افغان طالبان وفد کی پاکستان آمد کی اطلاعات
افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا اہم کردار ہے
۔ فوٹو: فائل
طالبان کی قطر میں افغان حکومت کے نمایندوں سے ہونے والی حالیہ بات چیت کے بعد طالبان کے ایک تین رکنی وفد نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام کو اس بارے میں بریفنگ دی' وفد میں ملا سلام حنفی' ملا جان محمد اور مولوی شہاب الدین دلاور شامل ہیں۔ خبروں کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ پاکستانی حکام اور افغان طالبان کے درمیان حال ہی میں ملاقاتیں ہوئی ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں ہمسایہ ملک افغانستان میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردارادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے طالبان وفد کی اسلام آباد آمد سے اظہار لاعلمی کیا ہے تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی تصدیق کی' پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر ذخیل وال نے بھی کہا کہ وہ افغان طالبان وفد کے حالیہ دورہ پاکستان سے آگاہ ہیں۔
افغانستان میں قیام امن کے لیے گزشتہ دنوں دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف ہوا' خبروں کے مطابق بات چیت کا پہلا دور ستمبر کے اوائل اور دوسرا اکتوبر میں ہوا' ان دونوں ادوار میں کسی پاکستانی اہلکار نے شرکت نہیں کی' مذاکرات میں سینئر امریکی سفارتکار بھی موجود تھا۔ ان مذاکرات کے منظرعام پر آنے اور پاکستانی حکام کی عدم شرکت پر مختلف حلقوں کی جانب سے چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں' کچھ حلقوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور وہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ وہاں جاری خانہ جنگی کا فی الفور خاتمہ ہو اس حوالے سے وہ چار ملکی گروپ کا حصہ ہے لیکن قطر میں ہونے والے طالبان اور افغان حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شریک نہ کرنے کے عمل کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اس سے یہ مطلب بھی اخذ کیا جا رہا ہے کہ امریکا اور افغان حکومت ایک خاص منصوبے کے تحت پاکستان کو افغانستان کے معاملات سے الگ تھلگ کر رہے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایسے حساس موقع پر ملا عمر کی موت کی خبر منظرعام پر لا کر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی' بعدازاں بلوچستان میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ اب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں افغان مہاجرین اور طالبان رہنماؤں کی گرفتاریوں اور حال ہی میں بند ہونے والے کچھ تعلیمی اداروں کے مسئلے کے حوالے سے اسلام آباد آیا ہے' امن مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کیا معاملات طے پائے اور کیا پیشرفت ہوئی اس کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔
یہ مذاکرات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کی سرپرستی میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کا عمل جاری ہے اور دونوں فریقین جنگ بندی کے خواہاں ہیں' دوسری جانب مذاکرات کے عمل کے باوجود افغانستان میں دونوں فریقین کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے اور وہ ایک دوسرے پر حملے کر کے مخالف فریق کو شدید نقصان پہنچانے کے دعویٰ بھی کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ناگزیر ہے کہ مذاکراتی عمل میں شریک ارکان بھی کسی ایجنڈے پر سمجھوتہ کر لیں۔ اگر فریقین اپنے اپنے مطالبات اور ضد پر اڑے رہے تو اس کا کوئی حل برآمد نہیں ہو گا۔ آیندہ جب بھی مذاکرات ہوں تو امریکا کو چاہیے کہ وہ ان میں پاکستان کو بھی شریک کرے۔
مذاکرات کے بعد پاکستانی حکام کو صرف بریفنگ دینے سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ مذاکرات میں پاکستان کے مفادات کا ہر ممکن خیال رکھا جانا چاہیے۔ اس وقت بھی پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں' پاکستانی حکام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو تیز تر کیا جائے تاکہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور افغان مہاجرین بھی جو گزشتہ کئی عشروں سے بے وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اپنے وطن واپس جا کر ترقی اور خوشحالی کے عمل میں شریک ہو سکیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے طالبان وفد کی اسلام آباد آمد سے اظہار لاعلمی کیا ہے تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی تصدیق کی' پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر ذخیل وال نے بھی کہا کہ وہ افغان طالبان وفد کے حالیہ دورہ پاکستان سے آگاہ ہیں۔
افغانستان میں قیام امن کے لیے گزشتہ دنوں دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف ہوا' خبروں کے مطابق بات چیت کا پہلا دور ستمبر کے اوائل اور دوسرا اکتوبر میں ہوا' ان دونوں ادوار میں کسی پاکستانی اہلکار نے شرکت نہیں کی' مذاکرات میں سینئر امریکی سفارتکار بھی موجود تھا۔ ان مذاکرات کے منظرعام پر آنے اور پاکستانی حکام کی عدم شرکت پر مختلف حلقوں کی جانب سے چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں' کچھ حلقوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور وہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ وہاں جاری خانہ جنگی کا فی الفور خاتمہ ہو اس حوالے سے وہ چار ملکی گروپ کا حصہ ہے لیکن قطر میں ہونے والے طالبان اور افغان حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شریک نہ کرنے کے عمل کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اس سے یہ مطلب بھی اخذ کیا جا رہا ہے کہ امریکا اور افغان حکومت ایک خاص منصوبے کے تحت پاکستان کو افغانستان کے معاملات سے الگ تھلگ کر رہے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمایندوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایسے حساس موقع پر ملا عمر کی موت کی خبر منظرعام پر لا کر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی' بعدازاں بلوچستان میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ اب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں افغان مہاجرین اور طالبان رہنماؤں کی گرفتاریوں اور حال ہی میں بند ہونے والے کچھ تعلیمی اداروں کے مسئلے کے حوالے سے اسلام آباد آیا ہے' امن مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کیا معاملات طے پائے اور کیا پیشرفت ہوئی اس کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔
یہ مذاکرات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کی سرپرستی میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کا عمل جاری ہے اور دونوں فریقین جنگ بندی کے خواہاں ہیں' دوسری جانب مذاکرات کے عمل کے باوجود افغانستان میں دونوں فریقین کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے اور وہ ایک دوسرے پر حملے کر کے مخالف فریق کو شدید نقصان پہنچانے کے دعویٰ بھی کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے ناگزیر ہے کہ مذاکراتی عمل میں شریک ارکان بھی کسی ایجنڈے پر سمجھوتہ کر لیں۔ اگر فریقین اپنے اپنے مطالبات اور ضد پر اڑے رہے تو اس کا کوئی حل برآمد نہیں ہو گا۔ آیندہ جب بھی مذاکرات ہوں تو امریکا کو چاہیے کہ وہ ان میں پاکستان کو بھی شریک کرے۔
مذاکرات کے بعد پاکستانی حکام کو صرف بریفنگ دینے سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ مذاکرات میں پاکستان کے مفادات کا ہر ممکن خیال رکھا جانا چاہیے۔ اس وقت بھی پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں' پاکستانی حکام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو تیز تر کیا جائے تاکہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور افغان مہاجرین بھی جو گزشتہ کئی عشروں سے بے وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اپنے وطن واپس جا کر ترقی اور خوشحالی کے عمل میں شریک ہو سکیں۔