انصاف کی موت 

گزشتہ ماہ لاہورہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے قتل کے ایک ملزم جمیل کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

tauceeph@gmail.com

قانونی نظام کی زبوں حالی کا ایک اوردل دہلا دینے والا واقعہ سپریم کورٹ سے بری 2 بھائیوں کوایک سال پہلے پھانسی ہوچکی ۔تھانہ صدرصادق آباد رحیم یارخان کی حدود میں گاؤں رانجھے میں عبدالقادر اوراس کے بیٹے کے قتل کے بعد بیٹی سلمیٰ کوبھی قتل کردیا گیا تھا۔ملزمان غلام فریدکو دوبار عمرقید، غلام قادراورغلام سرورکو ٹرائل کورٹ سے 3، 3 بار سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کے جسٹس راجہ فیاض اورجسٹس فیاض پرویز نے 10 جون 2010 کو عبدالقادر اور اکمل کی حد تک سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ،جب کہ سلمیٰ کے معاملے پر اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظورکرلی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقول ہائی کورٹ، وزارت داخلہ اور محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کردی گئی تھیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں فل بینچ نے 6 اکتوبرکو مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات میں تضادات کی بناء پر غلام قادر اور غلام سرور کو بری کردیا مگر پتہ چلا کہ ان دو افراد کو 13 اکتوبر 2015ء کو ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان میں پھانسی دیدی گئی تھی۔ غلام قادر اور غلام سرور اپنی رہائی کا فیصلہ سننے کے لیے دنیا میں موجود نہیں تھے۔ ان کے لواحقین انصاف کے حصول کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔

گزشتہ ماہ لاہورہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے قتل کے ایک ملزم جمیل کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ جمیل 19سال جیل میں رہنے کے بعد دوسال قبل جہلم جیل میں انتقال کرگیا تھا۔ جمیل کی رہائی کے لیے کوششیں کرنے والے اس کے والد اورچچا بھی یہ خوش خبری سننے کے لیے دنیا میں موجود نہیں تھے۔

انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف غلام قادر،غلام سرور اور جمیل ہی اس نظام کا شکار نہیں ہوئے بلکہ کئی اور غریب بھی بے گناہ ہونے کے باوجود پھانسی پر لٹکا دیے گئے یا جیلوں کی سزائے موت کی کھولی میں مرگئے۔ وکلاء اس پورے معاملے کو عدالتی نظام اور سزائے موت پر جلدی عملدرآمد کو قرار دیتے ہیں۔

کراچی میں طویل عرصہ سے سرکاری وکیل کے فرائض انجام دینے والے شاہد علی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ان دو افراد کو سزائے موت کو غیرسنجیدگی، نااہلی اورانسانی جان کو اہمیت نہ دینے کی بدترین مثال قراردیا جاسکتا ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت قتل کی دفعات کے ملزمان کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں چلتا ہے، پھر ملزمان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ہوتا ہے، اگر کوئی ملزم اپیل کرنے کی حیثیت نہیں رکھتا تو جیل سپرنٹنڈنٹ ملزمان کی عرض داشت متعلقہ ہائی کورٹ میں بھجواتا ہے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوتا، اگر ہائی کورٹ میں سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا جائے تو ملزم کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہوتا ہے، اگر سپریم کورٹ بھی ملزم کی اپیل مسترد کردے تو مجرم کو صدرِ پاکستان کو اپیل کرنا کا حق ہوتا ہے۔ جب صدرِ پاکستان مجرم کی اپیل مستردکردیتے ہیں تو وزارتِ قانون اس کی اطلاع صوبائی محکمہ داخلہ اور ٹرائل کورٹ کو دیتا ہے، پھر ٹرائل کورٹ کا جج ملازم کے ریڈ وارنٹ جاری کرتا ہے اور متعلقہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کو خط لکھتا ہے کہ مجرم کو سزائے موت دینے کی تاریخ طے کی جائے اور قریبی رشتے داروں سے آخری ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔

جیل سپریٹنڈنٹ مجرم کو اپنی وصیت لکھنے کا مشورہ دیتا ہے اورمجرم کی آخری خواہش معلوم کی جاتی ہے، پھربدقسمت مجرم کو رات کے آخری پہر تختہ دار پر لٹکا کر پھانسی گھاٹ کا لیورکھینچا جاتا ہے۔مجرم کے گلے میں پھندا ڈالنے اور پھانسی گھاٹ کا لیورکھینچے کے لیے ایک علیحدہ شخص کو ملازم رکھا جاتا ہے۔

شاہدعلی کا کہنا ہے کہ ان بدقسمت ملزمان کو سزائے موت دینے کے لیے اس طریقہ کار پرعملدرآمد نہیں ہوا۔ شاید سپریم کورٹ کا پھانسی کی سزا معطل کرنے کا حکم متعلقہ دفاتر تک نہیں پہنچا یا متعلقہ افسران نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں پڑھا۔ پھر اس بات کا بھی امکان ہے کہ ملزمان کے وکلاء اور جیل سپریٹنڈنٹ نے ان بدقسمت افراد کو صدر سے رحم کی اپیل بھیجنے کا مشورہ نہیں دیا، اگرچہ دونوں افراد ناخواندہ تھے تو ان کے وکیل اور جیل سپریٹنڈنٹ کو یہ اپیل صدر کو بھجوانی چاہیے تھی۔ پھر ہرڈسٹرکٹ جج کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ضلع کی جیلوں کا معائنہ کرے۔


ڈسٹرکٹ جج کے ساتھ متعلقہ مجسٹریٹوں کی بھی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ جیل کے دورے کے دوران قیدیوں کا مشکلات کا جائزہ لیں اور جیل حکام کو مسائل کے حل کا پابند کریں۔ پھر جن ملزموں کے مقدمات طویل عرصے سے زیرِ التواء ہوتے ہیں ان کی وجوہات کا پتہ چلایا جائے جن کی وجہ سے یہ مقدمات طویل عرصے سے زیرِ التواء ہیں۔

اسی طرح پھانسی پانے والے مجرموں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو عرض داشتیں بھجوانے کو یقینی بنانے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صدرکو رحم کی اپیل بھیجنے کے لیے متعلقہ عملے کو پابند کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ جج صاحبان جیلوں کی صورتحال کے بارے میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو رپورٹ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔

لارڈ میکالے نے 1857ء کی جنگ آزادی کے 9سال بعد 1867ء میں جدید قانون اور عدالتی نظام کا خاکہ تیارکیا تھا۔ لارڈ میکالے کے تیارکردہ اس خاکے میں غریبوں کے لیے محدود گنجائش تھی مگر انگریز حکومتیں 1947ء تک لوگوں کے آپس کے تضادات کو حل کرنے کے لیے غیر جانبداری سے کام لینے کے لیے مشہور تھیں، یوں عام آدمی کا انگریز دورِ حکومت کی پولیس اور انتظامیہ پر بھرپور اعتماد رہا تھا مگر قیامِ پاکستان کے بعد پولیس اور عدلیہ کا نظام خراب ہوتا چلا گیا مگر پولیس کے محکمے میں رشوت اور سفارش کی بنیاد پر غریبوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ پھر مختلف قسم کے دباؤ پر کسی واقعے کی ایف آئی آر درج نہ کرنے کی روایت بھی خوب پھلی پھولی۔ خاص طور پر بااثر افراد کی ایماء پر غریبوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی روایت بھی خاصی مضبوط رہی۔ پھر تھانے میں بند افراد پر تشدد اور اپنی مرضی کے ملزمان اورگواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ پھر پولیس جعلی گواہ تیار کرتی ہے، اگر متعلقہ فریق کی جانب سے مناسب رقم نہ ملے تو چالان میں سقم رکھ دیا جاتا ہے اورجب عدالت میں مقدمہ چلتا ہے تو صفائی کے وکلاء اس سقم کی بنیاد پر پورا مقدمہ الٹ دیتے ہیں۔

بعض اوقات سرکاری وکیل کی نااہلی یا کسی دباؤکی بناء پر ٹرائل کورٹ میں ان نکات پر توجہ نہیں دی جاتی جس سے مقدمہ کمزور ہوتا ہے۔ پھر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج صاحبان ان کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں مگر اس مقدمے کا چالان کرنے والے افسر اور سرکاری وکیل اور ٹرائل کورٹ کے جج سے انتظامی بنیادوں پر یہ وضاحت طلب کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ انھوں نے ابتدائی سطح پر ان خامیوں پر توجہ نہیں دی۔ عدالتی نظام اپنی طوالت، وکلاء کے داؤ پیچ اور ہر سطح پر رشوت یا سفارش کی بناء پر حقیقی ملزمان قتل جیسے سنگین مقدمات میں بری ہوجاتے ہیں اورغریب مظلوم افراد رشوت اور سفارش نہ ہونے کی بناء پر سزا پاتے ہیں۔ اس معاملے پر اعلیٰ ترین ادارے سے جیل سپریٹنڈنٹ تک کہیں غلطی ہوئی ہے ۔

ملزمان کے وکیل اس معاملے پر سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چھ اکتوبر کوسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انھوں نے دو خط تحریرکیے تھے ایک خط ان ملزمان کے نام تھا جس میں انھیں رہائی کی خوشخبری سنائی گئی تھی دوسرے خط میں ملزمان کے لواحقین کو ان کی رہائی کی خوشخبری دی گئی تھی مگر دونوں ملزمان ناکردہ گناہ کی سزا بناء پر دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور لواحقین ماتم کر رہے تھے۔

2007ء میں جب چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک چلی تو عوام کی اکثریت نے اس تحریک کا ساتھ دیا تاکہ عدالتی نظام بہتر ہوسکے مگر جسٹس افتخار چوہدری اہم ترین عہدے پر بحالی کے بعد سیاسی مقدمات کے لیے ازخود نوٹس لینے میں لگ گئے۔ روزانہ ان کی آبزرویشن پر مشتمل بریکنگ نیوز ٹی وی چینلز کی اسکرین پر نظر آنے لگی۔ انھوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں میں جلد سے جلد مقدمات کو نمٹانے کے لیے کچھ اقدامات کیے مگر نچلی عدالتوں پرکوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انھوں نے سوئس اکاؤنٹس سے لے کر ایک اداکارہ سے شراب کی بوتل برآمد ہونے تک کے مقدمات کا ازخود نوٹس لیا مگر انصاف کے حصول کی راہ میں رکاوٹوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔

وکلاء میں ہر تیسرے دن ہڑتال کرنے کا کلچر تقویت پاگیا، مہینے میں کئی دن تک مختلف معاملات پر ہڑتالوں کا نقصان عام آدمی کو ہوا۔ یوں غریب آدمی انصاف سے محروم رہا۔ آرمی پبلک اسکول پشاور پر طالبان کے حملے کے بعد وفاقی حکومت نے سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کردی۔ دہشتگردوں کے علام عام مقدمات میں بھی سزائے موت پانے والے ملزمان کی سزاؤں پر تیزی سے عملدرآمد ہونا شروع ہوگیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم H.R.C.P جو سزائے موت کی مخالف ہے اس کا مؤقف ہے کہ انصاف کے فرسودہ نظام کی بناء پر ایسے بے گناہ افراد جن کا تعلق نچلے طبقے سے ہوتا ہے سزائے موت پاتے ہیں، پھر سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ غلام قادر، غلام سرور اور جمیل کے مقدمات میں ثابت ہوگیا کہ سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد باعزت بری ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے سے فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ ان بے گناہ افراد کی پھانسی کے بعد سپریم کورٹ کو پورے عدالتی نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کو سزائے موت پر عملدرآمد کے بارے میں خود حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔ غلام قادر اور غلام سرور کے سزائے موت کے ذمے دار افراد کا محاسبہ ہونا چاہیے اور انصاف کے حصول میں رکاوٹوں کا خاتمہ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

وضاحت۔ گزشتہ شایع ہونے والے آرٹیکل بلاول کی ریلی کے بارے میں تحریر کیا گیا تھا کہ 90کی دہائی میں ایم کیو ایم کے جنگجوؤں نے پیپلز پارٹی کے سیکڑوں کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا تھا یوں پیپلز پارٹی کی سرگرمیاں ان علاقوں میں معطل ہو گئیں یہ جملہ شایع ہونے سے رہ گیا ۔
Load Next Story