توہین عدالت صدر کو استثنیٰ چاہیے تو عدالت سے رجوع کریں لاہور ہائیکورٹ
5رکنی بینچ نے ہڑتال کے باعث سماعت نہ کرنے کی استدعامستردکردی،سرکاری وکلااحتجاجاً عدالت سے چلے گئے،آج پھرسماعت ہوگی
کالاباغ ڈیم کاتذکرہ نہ کیاجائے،دوعہدوں کے کیس سے اس کاتعلق نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل،صدرکو کوئی استثنیٰ نہیں ہے،درخواست گزار۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
لاہور ہائی کورٹ نے صدرزرداری کے دوعہدوں کے حوالے سے توہین عدالت کیس میں قراردیاکہ کسی بھی کیس میں استثنیٰ خود بخود نہیں ملتا ،استثنیٰ لینے کیلیے اسے مانگنا پڑتاہے،صدرکواستثنیٰ چاہیے سے عدالت سے رجوع کریں۔
عدالت نے دائر درخواست کی سماعت آج (جمعہ تک) ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزارکواپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ جمعرات کوچیف جسٹس لاہورہائی کورٹ عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے صدر کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، درخواست گزاراے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ انھوں نے کسی کوسزادلوانے کے لیے نہیں بلکہ آئین پر عملدرآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیاہے،پارلیمانی نظام حکومت میں صدربے اختیار ہوتاہے جبکہ توہین عدالت کی کارروائی میں صدرکوکوئی استثنیٰ نہیں۔
سماعت کے دوران حکومتی وکلانے استدعا کی کہ وکلاہڑتال کے باعث سماعت نہ کی جائے تاہم عدالت نے استدعامسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔اس پربعض سرکاری وکلا احتجاجاً کمرہ عدالت سے چلے گئے، سماعت کے دوران کالاباغ ڈیم کے تذکرہ کے حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کالا باغ ڈیم کا2عہدوں کے کیس سے کوئی تعلق نہیں لہذااس کا تذکرہ مناسب نہیں۔
ثناء نیوز کے مطابق جسٹس ناصر سعیدشیخ نے ریمارکس میں کہاکہ اگر صدرکواستثنیٰ چاہیے تو عدالت سے رجوع کریں ۔درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگرنے کہاکہ این آر او سمیت متعددکیسز میں استثنیٰ کامعاملہ حل کیاجاچکا ہے صدرکو نوٹس جاری کرکے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ عدالت نے قراردیاکہ صدرکواستثنیٰ چاہیے توعدالت سے رجوع کریں عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ صدر کو استثنیٰ ہے کہ نہیں۔
عدالت نے دائر درخواست کی سماعت آج (جمعہ تک) ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزارکواپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ جمعرات کوچیف جسٹس لاہورہائی کورٹ عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے صدر کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، درخواست گزاراے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ انھوں نے کسی کوسزادلوانے کے لیے نہیں بلکہ آئین پر عملدرآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیاہے،پارلیمانی نظام حکومت میں صدربے اختیار ہوتاہے جبکہ توہین عدالت کی کارروائی میں صدرکوکوئی استثنیٰ نہیں۔
سماعت کے دوران حکومتی وکلانے استدعا کی کہ وکلاہڑتال کے باعث سماعت نہ کی جائے تاہم عدالت نے استدعامسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔اس پربعض سرکاری وکلا احتجاجاً کمرہ عدالت سے چلے گئے، سماعت کے دوران کالاباغ ڈیم کے تذکرہ کے حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کالا باغ ڈیم کا2عہدوں کے کیس سے کوئی تعلق نہیں لہذااس کا تذکرہ مناسب نہیں۔
ثناء نیوز کے مطابق جسٹس ناصر سعیدشیخ نے ریمارکس میں کہاکہ اگر صدرکواستثنیٰ چاہیے تو عدالت سے رجوع کریں ۔درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگرنے کہاکہ این آر او سمیت متعددکیسز میں استثنیٰ کامعاملہ حل کیاجاچکا ہے صدرکو نوٹس جاری کرکے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ عدالت نے قراردیاکہ صدرکواستثنیٰ چاہیے توعدالت سے رجوع کریں عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ صدر کو استثنیٰ ہے کہ نہیں۔