کراچی میں فوج کی مدد سے 65 دن میں کام مکمل کرلینگے الیکشن کمیشن

پیر سے کام شروع ہوگا،18ہزار سرکاری ملازمین کو لگایاجائیگا،کور کمانڈر کراچی کو مدد کیلیے خط لکھیں گے

پیر سے کام شروع ہوگا،18ہزار سرکاری ملازمین کو لگایاجائیگا،کور کمانڈر کراچی کو مدد کیلیے خط لکھیں گے، الیکشن میں فاٹا،کراچی اور بلوچستان میں پولنگ اسٹیشنوں کے اندر فوج تعینات کی جائیگی۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
الیکشن کمیشن نے کراچی کی نئی حلقہ بندیاں کرنے اورفوج کی نگرانی میں ووٹر لسٹوں کاکام مکمل کرنے کافیصلہ کیاہے اس سلسلے میں کور کمانڈرکراچی اورسیکریٹری دفاع کو باضابطہ طورپرخط لکھاجائیگا۔

الیکشن کمشنرسندھ کراچی میںکورکمانڈرسے مل کرووٹر لسٹوںکی تصدیق کاکام مکمل کرنے میں فورس تعینات کرنیکی تفصیلات فراہم کریں گے۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی زیرصدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہواجس میں چاروں صوبوں سے الیکشن کمیشن کے ممبران، سیکریٹری الیکشن کمیشن ودیگرحکام نے شرکت کی۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمدخان نے اجلاس کے بعدبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دونوں کام سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میںکیے جائینگے۔

ایک ہفتے میں ووٹرلسٹوں کی تصدیق کا کام شروع کرلیاجائے گا اورایک ماہ میں مکمل کیا جائے گا،کراچی میں68لاکھ ووٹرزکی تصدیق کا کام مکمل کرنا ہے،کراچی میں 13ہزار 622مردم شماری بلاک ہیں،آج کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے 18ہزار سرکاری ملازمین کو تصدیق کے لیے لگایاجائے گا،تعداد میں اضافے کیافیصلہ کام جلد مکمل کرنے کے لیے کیا گیا ہے،اس کے لیے صوبائی الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کو خطوط لکھیں کہ سرکاری ملازمین کی خدمات درکار ہوں گی ،نادرا35روز میں تصدیق شدہ ووٹر لسٹیں تیار کر ے گا،کراچی کی تصدیق شدہ ووٹر لسٹیں 65 روز میں مکمل ہو جائیں گی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کرنے سے متعلق فیصلہ کیا گیاہے کہ تمام شکایات عمومی نوعیت کی سامنے آئی ہیں جن لوگوں نے فائرنگ کی ان کے خلاف کمیشن نے فوری کارروائی کرنے کہا اور ان کو گرفتار کیا گیا،دھاندلی کے حوالے سے عوامی نمائندگی ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت کوئی شکایت نہیں کی گئی ،اب بھی اگر کسی کے پاس ٹھوس شواہدہیں تو وہ ٹریبونل جا سکتے ہیں،کمیشن نے دروزاہ بندنہیں کیا ہے ۔




انھوں نے کہا کہ کمیشن نے فیصلہ کیاہے کہ عام انتخابات کا وقت قریب آ گیاہے کہ لہذا وقت کی کمی مد نظر رکھتے ہوئے کمیشن نے تمام کام جلدمکمل کرناہوں گے،2جنوری کو وفاقی چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں پورے میکانزم کوحتمی شکل دی جائے گی،چیف سیکریٹریز سے تجاویز کی روشنی میں کہا ں کہاں فوج تعینات کی جائے گی اس کا فیصلہ کیا جائے گا، فاٹا، کراچی اور بلوچستان میں فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی ،ملک بھر میں جہاں بھی حساس پولنگ اسٹیشن کی نشاندہی کی جائے گی فوج تعینات کی جائے گی فوج کے جوان پولنگ اسٹیشن کے اندر کھڑے ہوں گے،عام انتخابات کے لیے فوج کو اسٹنڈ بائی بھی رکھا جائے گا، جو ووٹ نئے درج ہو رہے ہیں ان کی تصدیق ساتھ ساتھ کی جائے گی۔

سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر سونو خاں بلوچ کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اعتراض سے متعلق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ کوئی انسان ایسا نہیں ہوتا جس سے سب خوش ہوں، الیکشن کمیشن مناسب وقت پرمناسب فیصلے کرے گا،بیرون ملک ووٹروں کے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے،کراچی میں ووٹروں کی تصدیق کے کام سے متعلق ایم کیو ایم کے تحفظات سے متعلق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کراچی میں16 میں سے 15جماعتوں نے اس کی تائیدکی ایم کیو ایم نے کہا تھا کہ وہ28نومبر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کاانتظار کریں گے،اب فیصلہ آگیا ہے اب ان کے رہنما کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کمیشن نے واضح کیاہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی، کمیشن کی ذمے داری ہے کہ سب کے حقوق کا تحفظ کرے ،کرچی میں حلقہ بندیوں کے لیے فوج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے ساتھ طے کیاجائے گا،آئندہ اسلحے کی نمائش اور فائرنگ پر نااہلی کی سزا بھی ہو گی۔آئی این پی کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ قبل از وقت انتخابات کے بارے میں فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے ،پارلیمنٹ 16مارچ کو تحلیل ہوجائے گی تاہم اگرحکومت نے مدت پوری کی تو پھر 16 مارچ کے بعدالیکشن کمیشن کا کام خودبخود شروع ہوجائے گا۔ایک سوال پرسیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ کراچی اورفاٹا سمیت بلوچستان کے بعض علاقوں میں فوج تعینات ہوگی۔

Recommended Stories

Load Next Story