تھا جو بھارتی فوجیوں کے ساتھ مل کر راجستھان کے اس صحرا میں فوجی مشقیں کرنے والا تھا، یہ دستہ تین ہفتے پہلے اس قسم کی فوجی مشقیں کھوکھرا پار کے ریتیلے میدان میں بھی کر چکا تھا۔ وہاں بھی ایسی ہی ایک خیمہ بستی بنائی گئی تھی، اس بستی کے ساتھ بھی ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، ہیلی کاپٹروں کی ایسی ہی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو آج راجستھان کی خیمہ بستی کے آس پاس نظر آ رہی تھی۔
وہ آج اپنے ملک سے ہزاروں میل دور راجستھان کے ریگزار کے ایک خیمے میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے باپ کو امریکا سے ہزاروں میل دور کویت میں کیوں بھیجا گیا تھا اور وہ خود آج امریکا سے ہزاروں میل دور راجستھان کے صحراؤں میں کیوں پڑا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر میں آتے ہوئے اس نے اپنے دستے کے ایک میجر سے پوچھا تھا کہ پاکستان کے بعد ہندوستان میں کی جانے والی ان فوجی مشقوں کا مقصد کیا ہے؟ فرینک کے اس سوال پر میجر نے انتہائی درشت لہجے میں کہا تھا میں کچھ نہیں جانتا۔ تم امریکا کے صدر سے یہ سوال پوچھ سکتے ہو۔
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔ وہ اپنے خیالوں میں گم ریت کے ایک ٹیلے پر لیٹا ہوا تھا کہ قریب سے کسی کے چلنے کی آواز سن کر وہ چونک پڑا، اور خطرہ محسوس کرتے ہوئے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ پورے چاند کی روشنی میں اسے اپنے سے آٹھ دس گز کے فاصلے پر ایک انتہائی دبلا پتلا ہڈیوں کا مجسمہ نظر آیا۔ اس شخص کے ساتھ اسے دس گیارہ سال کا ایک مدقوق بچہ بھی نظر آیا۔
وہ پستول ہاتھ میں لے کر ان کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔ جب وہ ان کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا ایک تیس سال کے لگ بھگ عمر کا شخص جس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اور جسم پر گوشت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی، کھڑا ہوا تھا، اس کے برابر ایک 13-12 سال کی لڑکی تھی، جو ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہی تھی۔ وہ حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔
سرکار میرا نام بھارت ہے اور یہ میری بیٹی گنگا ہے۔ میرے چار بچے ہیں، ہمیں روٹی نہیں ملتی، ہمیں کوئی کام نہیں ملتا، کبھی ہم سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں اور کبھی خشک سالی ہمیں گھیر لیتی ہے۔ آج شام ہمارے گاؤں کے ایک لڑکے نے بتایا کہ اس طرف کچھ گورے آئے ہیں۔
سرکار میں بڑی امید لے کر آیا ہوں آپ میری گنگا کو لے لیں اور مجھے اتنی روٹی دے دیں کہ میرا پریوار ایک وقت پیٹ بھر کر کھا سکے۔ وہ حیرت سے سوچ رہا تھا کہ جن ملکوں کا یہ حال ہو ان ملکوں کے حکمران کروڑوں روپے خرچ کر کے جنگی مشقیں کیوں کر رہے ہیں؟ اربوں روپوں کا اسلحہ کیوں خرید رہے ہیں، لاکھوں افراد پر مشتمل فوجوں کو کیوں پال رہے ہیں؟
میجر باب لڑکھڑاتا ہوا ادھر آ نکلا، نشے کی شدت سے وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ فرینک نے میجر سے پوچھا سر! ہم ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں کیوں کر رہے ہیں؟ وی آر فول، وی لائیک فول۔ میجر نے لڑکھڑائی زبان میں کہا اور اپنے خیمے کی طرف چل پڑا۔ فرینک کے ذہن میں اب ایک ہی خیال کلبلا رہا تھا۔ اب مجھے فوج کی نوکری چھوڑ دینا چاہیے۔''
فوجی مشقیں آج کل مختلف ملکوں کے درمیان دوستی کی علامت بنی ہوئی ہیں لیکن کروڑوں روپے خرچ کر کے کی جانے والی ان فوجی مشقوں سے ملک و ملت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے اس کے بارے میں کوئی واضح جواب یا رائے آج تک ہماری نظروں سے نہیں گزری۔ اگر اسلحے کی کارکردگی کی آزمائشیں اور اپنے فوجیوں کا خون گرم رکھنا ان فوجی مشقوں کا مقصد ہو تو پھر یہ مشقیں اپنے ملکوں ہی میں کیوں نہیں کی جاتیں؟ اپنے ملکوں سے ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں میں کیوں کی جاتی ہیں؟
افسانہ ''مشق ستم'' میں اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ افسانے کا موضوع عام ڈگر سے ہٹا ہوا ہے اس لیے اس میں قاری کی دلچسپی یقینی ہو گی۔ راجستھان کے ریگزار میں ہونے والی ان فوجی مشقوں کے ایک کردار ''فرینک'' کا باپ کویت کے صحراؤں میں مارا جاتا ہے اور فرینک اپنے بچپن میں اپنے باپ کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر دل میں یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے گا اور اس مقصد کے لیے وہ ماں کے منع کرنے کے باوجود فوج میں بھرتی ہوتا ہے اور اپنے باپ کے نامعلوم قاتل کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔
کھوکھرا پار میں فوجی مشقوں کے دوران وہ نزدیک کے ایک گاؤں میں داخل ہوتا ہے تو ایک پجارو تیزی سے گاؤں کے باہر نکلتی دکھائی دیتی ہے اور پجارو سے کسی لڑکی کی ''بچاؤ بچاؤ'' کی انتہائی دہشت زدہ آواز آتی ہے۔ وہ ایک دیہاتی سے پوچھتا ہے کہ یہ لڑکی کون ہے اور وہ بچاؤ بچاؤ کی صدائیں کیوں دے رہی ہے تو دیہاتی ڈرتے ڈرتے کہتا ہے۔
یہ ہاری قادر بخش کی بیٹی فاطمہ کی چیخیں ہیں، جسے وڈیرے کے کارندے اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ ہر طرف سناٹا تھا اور گاؤں کے خوفزدہ چہرے اسے ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ کسی قبرستان میں مردوں کو چلتا پھرتا دیکھ رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں امریکا کی رنگین راتیں لہرانے لگیں اور وہ سوچنے لگا کہ اسے اس قبرستان میں کیوں لایا گیا ہے؟
مختلف ملکوں کے درمیان فوجی مشقوں کا اہتمام ہوتا رہتا ہے، جس کا ایک مقصد فوجی مشقوں میں شامل ملکوں کے درمیان یکجہتی کے اظہار کے علاوہ دشمن یا مخالف ملکوں پر یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ وہ فوجی حوالے سے متحرک ہیں۔ حال ہی میں روس اور پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقوں کا اہتمام کیا گیا جو 24 ستمبر سے 10 اکتوبر تک جاری رہیں۔
روس نے اعلان کیا ہے کہ 2017ء میں بھی ایک بار پھر روسی فوجیں پاکستانی فوج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی۔ اس کے علاوہ روسی فوجیں بھارت اور منگولیا کے ساتھ بھی مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی۔ اس موقع پر ہمیں اپنے ایک افسانے ''مشق ستم'' کی یاد آ رہی ہے جو اسی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ اس افسانے کے کچھ اقتباسات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں جو ہمارے کالم کے قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں۔
''فرینک کو راجستھان کے اس ریگزار میں آئے ہوئے اٹھارہ گھنٹے ہو رہے تھے، ریت کے اس صحرا میں ایک خیمہ بستی بسائی گئی تھی، فرینک امریکا کے اس فوجی دستے میں شامل تھا جو بھارتی فوجیوں کے ساتھ مل کر راجستھان کے اس صحرا میں فوجی مشقیں کرنے والا تھا، یہ دستہ تین ہفتے پہلے اس قسم کی فوجی مشقیں کھوکھرا پار کے ریتیلے میدان میں بھی کر چکا تھا۔ وہاں بھی ایسی ہی ایک خیمہ بستی بنائی گئی تھی، اس بستی کے ساتھ بھی ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، ہیلی کاپٹروں کی ایسی ہی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو آج راجستھان کی خیمہ بستی کے آس پاس نظر آ رہی تھی۔
وہ آج اپنے ملک سے ہزاروں میل دور راجستھان کے ریگزار کے ایک خیمے میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے باپ کو امریکا سے ہزاروں میل دور کویت میں کیوں بھیجا گیا تھا اور وہ خود آج امریکا سے ہزاروں میل دور راجستھان کے صحراؤں میں کیوں پڑا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر میں آتے ہوئے اس نے اپنے دستے کے ایک میجر سے پوچھا تھا کہ پاکستان کے بعد ہندوستان میں کی جانے والی ان فوجی مشقوں کا مقصد کیا ہے؟ فرینک کے اس سوال پر میجر نے انتہائی درشت لہجے میں کہا تھا میں کچھ نہیں جانتا۔ تم امریکا کے صدر سے یہ سوال پوچھ سکتے ہو۔
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔ وہ اپنے خیالوں میں گم ریت کے ایک ٹیلے پر لیٹا ہوا تھا کہ قریب سے کسی کے چلنے کی آواز سن کر وہ چونک پڑا، اور خطرہ محسوس کرتے ہوئے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ پورے چاند کی روشنی میں اسے اپنے سے آٹھ دس گز کے فاصلے پر ایک انتہائی دبلا پتلا ہڈیوں کا مجسمہ نظر آیا۔ اس شخص کے ساتھ اسے دس گیارہ سال کا ایک مدقوق بچہ بھی نظر آیا۔
وہ پستول ہاتھ میں لے کر ان کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔ جب وہ ان کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا ایک تیس سال کے لگ بھگ عمر کا شخص جس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اور جسم پر گوشت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی، کھڑا ہوا تھا، اس کے برابر ایک 13-12 سال کی لڑکی تھی، جو ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہی تھی۔ وہ حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔
سرکار میرا نام بھارت ہے اور یہ میری بیٹی گنگا ہے۔ میرے چار بچے ہیں، ہمیں روٹی نہیں ملتی، ہمیں کوئی کام نہیں ملتا، کبھی ہم سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں اور کبھی خشک سالی ہمیں گھیر لیتی ہے۔ آج شام ہمارے گاؤں کے ایک لڑکے نے بتایا کہ اس طرف کچھ گورے آئے ہیں۔
سرکار میں بڑی امید لے کر آیا ہوں آپ میری گنگا کو لے لیں اور مجھے اتنی روٹی دے دیں کہ میرا پریوار ایک وقت پیٹ بھر کر کھا سکے۔ وہ حیرت سے سوچ رہا تھا کہ جن ملکوں کا یہ حال ہو ان ملکوں کے حکمران کروڑوں روپے خرچ کر کے جنگی مشقیں کیوں کر رہے ہیں؟ اربوں روپوں کا اسلحہ کیوں خرید رہے ہیں، لاکھوں افراد پر مشتمل فوجوں کو کیوں پال رہے ہیں؟
میجر باب لڑکھڑاتا ہوا ادھر آ نکلا، نشے کی شدت سے وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ فرینک نے میجر سے پوچھا سر! ہم ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں کیوں کر رہے ہیں؟ وی آر فول، وی لائیک فول۔ میجر نے لڑکھڑائی زبان میں کہا اور اپنے خیمے کی طرف چل پڑا۔ فرینک کے ذہن میں اب ایک ہی خیال کلبلا رہا تھا۔ اب مجھے فوج کی نوکری چھوڑ دینا چاہیے۔''
فوجی مشقیں آج کل مختلف ملکوں کے درمیان دوستی کی علامت بنی ہوئی ہیں لیکن کروڑوں روپے خرچ کر کے کی جانے والی ان فوجی مشقوں سے ملک و ملت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے اس کے بارے میں کوئی واضح جواب یا رائے آج تک ہماری نظروں سے نہیں گزری۔ اگر اسلحے کی کارکردگی کی آزمائشیں اور اپنے فوجیوں کا خون گرم رکھنا ان فوجی مشقوں کا مقصد ہو تو پھر یہ مشقیں اپنے ملکوں ہی میں کیوں نہیں کی جاتیں؟ اپنے ملکوں سے ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں میں کیوں کی جاتی ہیں؟
افسانہ ''مشق ستم'' میں اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ افسانے کا موضوع عام ڈگر سے ہٹا ہوا ہے اس لیے اس میں قاری کی دلچسپی یقینی ہو گی۔ راجستھان کے ریگزار میں ہونے والی ان فوجی مشقوں کے ایک کردار ''فرینک'' کا باپ کویت کے صحراؤں میں مارا جاتا ہے اور فرینک اپنے بچپن میں اپنے باپ کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر دل میں یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے گا اور اس مقصد کے لیے وہ ماں کے منع کرنے کے باوجود فوج میں بھرتی ہوتا ہے اور اپنے باپ کے نامعلوم قاتل کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔
کھوکھرا پار میں فوجی مشقوں کے دوران وہ نزدیک کے ایک گاؤں میں داخل ہوتا ہے تو ایک پجارو تیزی سے گاؤں کے باہر نکلتی دکھائی دیتی ہے اور پجارو سے کسی لڑکی کی ''بچاؤ بچاؤ'' کی انتہائی دہشت زدہ آواز آتی ہے۔ وہ ایک دیہاتی سے پوچھتا ہے کہ یہ لڑکی کون ہے اور وہ بچاؤ بچاؤ کی صدائیں کیوں دے رہی ہے تو دیہاتی ڈرتے ڈرتے کہتا ہے۔
یہ ہاری قادر بخش کی بیٹی فاطمہ کی چیخیں ہیں، جسے وڈیرے کے کارندے اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ ہر طرف سناٹا تھا اور گاؤں کے خوفزدہ چہرے اسے ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ کسی قبرستان میں مردوں کو چلتا پھرتا دیکھ رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں امریکا کی رنگین راتیں لہرانے لگیں اور وہ سوچنے لگا کہ اسے اس قبرستان میں کیوں لایا گیا ہے؟