مرضت اور یشفین کے بیچ والے
دواؤں کی پرچی پر جب لکھتے ہیں تو ایسا لکھتے ہیں کہ صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں
barq@email.com
لاہور:
ڈاکٹر امرود کا شہر میں آنا جانا رہتا ہے، دواؤں کے لیے نہیں کیونکہ دوائیں تو دکان پر بیٹھے بیٹھے بھی مل جاتی ہیں لیکن نئی نئی بیماریاں لانے کے لیے کافی تگ و دو کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ شہر کے کلینکوں والے ڈاکٹر بڑے ہی خودغرض ہوتے ہیں اپنی دریافت یا ایجاد کردہ بیماریاں انتہائی راز میں رکھتے ہیں۔
دواؤں کی پرچی پر جب لکھتے ہیں تو ایسا لکھتے ہیں کہ صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں، لیکن ڈاکٹر امرود بھی کوئی ایسی ویسی چیز کا نام نہیں چنانچہ اپنے اور قائداعظم کے نقش کا رسوخ استعمال کر کے کچھ نہ کچھ ہی لے آتا ہے اور اسے نئی بیماری یا نئے وائرس کے نام سے اپنے مریضوں میں ڈال ڈال کر کام چلاتا۔ لیکن اب کے وہ کوئی نئی یا پوشیدہ بیماری لانے کے بجائے ایک فقرہ لے کر آیا تھا اور اسے خوبصورت الفاظ میں لکھوا کر دکان پر لٹکا دیا
و اذا مرضتُ فھو یشفین ... (القرآن)
یہ دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی وہ عظیم الشان دعا کا حصہ ہے جس میں ایک بہت بڑی حقیقت کو نہایت ہی کم الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور یہ تو اس معجز کلام کا اعجاز ہے کہ پورے سمندر کو ایک قطرے میں سمیٹ لیتا ہے، اس فقرے کا سارا کمال بھی ایک پیش (و) او اور لفظ ''فہھوہ'' میں ہے، عربی سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ اس زبان میں زبر زیر پیش سے کیا کیا تبدیلیاں آ جاتی ہیں، مرضتُ میں بھی پیش نے بیمار ہونے کا سارا قصور اپنے اوپر ڈالا گیا ہے، یعنی جب ''میں'' بیمار ہوتا ہوں یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ سارے امراض اور بیماریاں خود انسان کی اپنی یا آباو اجداد کی غلطیوں کا شاخسانہ ہوتی ہیں یا یوں کہیے کہ خدا کے قوانین فطرت سے روگردانی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے ''فھو یشفین'' میں کہا کہ ''وہ'' مجھے شفا دے دیتا ہے، بیماری خالص انسانی کوتاہی ہے اور شفا خالص رب عظیم کی عطا ہے، شاید آپ سمجھ رہے ہوں کہ ہم نے بات جہاں سے شروع کی تھی اس سے بہت دور آ گئے ہیں اور طنز و مزاح سے سیدھے اتنے گاڑھے اور سنجیدہ مقام تک پہنچ گئے تو بات قاعدے کی یہ ہے کہ جہاں سنجیدگی درکار ہوتی ہے وہاں تو سنجیدگی برتنا پڑتی ہے لیکن اس سنجیدگی کے مقام سے آگے جو رنجیدگی بلکہ بے ہودگی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس سے پتہ چل جائے گا کہ لوگ اپنے مفاد کے لیے کیا کیا کچھ نہیں کرتے اور اس بات کا احساس ہمیں علامہ بریانی جیسے عالم و فاضل نے نہیں بلکہ چشم گل چشم نے اپنی معصومانہ جہالت کے ذریعے دلایا۔
اس نے جب ڈاکٹر امرود کی دکان پر، حالانکہ ڈاکٹر امرود اپنے ''کلینک'' کو دکان کہنے پر سخت خفا ہوتا ہے یہ تازہ ترین بورڈ دیکھا تو ہم سے اس کا مفہوم پوچھنے لگا، ہم نے تفصیلاً سمجھایا تو اچانک ہاتھ اٹھا کر بولا ... ذرا ٹھہرو ذرا مجھے سوچنے دو کچھ دیر وہ گہری سوچ میں ڈوبا رہا اور پھر چلا کر بولا۔ او ڈاکٹر مردود باہر نکل ۔ اس وقت ہم باہر والی بنچ پر بیٹھے تھے اور ڈاکٹر امرود کلینک میں اکیلا تھا ابھی کسی مریض کو اپنی قضا لے نہیں آئی تھی۔
پورے گاؤں میں اگر ڈاکٹر امرود کسی سے ڈرتا ہے تو وہ چشم گل چشم عرف سوائن فلو ہے کیونکہ اس کے منہ پر نہ کوئی زپ ہے اور نہ زبان میں کوئی بریک، اتنا وہ اپنی بیوی اور ڈرگ انسپکٹر کا بھی خیال نہیں رکھتا تھا جتنا اس کا رکھتا ہے اندازہ اس سے لگایئے کہ دنیا میں صرف یہی ایک منہ ہے جو امرود کی جگہ مردود کہہ سکتا ہے۔
سوائن فلو کی دھاڑ پر ڈاکٹر امرود نکل آیا تو سوائن فلو نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھا، کیوں مردود ۔ جب بیمار میں خود ہوتا ہوں ۔ اور شفا اللہ دیتا ہے تو یہ بیچ میں تو کیا کر رہا ہے بے ۔ وہ تو ڈاکٹر امرود کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا اور اس کے چھوٹے منہ سے نکلنے والی یہ بڑی حقیقت ہمیں جھنجوڑ رہی تھی کہ جب بیمار میں ہوں اور شفا دینے والا وہ ہے تو بیچ میں ''تو'' کیا کر رہا ہے ''بے'' اور اس سے اور اس ''تو'' کیا کر رہا بے؟ پر غور کرتے کرتے نہ جانے کتنے ''تو'' اور ''بے'' ہماری آنکھوں میں پھرنے لگے۔
ڈبگری گارڈن سے لے کر آٹھ دس اور مقامات پر لگے بڑے بورڈ لگا کر ہم سے اپنے ''بیمار'' ہونے کا ''جرمانہ'' آخر کس لیے بٹور رہے ہیں، قصور وار تو ہوئے ہم۔ اور شفا دینے والا وہ؟ تو پھر یہ ''بیچ والے'' ... ''بیچ والے'' کا لفظ ذہن میں گونجتے ہی ہمارے چودہ تو کیا اٹھائیس طبق روشن ہو گئے کیوں کہ یہ تو ہم تم سب جانتے ہیں کہ اپنے وطن عزیز کے کھیت کو اجاڑا ہے تو ان بیچ والی چڑیوں نے... جو بزعم خود خدا اور ہمارے درمیان رابطہ سمجھتے ہیں جو پیدا کرنے والے اور صارف کے بیچ کھڑے دونوں کو لوٹتے ہیں جو حکومت اور عوام کے بیچ کما کھا رہے ہیں۔
اصطلاحاً اس بیچ والے کو دلال کہتے ہیں جس کا شریفانہ نام ایجنٹ ہوتا ہے اور جو دونوں کو لوٹتا ہے اور دونوں میں سے کسی کا بھی نہیں ہوتا، اس بات کو لے کر دماغ میں کیا کیا نہیں آ رہا تھا اور ان کے بیچ والوں کے ساتھ کیا کیا کچھ کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا ان میں سے کچھ تو بتانے کے ہیں اور کچھ
دل میں کیا کیا نہیں مرے ہمدم
ہر سخن تابہ لب نہیں آتا
اور پھر وہ نادر خیال آخر کار ذہن میں پھوٹ ہی گیا جو اس سلسلے کا ایک ممکن جواب ہو سکتا ہے ۔ کہیں یہ بیچ والے ہمارے گناہوں اور غلطیوں کی سزا تو نہیں ہیں، سیدھی سی بات ہے بیمار ہونا ہمارا قصور ہے کیونکہ کسی نہ کسی طرح فطرت کی خلاف ورزی کر کے ہم بیماری حاصل کرتے ہیں اور شفا وہی دیتا ہے اس میں شک نہیں ہے لیکن شاید اس قادر و توانا ''معالج'' نے سوچا ہو کہ یہ بندے تو بڑے ڈھیٹ ہو گئے ہیں بیمار بھی خود ہوتے ہیں اور پھر مجھ سے ''میرا کام'' بھی اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے ''شفا'' خود حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا یوں بھی کہیے کہ جب انسان حضرت ابراہیم ؑ کا ایمان تو سارا کام اچھے چل رہا تھا انسان اپنے اعمال اور کرتوت سے ''بیمار'' ہو جاتا تھا تو فوراً اس شافی عالم سے رجوع کر لیتا تھا اور اسے شفا نصیب ہو جاتی تھی، لیکن بیچ میں ایک بات اور بھی ہوتی تھی کہ انسان کو یہ احساس ہو جاتا تھا کہ میری بیماری کی وجوہات کیا ہیں اور وہ معالج سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تہیہ بھی کر لیتا تھا کہ آیندہ ایسا کام ہر گز نہیں کروں گا جس سے میں بیمار ہو جاؤں اور ہر معالج کی پہلی ہدایت بھی یہی ہوتی ہے کیونکہ جب تک بیمار ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتا جو بیماری کا باعث ہوتی ہیں تو معالج بھی اس کی شفاء سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔
ایسا تو ممکن نہیں کہ تم مسلسل زہر کھاتے جاؤ اور معالج تمہیں بچاتا جائے گا، لیکن انسان نے شافی اعظم سے شفا تو چاہی لیکن بد پرہیزی سے باز نہیں آیا، تب اس نے سوچا ہو گا کہ اس کم بخت عادی مجرم کو اب سزا بھی ملنی چاہیے اور اس ''سزا'' کا نام ہے یہ بیچ میں آنے والے ... یعنی
شامت اعمال ما صورت نادر گرفت
اب بھی شافی اعظم وہی ہے وہی شفا دیتا ہے لیکن صرف ان مریضوں کو جو آیندہ کے لیے پرہیز کو اپنے اوپر لازم ٹھہرائیں ورنہ بیچ والوں کے ہاتھوں مار پڑے گی اور سخت مار پڑے گی بلکہ پڑ رہی ہے۔
ڈاکٹر امرود کا شہر میں آنا جانا رہتا ہے، دواؤں کے لیے نہیں کیونکہ دوائیں تو دکان پر بیٹھے بیٹھے بھی مل جاتی ہیں لیکن نئی نئی بیماریاں لانے کے لیے کافی تگ و دو کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ شہر کے کلینکوں والے ڈاکٹر بڑے ہی خودغرض ہوتے ہیں اپنی دریافت یا ایجاد کردہ بیماریاں انتہائی راز میں رکھتے ہیں۔
دواؤں کی پرچی پر جب لکھتے ہیں تو ایسا لکھتے ہیں کہ صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں، لیکن ڈاکٹر امرود بھی کوئی ایسی ویسی چیز کا نام نہیں چنانچہ اپنے اور قائداعظم کے نقش کا رسوخ استعمال کر کے کچھ نہ کچھ ہی لے آتا ہے اور اسے نئی بیماری یا نئے وائرس کے نام سے اپنے مریضوں میں ڈال ڈال کر کام چلاتا۔ لیکن اب کے وہ کوئی نئی یا پوشیدہ بیماری لانے کے بجائے ایک فقرہ لے کر آیا تھا اور اسے خوبصورت الفاظ میں لکھوا کر دکان پر لٹکا دیا
و اذا مرضتُ فھو یشفین ... (القرآن)
یہ دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی وہ عظیم الشان دعا کا حصہ ہے جس میں ایک بہت بڑی حقیقت کو نہایت ہی کم الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور یہ تو اس معجز کلام کا اعجاز ہے کہ پورے سمندر کو ایک قطرے میں سمیٹ لیتا ہے، اس فقرے کا سارا کمال بھی ایک پیش (و) او اور لفظ ''فہھوہ'' میں ہے، عربی سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ اس زبان میں زبر زیر پیش سے کیا کیا تبدیلیاں آ جاتی ہیں، مرضتُ میں بھی پیش نے بیمار ہونے کا سارا قصور اپنے اوپر ڈالا گیا ہے، یعنی جب ''میں'' بیمار ہوتا ہوں یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ سارے امراض اور بیماریاں خود انسان کی اپنی یا آباو اجداد کی غلطیوں کا شاخسانہ ہوتی ہیں یا یوں کہیے کہ خدا کے قوانین فطرت سے روگردانی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
اس لیے حضرت ابراہیم ؑ نے ''فھو یشفین'' میں کہا کہ ''وہ'' مجھے شفا دے دیتا ہے، بیماری خالص انسانی کوتاہی ہے اور شفا خالص رب عظیم کی عطا ہے، شاید آپ سمجھ رہے ہوں کہ ہم نے بات جہاں سے شروع کی تھی اس سے بہت دور آ گئے ہیں اور طنز و مزاح سے سیدھے اتنے گاڑھے اور سنجیدہ مقام تک پہنچ گئے تو بات قاعدے کی یہ ہے کہ جہاں سنجیدگی درکار ہوتی ہے وہاں تو سنجیدگی برتنا پڑتی ہے لیکن اس سنجیدگی کے مقام سے آگے جو رنجیدگی بلکہ بے ہودگی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اس سے پتہ چل جائے گا کہ لوگ اپنے مفاد کے لیے کیا کیا کچھ نہیں کرتے اور اس بات کا احساس ہمیں علامہ بریانی جیسے عالم و فاضل نے نہیں بلکہ چشم گل چشم نے اپنی معصومانہ جہالت کے ذریعے دلایا۔
اس نے جب ڈاکٹر امرود کی دکان پر، حالانکہ ڈاکٹر امرود اپنے ''کلینک'' کو دکان کہنے پر سخت خفا ہوتا ہے یہ تازہ ترین بورڈ دیکھا تو ہم سے اس کا مفہوم پوچھنے لگا، ہم نے تفصیلاً سمجھایا تو اچانک ہاتھ اٹھا کر بولا ... ذرا ٹھہرو ذرا مجھے سوچنے دو کچھ دیر وہ گہری سوچ میں ڈوبا رہا اور پھر چلا کر بولا۔ او ڈاکٹر مردود باہر نکل ۔ اس وقت ہم باہر والی بنچ پر بیٹھے تھے اور ڈاکٹر امرود کلینک میں اکیلا تھا ابھی کسی مریض کو اپنی قضا لے نہیں آئی تھی۔
پورے گاؤں میں اگر ڈاکٹر امرود کسی سے ڈرتا ہے تو وہ چشم گل چشم عرف سوائن فلو ہے کیونکہ اس کے منہ پر نہ کوئی زپ ہے اور نہ زبان میں کوئی بریک، اتنا وہ اپنی بیوی اور ڈرگ انسپکٹر کا بھی خیال نہیں رکھتا تھا جتنا اس کا رکھتا ہے اندازہ اس سے لگایئے کہ دنیا میں صرف یہی ایک منہ ہے جو امرود کی جگہ مردود کہہ سکتا ہے۔
سوائن فلو کی دھاڑ پر ڈاکٹر امرود نکل آیا تو سوائن فلو نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھا، کیوں مردود ۔ جب بیمار میں خود ہوتا ہوں ۔ اور شفا اللہ دیتا ہے تو یہ بیچ میں تو کیا کر رہا ہے بے ۔ وہ تو ڈاکٹر امرود کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا اور اس کے چھوٹے منہ سے نکلنے والی یہ بڑی حقیقت ہمیں جھنجوڑ رہی تھی کہ جب بیمار میں ہوں اور شفا دینے والا وہ ہے تو بیچ میں ''تو'' کیا کر رہا ہے ''بے'' اور اس سے اور اس ''تو'' کیا کر رہا بے؟ پر غور کرتے کرتے نہ جانے کتنے ''تو'' اور ''بے'' ہماری آنکھوں میں پھرنے لگے۔
ڈبگری گارڈن سے لے کر آٹھ دس اور مقامات پر لگے بڑے بورڈ لگا کر ہم سے اپنے ''بیمار'' ہونے کا ''جرمانہ'' آخر کس لیے بٹور رہے ہیں، قصور وار تو ہوئے ہم۔ اور شفا دینے والا وہ؟ تو پھر یہ ''بیچ والے'' ... ''بیچ والے'' کا لفظ ذہن میں گونجتے ہی ہمارے چودہ تو کیا اٹھائیس طبق روشن ہو گئے کیوں کہ یہ تو ہم تم سب جانتے ہیں کہ اپنے وطن عزیز کے کھیت کو اجاڑا ہے تو ان بیچ والی چڑیوں نے... جو بزعم خود خدا اور ہمارے درمیان رابطہ سمجھتے ہیں جو پیدا کرنے والے اور صارف کے بیچ کھڑے دونوں کو لوٹتے ہیں جو حکومت اور عوام کے بیچ کما کھا رہے ہیں۔
اصطلاحاً اس بیچ والے کو دلال کہتے ہیں جس کا شریفانہ نام ایجنٹ ہوتا ہے اور جو دونوں کو لوٹتا ہے اور دونوں میں سے کسی کا بھی نہیں ہوتا، اس بات کو لے کر دماغ میں کیا کیا نہیں آ رہا تھا اور ان کے بیچ والوں کے ساتھ کیا کیا کچھ کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا ان میں سے کچھ تو بتانے کے ہیں اور کچھ
دل میں کیا کیا نہیں مرے ہمدم
ہر سخن تابہ لب نہیں آتا
اور پھر وہ نادر خیال آخر کار ذہن میں پھوٹ ہی گیا جو اس سلسلے کا ایک ممکن جواب ہو سکتا ہے ۔ کہیں یہ بیچ والے ہمارے گناہوں اور غلطیوں کی سزا تو نہیں ہیں، سیدھی سی بات ہے بیمار ہونا ہمارا قصور ہے کیونکہ کسی نہ کسی طرح فطرت کی خلاف ورزی کر کے ہم بیماری حاصل کرتے ہیں اور شفا وہی دیتا ہے اس میں شک نہیں ہے لیکن شاید اس قادر و توانا ''معالج'' نے سوچا ہو کہ یہ بندے تو بڑے ڈھیٹ ہو گئے ہیں بیمار بھی خود ہوتے ہیں اور پھر مجھ سے ''میرا کام'' بھی اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے ''شفا'' خود حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا یوں بھی کہیے کہ جب انسان حضرت ابراہیم ؑ کا ایمان تو سارا کام اچھے چل رہا تھا انسان اپنے اعمال اور کرتوت سے ''بیمار'' ہو جاتا تھا تو فوراً اس شافی عالم سے رجوع کر لیتا تھا اور اسے شفا نصیب ہو جاتی تھی، لیکن بیچ میں ایک بات اور بھی ہوتی تھی کہ انسان کو یہ احساس ہو جاتا تھا کہ میری بیماری کی وجوہات کیا ہیں اور وہ معالج سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تہیہ بھی کر لیتا تھا کہ آیندہ ایسا کام ہر گز نہیں کروں گا جس سے میں بیمار ہو جاؤں اور ہر معالج کی پہلی ہدایت بھی یہی ہوتی ہے کیونکہ جب تک بیمار ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتا جو بیماری کا باعث ہوتی ہیں تو معالج بھی اس کی شفاء سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔
ایسا تو ممکن نہیں کہ تم مسلسل زہر کھاتے جاؤ اور معالج تمہیں بچاتا جائے گا، لیکن انسان نے شافی اعظم سے شفا تو چاہی لیکن بد پرہیزی سے باز نہیں آیا، تب اس نے سوچا ہو گا کہ اس کم بخت عادی مجرم کو اب سزا بھی ملنی چاہیے اور اس ''سزا'' کا نام ہے یہ بیچ میں آنے والے ... یعنی
شامت اعمال ما صورت نادر گرفت
اب بھی شافی اعظم وہی ہے وہی شفا دیتا ہے لیکن صرف ان مریضوں کو جو آیندہ کے لیے پرہیز کو اپنے اوپر لازم ٹھہرائیں ورنہ بیچ والوں کے ہاتھوں مار پڑے گی اور سخت مار پڑے گی بلکہ پڑ رہی ہے۔