غربت کی اصل جڑ

غربت کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب غریب ختم کیے جائیں گے۔

barq@email.com

ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے ذاتی نئے چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کے پروگرام بڑے مقبول جا رہے ہیں خصوصاً ہمارا ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' تو اتنا مقبول ہو رہا ہے کہ اگلے پچھلے تمام ریکارڈز کو چکنا چور کر دیا ہے۔ آج ہم اس سلسلے کا دوسرا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ حسب معمول میرے دائیں جانب ماہر تعویزات و عملیات و ازدواجیات علامہ بریانی عرف کدو سرہ تشریف فرما ہیں اور یہ دائیں طرف جو بارش زدہ الو کی طرح بیٹھے ہیں، وہی ایک آنکھ والی سرکار حضرت چشم گل چشم عرف قہر خداوندی ہیں، آج کے ہمارے مہمانوں میں مشہور سیاسی، سماجی، تجارتی اور وزارتی رہنما آمر خان رفت ۔۔۔ کم از کم اس پروگرام کے اختتام تک تو وہ اسی پارٹی میں ہیں جس میں آج صبح شامل ہوئے تھے، آگے کا پتہ ان کو خود بھی نہیں ہے کیوں کہ مختلف پارٹیوں میں ''داخل خارج'' کے یہ اتنے رسیا ہیں کہ ملک کی ہر پارٹی میں کم از کم اٹھارہ بار داخل خارج ہو چکے ہیں ۔کچھ لوگوں نے ان کی بے پناہ وفا داری اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ''مرغ باد نما'' کا خطاب بھی دیا ہے، ہاں تو جناب آمر خان رفت عرف مرغ باد نما صاحب آج کل آپ کی چونچ کس طرف ہے۔ میرا مطلب ہے کو نسی پارٹی میں ہیں اور کس پر نظر ہے؟

رفت: کیا بتاؤں آج صبح میں نے اپنے لاکھوں پرستاروں کے ساتھ پاکستان پاک و صاف پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب کہیں جا کر میں نے صحیح پارٹی جوائن کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ملک کی نجات دہندہ کوئی پارٹی ہو سکتی ہے تو وہ یہی پارٹی ہے۔

چشم : ذرا یہ تو بتایئے کہ کتنے گھنٹوں تک آپ اس پارٹی میں رہیں گے؟

علامہ : کندہ ناتراش تم پھر بیچ میں بولے۔
چشم: علامہ منہ مت کھلاؤ میرا، ابھی میں نے میک اپ روم میں آپ دونوں کو مٹھیاں لڑاتے دیکھا ہے ،کچھ سرمئی کاغذ ان کی مٹھی سے آپ کی مٹھی میں منتقل ہو رہے تھے۔
علامہ : لگتا ہے تمہاری یہ اکلوتی آنکھ بھی دھندلا رہی ہے، وہ تو ہم مصافحہ کر رہے تھے، ہے نا ۔۔۔ رفت صاحب
رفت: بلکل میں علامہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہا تھا۔
اینکر: دیکھیں یہ آپ کیا باتیں لے بیٹھے ہیں، ایسی باتیں پس پردہ رہنی چاہئیں۔
چشم: تمہارے پس پردہ کا بھی مجھے پتہ ہے ہٹاؤں...
اینکر: ہاں تو رفت صاحب آپ کی موجودہ پارٹی۔۔۔۔
رفت: دراصل میں پیدائشی طور پر اسی نظریئے کا حامل تھا جو پاکستان پاک و صاف پارٹی کا ہے۔
چشم: آپ کتنی مرتبہ پیدا ہوئے ہیں؟

رفت : کیا مطلب۔
چشم: یہی بات آپ نے ہر پارٹی میں شامل ہوتے ہوئے کہی ہے۔
رفت: کہی ہو گی، سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔
علامہ: بھئی میں تو جناب رفت کا قائل ہو گیا ہوں، انھوں نے آج تک لگ بھگ انیس بیس پارٹیوں میں سیاست کی ہے لیکن وزارت کبھی قبول نہیں کی۔
چشم: وزارت نے انھیں قبول نہیں کیا۔
رفت: کم از کم آٹھ دس بار مجھے وزارت کی آفر ہوئی ہے۔
اینکر: تو آپ نے قبول کیوں نہیں کی۔
رفت: میں خدمت پر ایمان رکھتا ہوں۔

چشم: کس کی خدمت۔
رفت: قوم کی خدمت۔
چشم: میں بتاؤں آپ وزارت اس لیے نہیں لیتے کہ پھر تو ایک ہی محکمے تک محدود ہو جائیں گے لیکن اس طرح ہر وزارت میں چرتے رہتے ہیں۔
اینکر: پلیز یہ چرنے کا لفظ واپس لیجیے، یہ غیر پارلیمانی ہے۔

چشم: اس میں غلط کیا ہے۔
اینکر: چرنے کا لفظ آپ کو واپس لینا ہو گا۔
علامہ: کسی انسان کے لیے چرنے کا لفظ استعمال کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
چشم: میں نے انسان کے لیے کب استعمال کیا ہے۔
علامہ: کیوں یہ رفت صاحب انسان نہیں ہیں۔
چشم: یہ تو لیڈر ہیں۔
علامہ: تو لیڈر انسان نہیں ہوتے۔
چشم: ہوتے تو لیڈر کیوں ہوتے کسی پٹواری کو آپ پولیس انسپکٹر کیسے کہہ سکتے ہیں۔
اینکر: چرنے کا لفظ آپ کو واپس لینا ہو گا۔
چشم: ٹھیک ہے میں چرنے کا لفظ واپس لیتا ہوں اور اس کے لیے چگنے کا لفظ رکھتا ہوں۔
علامہ: مگر چگنا تو اور بھی غلط ہے، رفت صاحب کوئی پرندہ تو نہیں ہیں۔

چشم: پرندے نہیں ہیں تو ہر موسم میں نقل مکانی کیوں کرتے ہیں۔
اینکر: اس لفظ کو بھی واپس لینا ہو گا۔
چشم: ٹھیک ہے میں دونوں الفاظ واپس لیتا ہوں لیکن ان کا مفہوم واپس نہیں لوں گا۔
علامہ: چھوڑیئے، یہ جاہل مطلق ہمیشہ جاہل مطلق ہی رہے گا۔
اینکر: ہاں تو رفت صاحب۔
رفت: بھئی میں تو خدمت میں یقین رکھتا ہوں۔
علامہ: رفت صاحب بالکل صحیح فرماتے ہیں۔
چشم: مگر کس کی خدمت۔
رفت: قوم کی۔
چشم: اچھا آپ کے خاندان کا نام قوم ہے۔
علامہ: نیک کام ہمیشہ گھر سے ہی شروع کیا جاتا ہے۔
چشم: یہ آپ نہیں آپ کی مٹھی بول رہی ہے۔
اینکر: ہاں تو رفت صاحب میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ آج کل ملک میں غربت کی لکیر بڑی تیزی سے اوپر جا رہی ہے۔
چشم: غربت کی لکیر کے پائلٹ تو یہی ہیں۔
اینکر: تم ان کو بولنے دو۔
رفت: میرے خیال میں غربت کا خاتمہ بڑا آسان ہے اور میرا خیال ہے کہ میری موجودہ پارٹی...
چشم: کب تک موجودہ پارٹی۔
رفت: اب ایک لفظ بھی اور کہا تو میرے آدمی باہر کھڑے یہ پروگرام سن رہے ہیں، ویسے بھی تمہاری شکل مجھے غریبوں کی سی لگ رہی ہے اور غربت کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب غریب ختم کیے جائیں گے، جب تک جڑ ختم نہیں ہو گی، غربت کبھی ختم نہیں ہو گی۔
Load Next Story