بارش بارش مزید بارش

قحط کی فصل اور بارش کی فصل میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے

Abdulqhasan@hotmail.com

KARACHI:
ایک پرانا پنجابی محاورہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ 'پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے سبھی گلاں کھوٹیاں' (جس سے پیٹ کے لیے روٹی نہ ملے وہ بھی کھوٹی بات ہوئی)۔ اس سال کچھ ایسا ہی معاملہ تھا کہ ہماری بارانی زمینوں پر بارش نہ ہوئی اور یہ میں عرض کر چکا ہوں کہ ٹیوب ویل بھی جواب دے گئے تھے۔ زیر زمین پانی نہیں تھا اور اگر کہیں دور پاتال میں تھا بھی تو اتنا بھاری انجن لگا کہ اسے باہر کون نکالے کیونکہ انجن جتنا زیادہ طاقت ور ہو گا وہ ڈیزل بھی اتنا ہی زیادہ کھائے گا۔ میری بات پر یقین نہ ہو تو یہ بات ہمارے لیڈر ڈیزل سے پوچھ لیجیے۔ مطلب یہ کہ بارش کے بغیر فلاح کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ بارش صرف کھیت کو سیراب ہی نہیں کرتی بادلوں سے ایسی آب حیات کے قطرے بھی اپنے ساتھ لاتی ہے جو فصل میں زندگی پیدا کرتے ہیں، اسے بارونق اور خوبصورت بناتے ہیں اور پھر اس میں ایک نئی طاقت بھی بھر دیتے ہیں۔

قحط کی فصل اور بارش کی فصل میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے اور ایک کاشتکار اس فرق کو خوب سجھتا ہے۔ میں بھی ایک کاشتکار ہوں، جدی پشتی اور ایسے فرق کو خوب جانتا پہچانتا ہوں۔ بہر کیف اللہ نے سن لی اور اس وقت جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو زور دار بارش تو تھم چکی ہے لیکن وہ پیاسی زمین کو نئی زندگی دے گئی ہے۔گندم کی کاشت اگرچہ لیٹ ہو گئی ہے لیکن اسے پھر بھی اللہ کی مدد کے سہارے کاشت کر دیا جائے گا، شاید اتنی بارشیں ہو جائیں کہ وہ لیٹ نکال دیں۔ یوں تو کون ہے جس کی زندگی امید پر قائم نہیں لیکن ایک کاشتکار کی زندگی تو سراسر امید پر ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت میری یہ امید قائم ہو گئی ہے۔ اخباروں میں بارشوں کا ذکر آیا اور اس علاقے میں بارش کی امید ظاہر کی گئی چنانچہ یہ امید بر آئی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے، میرے جو ساتھی صرف ان زمینوں پر زندگی بسر کرتے ہیں، وہ اب فی الوقت زندگی سے مایوس نہیں ہوں گے۔


میں بھی ان میں شامل ہوں اگرچہ شہر میں رہتا اور یہیں ملازمت کرتا ہوں، یہیں سے کماتا اور یہیں پر خرچ کرتا ہوں لیکن میں نے نہ جانے کیوں کبھی اپنے آپ کو لاہوری نہ سمجھا جب کہ ساری زندگی تقریباً اس خوبصورت شہر لاہور میں ہی گزر گئی اور گزر رہی ہے کہ ڈاکٹر اس شہر میں ہیں اور اب معالجوں کے بغیر روز و شب نہیں گزرتے۔ ہمارے ہاں اب تک ہم نے جو سہولت بھی فراہم کی ہے وہ بڑے شہروں میں کی ہے اگر دیہی علاقوں میں کوئی ایمرجنسی ہو تو میلوں سفر کرو بشرطیکہ مریض یہ سفر برداشت کر لے اب تو حکمرانی کا عالم یہ ہے کہ بھرے شہروں میں بھی ایمبولینس گاڑیاں ٹریفک میں رک جاتی ہیں اور ان میں پڑے مریض ہارن سنتے سنتے فوت ہو جاتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ میں بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہوں، گائوں کی اور شہر کی اور داد دیجیے ان دونوں پر چلا جا رہا ہوں۔ غنیمت ہے موبائل فون کی سہولت کہ جب بادل کا پہلا ٹکڑا آسمان پر نمودار ہوا تو اطلاع ملی، پھر جب آسمان بادلوں سے بھر گیا اور بارش سے پہلے والی ہوا چلنے لگی تو اطلاع ملی جس میں قدرے مبارک باد بھی تھی، پھر بادل برسنے شروع ہوئے تو موبائل پر بارش اور پرنالوں سے پانی گرنے کی آوازیں آنے لگیں۔ فون سننے میں میرا قہقہہ نکل گیا، گھر والوں نے پوچھا کیا تنخواہ بڑھ گئی ہے، میں نے جواب میں کہا کہ بس یہی سمجھئے۔ نوکری والی نہیں اپنی اصلی تنخواہ بڑھ گئی ہے۔

گھر والے بھی چپ ہو گئے کہ سال چھ ماہ بعد دیکھیں کیا ہو گا۔ یہ سب لوگ بضد ہیں کہ گزشتہ دنوں لاہور میں اخباروں میں تنخواہیں لاکھوں تک جا پہنچیں مگر تم اس تنخواہ پر کام کر رہے ہو، میرا جواب سب کو معلوم ہے کہ میں تنخواہ مانگتا نہیں، میری ضرورت کے مطابق وہ خود بخود بڑھتی ہے، اس لیے جو چیز مانگے بغیر ملے اسے مانگ کر لینا پرلے درجے کی حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ میں نے کبھی نوکری کے لیے درخواست نہیں دی، اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ مجھے وہ بات یاد آتی ہے کہ فلاں پیر صاحب کے پاس کوئی ایسی دعا تھی کہ وہ صبح نماز کے بعد جانماز کا کونہ اٹھاتے تو اس کے نیچے ان کی روز مرہ ضرورت کے پیسے پڑے ہوتے۔ میں نے ایک بار شاہ صاحب سے پوچھا کہ جناب یہ کیا بات ہے، انھوں نے بتایا کہ کچھ لوگ کسی طرح کسی جن کو قابو کر لیتے ہیں اور وہ ان کی فرمائش پر کچھ رقم لے آتا ہے لیکن یہ رقم وہ چوری کر کے لاتا ہے ورنہ اس کا کون سا کاروبار ہوتا ہے۔ بہر حال یہ تو یونہی ایک جملہ معترضہ آ گیا لیکن ایک بات ہے کہ ہمارے کچھ ضعیف الاعتقاد لوگ اب بھی ایسے پیروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ایک نیا ڈبل شاہ تو فیوچر کنسرن والا ہے جو بتایا جاتا کہ کسی بڑے گھر میں چھپا ہوا ہے یا آرام کر رہا ہے بلکہ قیام کر رہا ہے، یہ گھر بھی معلوم ہے مگر اس گھر کا دروازہ کون کھٹکھٹائے اور پھر اس کا جو حال ہو وہ کون دیکھے۔

عرض کر رہا تھا بلکہ بارش کا جشن منا رہا تھا کہ بات نہ جانے کہاں سے کہاں نکل گئی، حالات ایسے پراگندہ ہو گئے ہیں کہ ذہنوں میں توازن نہیں رہا۔ اردو زبان تک کے ہجے بھی غلط ہو جاتے ہیں اور ٹائپ کرنے والے میری جان کو روتے ہیں کہ یہ کیا لکھ دیا۔ لاہور میں بھی بارش ہوئی ہے، درخت دھل گئے ہیں اور موسم میں تازگی اور نفاست آ گئی ہے، ہر چیز نکھر گئی ہے ، خدا لاہور کو ایسا ہی آباد رکھے اور ہم اس کے مستقل مسافر خوش رہیں۔ باقی سب اللہ کے اختیار میں ہے، بارش بھی اور قحط بھی۔ خواہش یہی ہے کہ بارش بارش اور مزید بارش۔
Load Next Story