ایم کیو ایم لندن کے ارکان کی گرفتاری
ایم کیو ایم لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی کے تین ارکان کو گزشتہ روز کراچی میں گرفتار کیا گیا ہے
: فوٹو : فائل
ایم کیو ایم لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی کے تین ارکان کو گزشتہ روز کراچی میں گرفتار کیا گیا ہے' ایم کیو ایم لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف' کنور خالد یونس اور امجد اللہ کو کراچی پریس کلب کے باہر سے حراست میں لیا گیا' یاد رہے کہ ایم کیو ایم لندن نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کا اعلان کر رکھا تھا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق انھیں رینجرز نے حراست میں لیا اور نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان الیکشن کمیشن میں ان کے نام سے رجسٹرڈ ہے اور ایم کیو ایم پاکستان ہی عوام کی واحد نمایندہ جماعت ہے۔ فاروق ستار نے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یوں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ متحدہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے' ایک دھڑا ایم کیو ایم لندن کے نام سے خودکو متعاراف کراتا ہے تو دوسرا ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے شناخت کراتا ہے' پاک سرزمین پارٹی بھی ان شخصیات پر مشتمل ہے جو پہلے متحدہ کا حصہ ہوا کرتی تھیں' یوں دیکھا جائے تو متحدہ عملاً تین حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے اور تینوں دھڑے ایک دوسرے پر مختلف قسم کے الزامات عائد کررہے ہیں۔
ایم کیو ایم لندن کا موقف ہے کہ فاروق ستار کی سربراہی میں قائم کوآرڈینیشن کمیٹی کی آئینی حیثیت نہیں ہے' اس کی جگہ لندن سے 12رکنی عبوری رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اسی عبوری رابطہ کمیٹی کے ارکان کراچی میں پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ اصولی طور پر ہر سیاسی جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے اور سیاست کرنے کی اجازت ہے لیکن ایم کیو ایم کے بانی قائد کی متنازعہ تقریر کے بعد صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے' بانی قائد کی تقریر کا وزن اٹھانا شاید کسی کے لیے ممکن نہیں رہا' اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے اپنے بانی قائد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور اب ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ہی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔
ان کے اس فیصلے کو لندن میں مقیم متحدہ ارکان نے تسلیم نہیں کیا۔ چند روز پہلے لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسر حسن ظفر عارف نے دیگر ساتھیوں ہمراہ کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کی تھی ' اس وقت بھی باہر رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری اور کارکنوں کو جمگھٹا تھا' تصادم کا خطرہ بھی لگ رہاتھا' ایم کیو ایم کی داخلی صورت حال میں سندھ حکومت کے لیے یہ شوڈاؤن چیلنج سے کم نہ تھا مگر پابندیوں کے باوجود ایم کیو ایم لندن کی بھی سنی گئی' کوئی ہنگامہ' بلوہ اور کریک ڈاؤن نہیں ہوا۔یہ ایک اچھا اشارہ تھا، اب گزشتہ روز ایم کیو ایم لندن کے تین ارکان کو پریس کانفرنس نہیں کرنے دی گئی، اگر وہ پہلے پریس کانفرنس کرچکے تھے تو پھر ہفتے کو انھیں ایسا کرنے دیا جاتا، بہرحال اس حوالے سے اگر کوئی قانونی یا آئینی رائے لینے کی ضرورت ہے تو عدلیہ کا سہار ا لیا جاسکتا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق انھیں رینجرز نے حراست میں لیا اور نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان الیکشن کمیشن میں ان کے نام سے رجسٹرڈ ہے اور ایم کیو ایم پاکستان ہی عوام کی واحد نمایندہ جماعت ہے۔ فاروق ستار نے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یوں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ متحدہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے' ایک دھڑا ایم کیو ایم لندن کے نام سے خودکو متعاراف کراتا ہے تو دوسرا ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے شناخت کراتا ہے' پاک سرزمین پارٹی بھی ان شخصیات پر مشتمل ہے جو پہلے متحدہ کا حصہ ہوا کرتی تھیں' یوں دیکھا جائے تو متحدہ عملاً تین حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے اور تینوں دھڑے ایک دوسرے پر مختلف قسم کے الزامات عائد کررہے ہیں۔
ایم کیو ایم لندن کا موقف ہے کہ فاروق ستار کی سربراہی میں قائم کوآرڈینیشن کمیٹی کی آئینی حیثیت نہیں ہے' اس کی جگہ لندن سے 12رکنی عبوری رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اسی عبوری رابطہ کمیٹی کے ارکان کراچی میں پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ اصولی طور پر ہر سیاسی جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے اور سیاست کرنے کی اجازت ہے لیکن ایم کیو ایم کے بانی قائد کی متنازعہ تقریر کے بعد صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے' بانی قائد کی تقریر کا وزن اٹھانا شاید کسی کے لیے ممکن نہیں رہا' اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے اپنے بانی قائد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور اب ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ہی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔
ان کے اس فیصلے کو لندن میں مقیم متحدہ ارکان نے تسلیم نہیں کیا۔ چند روز پہلے لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسر حسن ظفر عارف نے دیگر ساتھیوں ہمراہ کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کی تھی ' اس وقت بھی باہر رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری اور کارکنوں کو جمگھٹا تھا' تصادم کا خطرہ بھی لگ رہاتھا' ایم کیو ایم کی داخلی صورت حال میں سندھ حکومت کے لیے یہ شوڈاؤن چیلنج سے کم نہ تھا مگر پابندیوں کے باوجود ایم کیو ایم لندن کی بھی سنی گئی' کوئی ہنگامہ' بلوہ اور کریک ڈاؤن نہیں ہوا۔یہ ایک اچھا اشارہ تھا، اب گزشتہ روز ایم کیو ایم لندن کے تین ارکان کو پریس کانفرنس نہیں کرنے دی گئی، اگر وہ پہلے پریس کانفرنس کرچکے تھے تو پھر ہفتے کو انھیں ایسا کرنے دیا جاتا، بہرحال اس حوالے سے اگر کوئی قانونی یا آئینی رائے لینے کی ضرورت ہے تو عدلیہ کا سہار ا لیا جاسکتا ہے۔