کرپشن اور چیئرمین نیب

چیئرمین نیب نے جو کچھ کہا ہے‘ اس میں یقیناً سچائی کا عنصر ہو گا۔

چیئرمین نیب نے صورت حال کی سنگینی کو یوں بیان کیا ہے کہ ملک میں کرپشن کی نہر چل رہی ہے۔ جس میں مچھلیاں اور مگرمچھ تیر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ ایڈمرل (ر) فصیح نے نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پانچ سے سات ارب روپے کی کرپشن روزانہ ہورہی ہے۔اس کی نشاندہی پبلک اکاونٹس کمیٹی اور ایف بی آر نے بھی کی ہے۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ بعض اعداد وشمار کے مطابق یومیہ کرپشن 10سے 12ارب روپے تک ہے' اس میں سات ارب روپے ٹیکس چوری میں کی جاتی ہے۔ چیئرمین نیب نے صورت حال کی سنگینی کو یوں بیان کیا ہے کہ ملک میں کرپشن کی نہر چل رہی ہے۔ جس میں مچھلیاں اور مگرمچھ تیر رہے ہیں۔ انھوں نے وضاحت کی کہ محض مگرمچھوں کو پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ ہم اس کوشش میں ہیں کہ کرپشن کی نہر کی لیکیجز کو بند کیا جائے۔ انھوں نے نیب کی کارکردگی یہ کہہ کر بیان کی کہ نیب نے 80 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔

چیئرمین نیب نے جو کچھ کہا ہے' اس میں یقیناً سچائی کا عنصر ہو گا۔ پاکستان آج جس بحران کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ اعلیٰ سرکاری سطح پر کرپشن ہی ہے تاہم بدھ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا جو اجلاس ہوا تھا' اس میں کرپشن کے الزامات پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک وزارتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جسے 15 دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اس اجلاس کے اگلے ہی روز نیب کے چیئرمین نے پریس کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی جا رہی ہے۔ نیب چیف نے بتایا کہ ان کے اعداد و شمار ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) کے کرپشن پرسپشن انڈیکس کی بنیاد پر تھے، نیز اس میں دیگر ذرایع سے حاصل ہونے والی معلومات بھی شامل تھیں جو قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) جاری کرتی ہے مزید براں محکمہ ٹیکسیشن بھی اپنے اعداد و شمار مرتب کرتا ہے اور بہت بڑے بڑے منصوبوں (میگا پراجیکٹس) کے اخراجات کے بارے میں نیب اپنے ذرایع سے بھی اعداد و شمار حاصل کرتا ہے۔


وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ ایسے موقع پر جب انتخابات سر پر ہیں' کرپشن رپورٹ کو طشت ازبام کرنا کسی خاص ایجنڈے کا شاخسانہ ہے۔ مگر ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کا جواب تھا کہ ان کا ایجنڈا پاکستان ہے۔ بہر حال اس صورت حال سے یہ نظر آتا ہے کہ حکومت چیئرمین نیب کی جانب سے اس موقع پر کرپشن کے اعدادوشمار ظاہر کرنے کے اقدام سے خوش نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن کوئی نئی بات نہیں ہے۔ہر حکومت کے دور میں کسی نہ کسی شکل میں مالی کرپشن ہوتی رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے بڑے بڑے لوگ خصوصاً سیاستدان جس قسم کا طرز زندگی اپنائے ہوئے ہیں' اس کی مناسبت سے وہ نہ تو انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور نہ ہی دیگر ٹیکسز کی ادائیگی کرتے ہیں۔ انتہا تو یہ ہے کہ بعض سیاستدان ایسے بھی ہیں جن کے پاس نیشنل انکم ٹیکس نمبر ہی نہیں ہے حالانکہ وہ ملک کے بااثر شخصیات میں شامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کی مثالوں کو سامنے رکھیں تو چیئرمین نیب کی باتوں میں سچائی نظر آتی ہے تاہم یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ کیا یہ موقع اس قسم کی باتوں کا ہے اور یہ کہ کیا محض باتیں کرنے سے کرپشن ختم ہو جائے گی۔

اگر ملک میں اس بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے تو اس حوالے سے ضروری تو یہ ہے کہ کرپٹ افراد کے ناموں کی نشاندہی کی جائے۔ محض کرپشن کے حجم کو ظاہر کر دینے سے نہ تو کرپشن کرنے والے پکڑے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کرپشن کا حجم کم ہو سکتا ہے۔ بقول چیئرمین نیب کہ پاکستان میں کرپشن کی نہر بہہ رہی ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اس نہر کو ہمیشہ کے لیے خشک کر دیا جائے۔ اگر لیکیج ہی بند کرنی ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ نہر بہتی رہے گی اور اس میں تیرنے والے مگرمچھ بھی زندہ رہیں گے۔ کرپشن تو بھارت میں بھی ہوتی ہے' یورپ امریکا میں بھی کسی نہ کسی حد تک سودوں میں کمیشن اور کک بیکس وصول کیے جاتے ہیںلیکن وہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ اتنے ارب کی کرپشن ہو رہی ہے وہاں کرپشن کرنے والے لوگوں کو پکڑا جاتا ہے ۔ چیئرمین نیب نے کرپشن کے بارے میں اپنے اعداد و شمار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 9 فیصد ہے جسے با آسانی 18 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔گویا اس اعتبار سے ملک کو سالانہ 2500 ارب سے 3000 ارب روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ جو 7 ارب روپے روزانہ بنتے ہیں اور 300 سے 350 ارب روپے سالانہ نقصان کی رپورٹ تو پی اے سی نے خود اپنے آڈٹ اعتراضات میں دی ہے۔ علاوہ ازیں ریاستی املاک کو نا اہلی کے سبب پہنچنے والے نقصان کا حجم بھی 350 ارب روپے سالانہ سے کم نہیں جب کہ نیب کے اپنے تخمینے کے مطابق میگا پراجیکٹس میں ہونے والی کرپشن کا حجم بھی کم و بیش اتنا ہی ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ سرکاری خزانے کو براہ راست پہنچنے والے نقصان میں اول نمبر پر تو زرعی آمدنی پر ٹیکس عاید نہ کیا جانا ہے۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن سرکاری خسارے کی دوسری وجہ ہے۔ سرکاری اراضی پر قبضے اور تجاوزات سے بھی بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ گھوسٹ ملازمتیں' ویلتھ ٹیکس کے نقصانات اور ڈیوٹی ڈرا بیک... یہ سب قومی خزانہ خالی کرنے کے راستے ہیں نیز لوڈشیڈنگ اور بڑے منصوبوں کی تکمیل میں ناروا تاخیر بھی سرکاری خزانے کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے کہا اگر سرکاری خزانے کے خفیہ سوراخوں کو بند کر دیا جائے تو اس میں اربوں کھربوں جمع ہو سکتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے جو کچھ کہا اس کا تعلق اچھی گورننس اور قانون سازی سے ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ چیئرمین نیب کی باتوں پر غور کرتے ہوئے ان سوراخوں کو بند کرے جن سے کرپشن ہو رہی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ملک کے مالی معاملات شفاف بنائے جائیں۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس عاید کرنے کے ساتھ ساتھ قبائلی سرداروں کے ذرایع آمدنی پر بھی چیک رکھا جائے۔ یہ لوگ کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں'درجنوں کے حساب سے ان کے باڈی گارڈز ہوتے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ ہوتا ہے۔ یقینی طور پر وہ بھی پیسے ہی آتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور اسمبلیوں میں پہنچ کر حکومت کرنے کے بھی دعویدار ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں کرپشن ختم کرنے کے دعوے محض دعوے ہی رہیں گے۔
Load Next Story