امن کے لیے جنگ

دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اتنی تو امریکا اور نیٹو افواج نے افغانستان میں بھی نہیں دیں

، فوٹو: آئی ایس پی آر

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اتوار کو لاہور میں پہلی پیسز چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مقابلوں کے انعقاد سے 18ممالک کی فوجوں کے جوانوں کو اکٹھے ہونے کا موقع ملا' یہ اپنی قسم کا منفرد مقابلہ تھا اور اس سے بھائی چارے اور باہمی تعاون کے فروغ کا بھی موقع ملا' ماضی کے مقابلے میں پاکستان آج دنیا سے زیادہ جڑا ہوا اور ہم آہنگ ہے' ایسے ایونٹس اس کی مثال ہیں' آپریشن ضرب عضب امن کے لیے جنگ کی بہترین مثال ہے اور اس سے پاکستان اور خطے میں استحکام اور خوشحالی آ رہی ہے' عالمی برادری کو فخر سے بتا سکتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کے دور دراز کے علاقوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کر کے امن و خوشحالی کی فضا قائم کر دی گئی ہے۔

بھارت نے پٹھانکوٹ اور اڑی حملے کی آڑ میں پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا لیبل لگا کر اسے دنیا بھر میں تنہا کرنے کا نعرہ بلند کر دیا۔ اس کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا لیکن پاکستان نے اس صورت حال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پوری دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا یکطرفہ اور تعصب پر مبنی ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں آذر بائیجان کا دورہ کیا جس میں وہاں کے صدر نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ چند روز پیشتر گوا میں ہونے والی برکس کانفرنس میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اسے دہشت گرد ملک قرار دینے کی ایک بار پھر کوشش کی مگر چین اور روس نے اس موقع پر اس کا ساتھ نہ دیا جس سے بھارت اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب پاکستان میں پہلی بین الاقوامی پیسز کمپیٹیشن میں 18ممالک کی فوجوں کے جوانوں کی شرکت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا کو اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی نہیں کر رہا بلکہ حقیقتاً وہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہا ہے۔


یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے پاک افغان سرحد کے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کا صفایا کر کے وہاں امن و امان کی فضا قائم کر دی ۔ یہ آپریشن شروع کرنے سے پیشتر بعض حلقوں کی جانب سیاسی خدشے کا بار بار اظہار کیا جا رہا تھا کہ ان دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کوئی آسان کام نہیں اور یہاں جانی و مالی نقصان بہت زیادہ اور کامیابی کا تناسب بہت کم ہو گا لہٰذا ایسے کسی آپریشن سے گریز ہی بہتر حکمت عملی ہو گی۔

لیکن پاک فوج نے جس مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطے کو دہشت گردوں سے پاک کیا اور قربانیوں کی مثال قائم کی پوری دنیا اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکی اور آج امریکا سمیت تمام بڑی قوتیں پاکستان کے اس کارنامے پر رطب اللسان ہیں۔ آج دنیا کو اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان پورے خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جو قربانیاں دے رہا ہے اس سے حقیقتاً خطے اور پوری دنیا کا امن وابستہ ہے۔ پاکستان نے کبھی ایسا تاثر بھی نہیں دیا کہ وہ خطے کے دوسرے ممالک پر بالادستی کے حصول کے لیے کوشاں ہے لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ ایک جانب امریکا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا معترف ہے تو دوسری جانب اپنے جیو اسٹرٹیجیکل مفادات کے پیش نظر پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کے دشمنی بر مبنی موقف کی حمایت کرتا ہے۔

اگر صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان واقعتاً افغانستان اور بھارت کو دہشت گردوں کی کارروائیوں سے بچانے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے ہی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن یہ ہمسایہ ممالک اس کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ اگر امریکا' بھارت اور افغانستان نے یہی رویہ اپنائے رکھا تو اس امر کا خدشہ ہے کہ دہشت گردوں کو اس سے تقویت ملنے سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ متاثر ہو گی۔

اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اتنی تو امریکا اور نیٹو افواج نے افغانستان میں بھی نہیں دیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ امریکا' بھارت اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بھرپور معاونت کریں تاکہ یہ جنگ جلد از جلد اپنے انجام تک پہنچے اور پورے خطے میں ایک بار پھر امن و امان کی فضا قائم ہو جائے جس کی خواہش ایک طویل عرصے سے کی جا رہی ہے۔ بلاشبہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہا ہے' وہ اصل میں امن کے لیے جنگ ہے' اور یہ جنگ لڑنا پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے لازم ہے' یاد رکھنے والی یہ حقیقت ہے کہ یہ جنگ اکیلے فوج کی ذمے داری نہیں بلکہ ہماری سیاسی قیادت کو بھی جراتمندی سے انتہا پسندوں اور انتہا پسندی کے مقابلے میں لڑنا ہو گا' یہی جنگ دراصل امن کی کنجی ہے۔
Load Next Story